گزشتہ دو ہفتوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں اور الٹی میٹمز نے عالمی میڈیا سمیت سوشل میڈیا پر نمایاں جگہ حاصل کر رکھی ہے۔
7 اپریل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف سخت ترین دھمکی دنیا کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
گزشتہ دو ہفتوں میں صدر ٹرمپ کی دھمکیوں اور الٹی میٹمز کی رفتار نے کشیدگی کو بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
21 مارچ کو امریکی صدر نے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا، ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے یا امریکی حملے برداشت کرنے کی دھمکی دی۔
23 مارچ کو ڈونلڈ ٹرمپ نے مہلت میں 5 دن کی توسیع کر تے ہوئے ممکنہ مذاکرات کا اشارہ بھی دیا، 26 مارچ کو امریکی صدر نے 10 روز کی نئی ڈیڈ لائن دے دی جو 6 اپریل کو ختم ہونا تھی۔
4 اپریل کو امریکی صدر نے دوبارہ 48 گھنٹوں کی وارننگ دی اور ایران پر معاہدہ کرنے کے لیے دباؤ بھی ڈالا، 5 اپریل کو ٹرمپ نے ڈیڈ لائن کو 7 اپریل تک بڑھا دیا، ساتھ ہی ایران کے پاور پلانٹس اور پل تباہ کرنے کی دھمکی بھی دے ڈالی۔
6 اپریل کو ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ آخری مہلت ہے اور ایران کو ’ایک رات میں ختم‘ کیا جا سکتا ہے، 7 اپریل کو امریکی صدر نے کہا آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو سکتی ہے، دنیا اس انتباہ پر کان دھر کر سن رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی رہنماؤں کی توجہ ایران اور امریکہ کی جانب مرکوز ہے۔