ماہرینِ غذائیت کا کہنا ہے کہ پیٹ کی چربی کم کرنے کے حوالے سے تخم بالنگا زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔
غذائی ماہرین کے مطابق گوند کتیرا پانی میں بھگونے کے بعد جیل نما شکل اختیار کر لیتا ہے اور جسم کو ٹھنڈک، ہائیڈریشن اور ہاضمہ بہتر بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے تاہم اس کا پیٹ کی چربی کم کرنے سے براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہوا ہے۔
گوند کتیرا رات بھر بھگو کر دودھ یا شربت میں استعمال کیا جا سکتا ہے تاہم اس کا بنیادی فائدہ جسم کو ٹھنڈا رکھنا اور پانی کی کمی سے بچانا ہے، وزن کم یا بڑھانے سے گوند کتیرا کا کوئی تعلق نہیں۔
دوسری جانب تخم بالنگا فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں جو معدے کو دیر تک بھرا رکھتے ہیں، بھوک کم کرتے ہیں اور مجموعی کیلوریز کی مقدار گھٹانے میں مدد دیتے ہیں، یہی خصوصیات وزن اور پیٹ کی چربی کم کرنے میں معاون سمجھی جاتی ہیں۔
تحقیقی جائزوں کے مطابق تخم بالنگا بھوک پر قابو پانے اور خون میں شکر کی سطح کو متوازن رکھنے کے لیے مددگار ہیں جبکہ گوند کتیرا جسمانی درجۂ حرارت اور گرمی سے پیدا ہونے والی تھکن کم کرنے میں زیادہ مفید ہے۔
ماہرِ غذائیت کے مطابق وزن میں کمی کے خواہش مند افراد تخم بالنگا کو پانی میں بھگو کر لیموں پانی یا لسی میں شامل کر کے کھانے سے پہلے استعمال کر سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تخم بلنگا کا زیادہ استعمال اپھارہ پیدا کر سکتا ہے جبکہ ذیابیطس کے مریض اپنی مقدار کے بارے میں احتیاط کریں، اس کے استعمال سے الرجی کے خدشات بھی موجود ہیں، اس لیے استعمال سے قبل مشورہ، مقدار کا تعین اور احتیاط ضروری ہے۔
غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹ کی چربی کم کرنے کے لیے متوازن غذا، کیلوریز میں کمی اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی بنیادی عوامل ہیں جبکہ تخم بالنگا جیسے قدرتی اجزاء صرف معاون کردار ادا کر سکتے ہیں۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔