• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امارات کی اوپیک سے علیحدگی کی بڑی وجہ جاپان کو بڑے پیمانے پر تیل فراہمی؟

متحدہ عرب امارات نے اوپیک سے علیحدگی کا اہم فیصلہ صرف سیاسی نہیں بلکہ معاشی اور تزویراتی بنیادوں پر کیا ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ جاپان کو بڑے پیمانے پر تیل کی فراہمی بتائی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق جاپان، متحدہ عرب امارات کے خام تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور اسے یومیہ تقریباً 50 لاکھ بیرل تیل کی ضرورت رہتی ہے۔ ماضی میں اوپیک کی جانب سے متحدہ عرب امارات پر یہ پابندی عائد تھی کہ وہ 30 لاکھ بیرل یومیہ سے زیادہ تیل پیدا نہیں کر سکتا، حالانکہ یو اے ای کی اصل پیداواری صلاحیت 40 لاکھ بیرل یومیہ سے بھی زیادہ تھی۔

اوپیک کے پیداواری کوٹے کی وجہ سے متحدہ عرب امارات اپنی مکمل صلاحیت استعمال نہیں کر پا رہا تھا، جس سے نہ صرف اس کی برآمدات متاثر ہو رہی تھیں بلکہ عالمی منڈی میں اس کے معاشی مفادات بھی محدود ہو رہے تھے۔

یکم مئی سے اوپیک کی اس پابندی کے خاتمے کے بعد یو اے ای اب اپنی پیداوار میں نمایاں اضافہ کر سکے گا۔ ابوظبی نیشنل آئل کمپنی پہلے ہی 2027 تک یومیہ 50 لاکھ بیرل پیداوار کا ہدف مقرر کر چکی ہے، جس سے جاپان کی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات پوری کرنا آسان ہو جائے گا۔

جاپان پہلے ہی اپنی ریفائنریز کو یو اے ای کے خام تیل کے مطابق ڈھال چکا ہے، اس لیے اضافی سپلائی فوری طور پر استعمال میں لائی جا سکے گی۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت جاپان کی توانائی سلامتی کے لیے گزشتہ کئی دہائیوں کی سب سے بڑی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے لیے بھی یہ فیصلہ مالی طور پر نہایت اہم ہے، کیونکہ اوپیک کی سخت شرائط سے باہر آ کر وہ زیادہ سے زیادہ تیل فروخت کر کے اپنی آمدنی اور زرمبادلہ میں نمایاں اضافہ کر سکے گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ خبر اوپیک کی کمزوری دکھائی دیتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ یو اے ای کی معاشی خودمختاری اور جاپان کی توانائی حکمت عملی کی ایک بڑی کامیابی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید