” گنجی کیا نہائے گی، کیا نچوڑے گی!“ بس یہ ہے ہمارا حال۔ سرکار پٹرول کی قیمتیں بڑھائے تو مسئلہ، نہ بڑھائے تو مسئلہ۔ سبسڈی دے تو مصیبت، نہ دے تو بھی مصیبت۔ کفایت شعاری کی مہم چلائے تو تنقید، نہ کرے تو بھی تنقید۔ امریکہ کی جنگ ایران سے ہو رہی ہے لیکن کمر ہماری ٹوٹ گئی ہے، گاؤں کے اُس مِسکین کی طرح جسکے گھر گندم کے دانے چوہدری کی حویلی سے آتے ہیں۔ اور چوہدری نے غصے میں فصل کو ہی آگ لگا دی ہے اور ہم سر پکڑ کر بیٹھے ہیں کہ کھائیں گے کہاں سے۔ ہم نے اپنی معیشت کا حساب ایسے لگایا ہوا تھا کہ اگر تیل کی قیمت ساٹھ ڈالر فی بیرل کے آس پاس رہے تو کھینچ تان کے ہمارا گزارا ہو جائیگا۔ مجھے اعداد و شمار لکھنے سے کوفت ہوتی ہے سو موٹی بات کرتے ہیں، اور موٹی بات یہ ہے کہ ہم ملک میں تیل پیدا نہیں کرتے صرف بچے پیدا کرتے ہیں۔ تیل ہمیں باہر سے منگوانا پڑتا ہے جس کیلئے ڈالر درکار ہوتے ہیں اور ڈالر ہمارے پاس نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جنگ شروع ہوئی تو تیل کی قیمتوں کو آگ گئی۔ پاکستان کو بھی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا مگر پھر جتنے منہ تھے اُس سے زیادہ باتیں ہوئیں۔ ان باتوں کی وجہ سے حکومت اب تک129 روپے کاجھٹکا برداشت کر چکی ہے، اور جب حکومت کی بس ہو گئی تو مزید قیمتیں بڑھانی پڑیں۔ لیکن کیا حکومت کے پاس کوئی اور راستہ تھا؟
کچھ لوگوں نے اسکول میں اکائی کا کلیہ پڑھا ہوا ہے، سو انہوں نے وہی کلیہ پٹرول کی قیمتوں پر بھی لگا دیا کہ اگر عالمی منڈی میں تیل ساٹھ سے سو ڈالر بیرل کا ہو جائے تو اکائی کا فارمولا لگانے کے بعد یہاں زیادہ سے زیادہ پچاس روپے بڑھنا چاہیے تھا، بس۔ بے شک اِن لوگوں نے میٹرک میں ریاضی رکھی ہوئی تھی مگر یہ شاید پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) سے واقف نہیں، یہ وہ ٹیکس ہے جو حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر وصول کرتی ہے، یہ آئل کمپنیوں کا منافع نہیں ہے، آئی ایم ایف معاہدے کے تحت، پاکستان کو PDL سے حاصل شدہ آمدن کا ہدف پورا کرنا ہوتا ہے، اسی لیے پٹرول پر PDL 160 روپے کر دیا مگر ڈیزل پر نہیں لگایا تاکہ معیشت کو تباہ ہونے سے بچایا جا سکے، ڈیزل سے کاروبار چلتا ہے، یہ زراعت (ٹریکٹر، ٹیوب ویل)، مال برداری (خوراک اور اشیاء لے جانے والے ٹرک)، اور ریلوے میں استعمال ہوتا ہے۔ اگر ڈیزل پر لیوی رکھی جاتی تو قیمت 575 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر جاتی اور اُس کے بعد کیا ہوتا، یہ وہ ریاضی دان نہیں بتاتے جنہوں نے اکائی کا قاعدہ پڑھ رکھا ہے۔
حکومت کے پاس تین راستے تھے۔ سب سے سادہ یہ تھا کہ فوراً تیل کی قیمتوں میں اضافے کو عوام پر منتقل کر دیا جاتا، اِس سےیکدم مہنگائی آسمان کو چھو لیتی اور شدید ردعمل آتا۔ دوسرا راستہ تھا کہ قیمتوں میں اضافہ نہ کیا جاتا، اِس سے چند ہفتوں کیلئے تالیاں بجتیں لیکن اُس کے بعد تیل کی اگلی کھیپ خریدنے کیلئے ٹکا نہ بچتا، ہمارا دِوالہ نکل جاتا اور ایندھن کی کمی سے رہی سہی معیشت ٹھپ ہو جاتی۔ حکومت نے تیسرا راستہ چنا کہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ بھی کیا، غریب لوگوں کو سبسڈی دینے کا طریقہ بھی نکالا اور تین ہفتے تک 129ارب روپے کے جھٹکے بھی برداشت کیے۔ یہ اور بات ہے کہ اِس کی کسر کہیں اور نکلے گی کیونکہ غریب ملک غریب لوگوں کی طرح ہوتے ہیں، پیروں پر چادر ڈالیں تو منہ نہیں ڈھانپ سکتے اور منہ پر چادر لیں تو پیر ننگے ہو جاتے ہیں۔ چند سیانوں کے نزدیک ایک راستہ یہ بھی تھا کہ کچھ عرصے کیلئے ملک میں نالیاں اور سڑکیں بنانیوالے منصوبوں کو بریک لگائی جاتی اور اُن پر خرچ کی جانے والی رقم کو غریب عوام کی جانب سبسڈی کی مد میں موڑ دیا جاتا۔ اِس وقت وفاق اور صوبوں کا ڈیولپمنٹ بجٹ تقریباً چار کھرب ہے، اِس کا پچیس فیصد ایک ہزار ارب بنتا ہے، یہ پیسے سبسڈی میں دیے جا سکتے ہیں مگر صرف اُس وقت تک جب تک تیل کا بحران ہے، کیونکہ اگر زیادہ دیر تک معیشت کا گلا گھونٹ کر رکھا جائے تو وہ بھی کوئی اچھی بات نہیں اور یہ لطیف نکتہ ہمیں جان مینارڈ کینز جیسے معیشت دانوں نے سمجھایا ہے۔
اعدادوشمار کے اِس پورے گورکھ دھندے میں سابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے ایک اہم تکنیکی اعتراض اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (جیسے پی ایس او) نے جنگ سے پہلے تیل کم قیمت پر خرید لیا تھا، لہٰذا جب حکومت نے قیمتیں بڑھا دیں تو کمپنیوں نے سستا پرانا اسٹاک نئی مہنگی قیمت پرفروخت کیا اور سو ارب روپوں کا غیر متوقع منافع کمایا۔ چونکہ لفظ ’ارب‘ ہمیں بہت بھاتا ہے چاہے الف سے ہو یا عین سے تو مفتاح صاحب کو اربوں کے استعمال سے کافی داد ملی۔ اُن کا مشورہ یہ تھا کہ حکومت کو اُس وقت قیمتیں بڑھانی چاہئے تھیں جب تیل کی نئی مہنگی کھیپ بازار میں آ جاتی، تب تک PDL میں اضافہ کرکے حکومت یہ روپے خود رکھ لیتی جو کہ اب آئل کمپنیوں کی جیبوں میں چلے گئے ہیں۔ بات اتنی بھی سادہ نہیں۔ آئل کمپنیاں جنگ کے دوران ’پہلے آئیے پہلے پائیے‘ (FIFO) کی بنیاد پر کام نہیں کر سکتیں، اگلی مہنگی کھیپ خریدنےکیلئے انہیں آج نقد رقم چاہیے، مگر اِس کے ساتھ یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ آئل کمپنیوں نے جنگ سے پہلے کی ایل سیز کھول رکھی تھیں اور انہیں پرانے نرخوں پر تیل دستیاب تھا سو بہرحال آئل کمپنیوں نے ’بہتے تیل میں اپنے ہاتھ دھوئے تو ہیں‘۔ جب سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے یار لوگ اُس پر ریلز اور میمز بنا رہے ہیں، مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ کاغذوں میں تیل کی کھپت میں اضافہ ہوا ہے جو کہ ناممکن سی بات ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ دال میں کہیں نہ کہیں کالا ضرور ہے، اُس کالے کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تیل کا تیل اور پانی کا پانی‘ ہو جائے۔
سو باتوں کی ایک بات، غریب آدمی کیا جانے IMF, PDL, OMC یا FIFO، وہ تو بس یہ سوچتا ہے کہ رات کا چولہا کیسے جلے گا۔ اگلے روز ایسے ہی ایک آدمی کو دیکھا جس کیلئے غریب کا لفظ بھی ’امیر‘ تھا، وہ کسی خچّر کی طرح ایک ریڑھی کے آگے جُتا ہوا تھا جس پر منوں سامان لدا تھا اور وہ سڑک پر اسے کھینچتے ہوئے چلا جا رہا تھا۔ میں نہیں جانتا کہ ایسے بے کس اور لاچار لوگوں کو کون سی سبسڈی ملتی ہے، اکنامک سروے آف پاکستان کے کون سے صفحے پر اِن کا ذکر ہوتا ہے اور فنانس ڈویژن کا کونسا سیکشن انہیں ’ڈیل‘ کرتا ہے۔ ہاں اتنا ضرور پتا ہے کہ روزِ محشر جب یہ افتادگانِ خاک اپنی خمیدہ کمر کے ساتھ خدا کے حضور پیش ہوں گے تو برزخ میں روحیں بھی کانپ اٹھیں گی۔ الڈس ہکسلے نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ شاید یہ دنیا کسی اور کائنات کی جہنم ہو۔