معروف امریکی جریدے نے ایران جنگ کے باعث عالمی مالیاتی توازن کو درپیش خطرات بتا دیے۔
امریکی جریدے کے مطابق ایران جنگ سے پیٹرو ڈالر نظام بحران کا شکار ہے، اس نظام کے دونوں پہیے رک گئے ہیں اور عالمی مالیاتی توازن خطرے میں پڑ گیا ہے۔
جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 1974ء کے معاہدے کے تحت تیل کے بدلے ڈالر واپس امریکی معیشت میں آتے تھے، جس سے ڈالر مضبوط رہا، مگر اب یہ دائرہ ٹوٹ گیا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بڑے بڑے مرکزی بینک مسلسل امریکی ٹریژری بانڈز فروخت کر رہے ہیں، جس سے ہولڈنگز 82 ارب ڈالر کم ہو گئیں اور منافع 3 اعشاریہ 9 سے بڑھ کر 4 اعشاریہ 4 فیصد ہو گیا۔
امریکی جریدے کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ تیل مہنگا اور کرنسیاں کمزور ہونے کے باعث ترکی، بھارت اور دیگر ممالک ڈالر حاصل کرنے کے لیے امریکی بانڈز بیچ رہے ہیں۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز کی بندش سے خلیجی ممالک کی تیل برآمدات اور آمدن متاثر ہوئی ہے، وہ ڈالر میں سرمایہ کاری نہیں کر پا رہے۔