عام صفائی کرنے والی مصنوعات سے نکلنے والے ذرات کو سانس کے ذریعے اندر لینا پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق یہ نقصان ان پروڈکٹس کو غلطی سے پی لینے سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔
ایک کیمیائی مرکب جو جراثیم کش اسپرے میں پایا جاتا ہے، جن میں لائیزول اور کلوروکس شامل ہیں، کا تعلق پھیپھڑوں کی مختلف مہلک بیماریوں سے پایا گیا۔
اس مرکب کو کوارٹرنری امونیم (کیو اے سی) کہا جاتا ہے، جو 1940 کی دہائی سے صفائی کی مصنوعات میں استعمال ہو رہا ہے اور یہ بات کافی عرصے سے معلوم ہے کہ اگر اسے غلطی سے نگل لیا جائے تو یہ زہریلا ثابت ہو سکتا ہے۔
اب اس حوالے سے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جب اس مادے کو سانس کے ذریعے اندر لیا جائے تو یہ پھیپھڑوں کے لیے کہیں زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ امریکا کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، ڈیوس کے سائنسدانوں نے ان چوہوں کے خون کا جائزہ لیا جنہیں ایسے فضائی ذرات کے برابر مقدار میں ایکسپوز کیا گیا تھا جو انسان گھر میں جراثیم کش اسپرے استعمال کرتے وقت سانس کے ذریعے اندر لیتے ہیں۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ جب یہ مادہ سانس کی نالی میں داخل ہوتا ہے تو یہ پھیپھڑوں کو اس سے بھی کہیں زیادہ نقصان پہنچاتا ہے جب اسے منہ کے ذریعے پیا جائے۔
اس تحقیقی ٹیم کے مرکزی مصنف اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ڈیوس ویل اسکول آف ویٹرنری میڈیسن سے وابستہ ڈاکٹر جینو کورٹوپسی نے کہا کہ تحقیق کا حیران کن نتیجہ یہ تھا کہ جب ان مرکبات کو سانس کے ذریعے لیا گیا تو انہوں نے منہ کے ذریعے پینے کے مقابلے میں 100 گنا زیادہ پھیپھڑوں کو نقصان پہنچایا اور یہ 100 گنا زیادہ مہلک ثابت ہوا۔
انکا مزید کہنا تھا کہ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم واقعی ماحول میں کیو اے سی پر مبنی جراثیم کش اسپرے کی اتنی زیادہ مقدار چاہتے ہیں، جبکہ یہ چوہوں میں ان کے پھیپھڑوں کے لیے تباہ کن زہریلا ثابت ہو چکا ہے۔ ماضی کی تحقیق میں ٹیم نے یہ چونکا دینے والا انکشاف کیا کہ ہر دس میں سے آٹھ افراد کے خون میں کیو اے سی کے کچھ نہ کچھ اثرات پائے جاتے ہیں۔
یہ مادہ اس بات پر اثر انداز ہوتا ہے کہ جسم کے خلیے کس طرح توانائی پیدا کرتے ہیں۔ 2021 کی ایک تحقیق میں یہ معلوم ہوا تھا کہ جن شرکاء کے خون میں کیو اے سی کی مقدار زیادہ تھی، ان کے مائٹوکونڈریا (خلیے کا وہ حصہ جو توانائی پیدا کرتا ہے) میں توانائی کی سطح سب سے کم تھی۔
مائٹوکونڈریا میں کم توانائی کی پیداوار کا تعلق دائمی تھکن، پٹھوں کی کمزوری اور دماغی دھند (برین فوگ) سے جوڑا گیا ہے۔ کیو اے سی کے اثرات جلد اور آنکھوں میں جلن، سوزش، میٹابولک نظام میں خرابی اور پھیپھڑوں کی بیماریوں مثلاً دمہ اور دائمی رکاوٹی پلمونری بیماری (سی او پی ڈی) سے بھی منسلک کیے گئے ہیں۔