• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وار روم سے مجتبیٰ خامنہ ای کی پہلی ویڈیو جاری، وائرل ویڈیو کی حقیقت کیا ہے؟

— اسکرین گریب
— اسکرین گریب

جنگ کے دوران ایران نے پہلی بار رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی ویڈیو جاری کر دی۔

اس ویڈیو میں انہیں ایک جدید فوجی آپریشن روم میں داخل ہوتے دکھایا گیا ہے، تاہم سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو کے حقائق کی جانچ سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ویڈیو مستند نہیں بلکہ مصنوعی طور پر تیار کی گئی ہے۔

ویڈیو میں کیا دکھایا گیا؟

سوشل میڈیا پر وائرل کلپ میں مجتبیٰ خامنہ ای کو ایک ہائی ٹیک کمانڈ سینٹر میں داخل ہوتے دکھایا گیا ہے جہاں اسرائیل کے ڈیمونا نیوکلیئر ری ایکٹر کی بڑی تصویر اور اس کے کوآرڈینیٹس بھی نمایاں طور پر نظر آ رہے ہیں۔

ویڈیو کی حقیقت

فیکٹ چیک کے مطابق یہ ویڈیو غیر مصدقہ ہے اور اس کی کوئی سرکاری تصدیق موجود نہیں۔

گروک کی جانب سے کیے گئے تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار یا ایڈٹ کی گئی ہے اور اس کی صداقت کی تصدیق کے لیے کوئی قابلِ اعتماد ذریعہ موجود نہیں۔

یہ ویڈیو سب سے پہلے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر GBX_Press نامی اکاؤنٹ نے شیئر کی۔

اسے بریکنگ نیوز قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ ایران نے پہلی بار سپریم کمانڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی فوجی آپریشن روم میں آمد کی ویڈیو جاری کی ہے، تاہم ایرانی سرکاری میڈیا اداروں، جیسے اسلامی جمہوریہ نیوز ایجنسی (IRNA)، اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ (IRIB)، یا تسنیم نیوز ایجنسی میں اس ویڈیو کے حوالے سے کوئی خبر نشر نہیں کی گئی۔

اسی طرح بین الاقوامی خبر رساں ادارے بشمول رائٹرز، بی بی سی اور سی این این نے بھی اس نوعیت کی کسی ویڈیو کی تصدیق نہیں کی۔

اوپن سورس انٹیلی جنس تجزیے کے مطابق 2026ء کے اوائل میں اپنے والد آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی شہادت اور ان کی ذمے داریاں سنبھالنے کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کی کوئی تصدیق شدہ عوامی موجودگی سامنے نہیں آئی اور ان کی جانب سے صرف تحریری بیانات جاری کیے گئے ہیں۔

یہ ویڈیو ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ کے باعث خطے میں تناؤ بڑھا ہوا ہے۔

ویڈیو میں اسرائیل کے ڈیمونا نیوکلیئر ری ایکٹر کی تصاویر اور کوآرڈینیٹس کا شامل ہونا بھی ممکنہ عسکری کشیدگی سے متعلق قیاس آرائیوں کو ہوا دیتا ہے۔

مصنوعی مواد کے شواہد:

فریم بہ فریم جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ویڈیو کے کچھ حصے علی خامنہ ای کی پرانی ویڈیوز سے ملتے جلتے ہیں، جن پر ڈیجیٹل اثرات ڈال کر نیا منظر پیش کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ویڈیو میں دھندلے چہرے، غیر فطری روشنی اور اچانک بصری تبدیلیاں (گلیچز) بھی موجود ہیں، جو عام طور پر اے آئی سے تیار کردہ یا بھاری ایڈیٹنگ والی ویڈیوز میں پائی جاتی ہیں۔

ڈی ڈبلیو اور میمری MEMRI جیسے فیکٹ چیکنگ ادارے اس سے قبل بھی اس نوعیت کی پروپیگنڈا ویڈیوز کی نشاندہی کر چکے ہیں، جن میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کر کے ناظرین کو گمراہ کیا جاتا ہے۔

نتیجہ:

وائرل ویڈیو مستند نہیں اور اس کی کسی سرکاری یا معتبر ذریعے سے تصدیق نہیں ہوئی، دستیاب شواہد کے مطابق یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار یا ایڈٹ کی گئی ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید