• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسرائیلی نسلی کشی، غزہ کے مسیحیوں کی ایسٹر کی خوشیاں ماند پڑ گئی

— تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا
— تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

دنیا بھر میں مسیحیوں کے لیے ایسٹر خوشیوں کا تہوار ہوتا ہے، مگر غزہ کی مختصر مسیحی آبادی کے لیے یہ اسرائیل کی جاری نسل کشی کے درمیان ایک اور افسردہ موقع بن چکا ہے۔

اتوار کے روز مسیحیوں نے اپنے سب سے اہم مذہبی تہوار کی رسومات ادا کیں، تاہم یہ سب کچھ بے دخلی اور شدید قلت کے ماحول میں ہوا۔

غزہ کے گرجا گھروں کے اندر دعائیں، عبادات اور خاموش اجتماعات گہری معنویت کے حامل تھے، جہاں خاندان بقا اور امن کی امید کے ساتھ ایسٹر منا رہے تھے، تاہم بنیادی اشیاء کی قلت نے اس تہوار پر گہرا سایہ ڈالا ہے۔

— تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا
— تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

اس تہوار کے موقع پر بجلی، پانی اور خوراک، حتیٰ کہ انڈے جو ایسٹر کی روایات کا حصہ ہیں، وہ بھی نایاب ہو چکے ہیں۔

کئی دہائیوں سے اسرائیل غزہ میں اشیاء کی آمد و رفت کو کنٹرول کرتا رہا ہے اور نسل کشی کے دوران یہ پابندیاں مزید سخت ہو گئی ہیں۔

واضح رہے کہ غزہ میں 1 ہزار سے بھی کم مسیحی آباد ہیں، جنگ سے پہلے بھی یہ کمیونٹی محدود تھی اور اب ان کے متعدد افراد اپنے گھروں اور گرجا گھروں پر حملوں میں جان سے جا چکے ہیں۔

غزہ کے مسیحی جو گزشتہ 2 ہزار برس سے زائد عرصے سے غزہ میں آباد ہیں، اسرائیلی نسل کشی اور پابندیوں کے باعث اس کمیونٹی کے بہت سے افراد غزہ سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔

اس سال غزہ کے واحد کیتھولک چرچ میں ایسٹر کی تقریبات میں شرکت کم رہی کیونکہ بہت سے افراد علاقہ چھوڑ چکے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید