مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی جانب سے امریکی تنصیبات پر حملوں کے بعد خطے میں ایک نیا فضائی بحران پیدا ہو گیا ہے جس کے باعث متعدد بین الاقوامی ایئر لائنز نے متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود استعمال کرنا ترک کر دی ہے۔
ایئر لائن ذرائع کے مطابق سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کئی ملکوں کی پروازیں اب متبادل اور طویل فضائی راستے اختیار کر رہی ہیں۔
پاکستانی پروازیں بھی امارات کی فضائی حدود سے گریز کرتے ہوئے سعودی عرب کی مغربی اور جنوبی فضائی حدود استعمال کر رہی ہیں جہاں سے طیارے عمان میں داخل ہو کر مسقط کے راستے اپنے روایتی روٹس پر واپس آتے ہیں۔
امارات سے روانہ ہونے والی پروازیں بھی یہی متبادل راستہ اختیار کر رہی ہیں۔
نئے روٹس کے باعث پروازوں کے دورانیے میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، دمام سے اسلام آباد جانے والی پرواز کا وقت 1 گھنٹہ 40 منٹ بڑھ گیا ہے جبکہ دمام سے ملتان اور لاہور کی پروازوں کو معمول سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ زیادہ لگ رہا ہے۔
دبئی، ابوظبی اور شارجہ سے پاکستان آنے والی پروازوں کے دورانیے میں اوسطاً 15 منٹ اضافہ ہوا ہے جبکہ جدہ اور ریاض سے آنے والی پروازیں 25 منٹ اضافی وقت لے رہی ہیں، مدینہ سے اسلام آباد کی پرواز کا سفر بھی 35 منٹ طویل ہو گیا ہے۔
ایئر لائن ذرائع کا کہنا ہے کہ پروازوں کے دورانیے میں اضافے کے باعث ایندھن اور آپریشنل اخراجات بڑھ گئے ہیں جس سے سفری لاگت میں لاکھوں روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔