وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت نیشنل ٹیرف کمیشن کی معیاری اور فعال کارکردگی کے لیے اصلاحاتی اقدامات کا جائزہ اجلاس ہوا، جس میں کمیشن کی تنظیمِ نو اور سرمایہ کاری و صنعت میں اضافے کے لیے اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیرِ کامرس جام کمال خان، وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیرِ موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیرِ اقتصادی امور احد چیمہ اور معاونِ خصوصی ہارون اختر خان نے بھی شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ نیشنل ٹیرف کمیشن کی قانونی اور انتظامی پیچیدگیوں کو جامع حکمتِ عملی کے تحت حل کیا جائے اور کمیشن کی سرگرمیوں کو ڈیجیٹلائز کر کے شفافیت اور معیار کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ کمیشن سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کی سہولت کے لیے خصوصی اقدامات کرے، ادارے کی کارکردگی کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے لیے دنیا میں رائج بہترین اطوار کا جائزہ لیا جائے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ آئی ٹی، اے آئی اور دیگر جدید طریقوں کے استعمال سے کمیشن میں جدت لائی جائے، اپیلٹ ٹریبونل میں قانونی پیچیدگیوں کو آسان بنا کر کارکردگی مزید بہتر کی جائے۔
انہوں نے افرادی قوت کی بین الاقوامی معیار کے مطابق تربیت، کیسز کی بر وقت نمٹائی اور ماہرین کی خدمات سے رہنمائی حاصل کرنے پر بھی زور دیا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ کمیشن میں کیسز کی تاخیر کسی صورت قابلِ برداشت نہیں، ایک ایسا نظام وضع کیا جائے جس میں تمام کیسز معینہ وقت میں نمٹائے جائیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ نیشنل ٹیرف کمیشن میں ادارہ جاتی، قانونی اور انتظامی تنظیمِ نو کا عمل جاری ہے تاکہ کمیشن کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔