چیئرمین کشمیر کونسل ای یو علی رضا سید نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے حوالے سے پاکستان کا کردار قابلِ ستائش ہے۔ یہ ایک نہایت اہم اور مثبت پیش رفت ہے۔
انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے ایک مشکل اور پیچیدہ تنازع کے حل میں مؤثر کردار ادا کیا ہے، جس پر اسے سراہا جانا چاہیے۔
علی رضا سید نے کہا کہ ہمیں امید ہے اس دو ہفتوں کی جنگ بندی کے دوران تعمیری مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا کوئی مستقل اور پائیدار حل تلاش کر لیا جائے گا اور خطے میں مستقل اور پائیدار امن قائم ہوجائے گی۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے مسائل مزید پیچیدہ ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنی سفارتی کوششوں کے ذریعے عالمی برادری کو ایک بڑے بحران سے نکالنے میں مدد فراہم کی ہے۔ اس اقدام سے خطے میں امن و استحکام کو فروغ ملے گا اور مستقل جنگ بندی کی راہ ہموار ہوگی۔
اس پیش رفت کے مثبت اثرات خطے کے دیگر تنازعات، خصوصاً کشمیر کی صورتحال پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں، جہاں کے معصوم و مظلوم لوگوں کے حقوق پامال کیے جارہے ہیں۔ خاص طور پر بھارت 1947 سے کشمیریوں کا حق خودارادیت دینے سے انکاری ہے۔
علی رضا سید نے کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کے لیے مسئلہ کشمیر کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کرنے کے مواقع بڑھ گئے ہیں اور اس صورتحال سے بھرپور استفادہ کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہم عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرے اور بھارت پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم کا خاتمہ کرے اور انہیں ان کا حقِ خود ارادیت فراہم کرے۔ مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے۔