عرب میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے واحد فعال جوہری بجلی گھر بوشہر پر حالیہ حملوں نے پورے خلیجی خطے میں بڑے جوہری حادثے کے خدشات کو بڑھا دیا۔
’الجزیرہ‘ کی ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران اس تنصیب کو اب تک 4 مرتبہ نشانہ بنایا جا چکا ہے جس سے علاقائی سلامتی اور ماحولیات پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بوشہر میں واقع یہ جوہری بجلی گھر مشرقِ وسطیٰ کا پہلا نیوکلیئر پاور پلانٹ ہے، جس پر کام 1975ء میں شروع ہوا جبکہ اسے 2011ء میں روسی تعاون سے مکمل کیا گیا۔
پلانٹ کا یونٹ 1 تقریباً 1000 میگا واٹ بجلی قومی گرڈ کو فراہم کرتا ہے جبکہ مزید 2 ری ایکٹرز 2029ء تک فعال ہونے کی توقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر ری ایکٹر یا استعمال شدہ ایندھن کے ذخائر کو نقصان پہنچا تو خطرناک تابکار مادہ ’سیسیم 137‘ (Caesium-137) فضا میں خارج ہو سکتا ہے۔
یہ ذرات ہوا اور پانی کے ذریعے دور دراز ممالک تک پھیل سکتے ہیں جس سے زمین اور خوراک آلودہ ہو سکتی ہے، پینے کا پانی ناقابلِ استعمال ہو سکتا ہے اور کینسر سمیت طویل مدتی صحت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ پلانٹ پر براہِ راست حملہ ’علاقائی تباہی‘ کا سبب بن سکتا ہے۔
اگر بجلی کی سپلائی لائنیں متاثر ہوئیں تو کولنگ سسٹم بند ہونے سے ری ایکٹر پگھل سکتا ہے جس کے نتیجے میں سیکڑوں کلومیٹر تک آبادیوں کے لیے فوری انخلاء مجبوری بن جائے گا۔
خلیجی ممالک اپنی زیادہ تر پینے کے پانی کی ضروریات سمندری پانی کو صاف کر کے پوری کرتے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق تابکاری سمندر میں شامل ہونے پر ڈی سیلینیشن پلانٹس کام نہیں کر سکیں گے، خلیج کی کم گہرائی آلودگی کو طویل عرصے تک برقرار رکھ سکتی ہے جبکہ سمندری حیات اور خوراک کا نظام شدید متاثر ہو گا۔
قطر کے وزیرِ اعظم کے مطابق ایک ممکنہ حملے کی صورت میں ملک 3 دن میں پانی کی قلت کا شکار ہو سکتا ہے۔
بین الاقوامی قانون خصوصاً جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 56 کے تحت جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا ممنوع ہے کیونکہ اس سے بڑے پیمانے پر جانی و ماحولیاتی نقصان ہو سکتا ہے۔
ایسے حملے جنگی جرم تصور کیے جا سکتے ہیں۔
’الجزیرہ‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بوشہر پر کسی بڑے حملے کی صورت میں اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خلیجی خطہ ماحولیاتی، انسانی اور آبی بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔