• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صد شکر کہ وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک کاوشوںسے تباہی کا خطرہ ٹل چکاہے،امریکہ اور ایران نے معقولیت کا مظاہرہ کرتےہوئے جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کردی ہے مگر اس پہلو پر غور کرنا ضروری ہے کہ براہ راست جنگ میں شریک نہ ہونے کے باوجود پورے خطے کی معیشت پر اسکے کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔اگرچہ دیگر ممالک کی نسبت پاکستان حالیہ کشیدگی سے بری طرح متاثر نہیں ہوا مگر پیٹرول مہنگا ہونے سے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا۔یکم مارچ کو پیٹرول کی فی لیٹرقیمت 8جبکہ ڈیزل کی5روپے فی لیٹر بڑھ گئی۔7مارچ کو پیٹرول اور ڈیزل کے نرخوں میں فی لیٹر55روپے اضافے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسکے بعد حکومت سبسڈی دیتی رہی اورعوام پر مزید بوجھ نہیں ڈالا گیا۔حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اس دوران سبسڈی کی مد میں 129ارب روپے خرچ کئے گئے۔مگر چند روز قبل پیٹرول کی قیمت میں یکمشت 137 روپے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا، جس سے قیمت 458 روپے فی لیٹرہوگئی۔ حکومتی موقف تھا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کے باعث یہ اضافہ پاکستانی صارفین کو منتقل کرنا ناگزیر ہوگیا تھا۔ تاہم 24 گھنٹوں کے اندر حکومت نے ان قیمتوں پر نظرثانی کرتے ہوئے اس اضافے میں 80 روپے کی کمی کر دی، جسکے بعد قیمت 378 روپے فی لیٹر مقرر ہوئی۔ وزیراعظم نے یہ اعلان خودپی ٹی وی پر قوم سے خطاب کے دوران کیا اور یہ بھی واضح کیا کہ قیمتوں میںیہ کمی ایک ماہ کیلئے عوام کو ریلیف دینے کی غرض سےہے۔یعنی عالمی سطح پر حالات بہتر نہ ہوئے تو ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ ناگزیر ہوگا۔جب پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھتی ہے تو ملک میں مہنگائی کا طوفان آجاتا ہے۔ تمام ضروریات زندگی کی قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ عوامی جذبات و احساسات کی عکاسی کرتے ہوئے صحافی بھی اس اضافے کو ظالمانہ قرار دیتے ہیں مگر اس معاملے سے جڑے چند تلخ حقائق کو جاننا ضروری ہے۔پاکستان میں مقامی ریفائنریاں پیٹرول (گیسولین) کی طلب کا تقریباً 30 فیصد پورا کرتی ہیں جبکہ لگ بھگ 70 فیصد تیار شدہ پیٹرول درآمد کیا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان اپنی تیل کی کل ضروریات کاتقریباً 80 فیصد درآمد کرتا ہے۔اس میں خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات دونوں شامل ہیں۔ یہ انحصار کوئی معمولی کمزوری نہیں بلکہ پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کا ایک بڑا حصہ ان درآمدات پر خرچ ہوجاتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ ایندھن جو پاکستان میں ریفائن کیا جاتا ہے، اسکی قیمت بھی درآمدی مساوات (امپورٹ پیریٹی) کے تحت طے ہوتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں، چاہے ایک لیٹر پیٹرول مقامی طور پر تیار ہو یا بیرونِ ملک سے درآمد کیا جائے، اسکی قیمت کا انحصار بین الاقوامی مارکیٹ اور زرِ مبادلہ کی شرح پر ہوتا ہے۔ چنانچہ پاکستانی صارف دراصل وہ قیمت ادا کرتا ہے جو زیادہ تر عالمی تیل منڈی اور روپے کی ڈالر کے مقابلے میں قدر سے طے ہوتی ہے۔پاکستان روزانہ تقریباً 50 سے 75 ملین لیٹر ایندھن استعمال کرتا ہے۔بلا شبہ پیٹرول ایک بڑا جزو ہے، لیکن ڈیزل بھی اتنا ہی اہم ہے کیونکہ یہ مال برداری، زراعت اور لاجسٹکس کے اس پورے نظام کو چلاتا ہے جو معیشت کو متحرک رکھتا ہے۔جب پیٹرول کے نرخوں میں اضافہ ہوا تو بعض افراد نے کہنا شروع کردیا کہ آبنائے ہرمز سے پاکستانی آئل ٹینکرزبخیر و عافیت گزر رہے ہیں تو پھر پیٹرول مہنگا کیوں کیا جارہا ہے؟کیا کبھی ان بزعم خود ماہرین نے یہ سوال اُٹھایا ہے کہ امریکہ جو تیل کی ضروریات کے حوالے سے بڑی حد تک خودکفیل ہے،جسے آبنائے ہرمز کی بندش سے کوئی فرق نہیں پڑتا،وہاں گزشتہ ایک ماہ کے دوران گیسولین اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیوں ہوا؟اسلئےکہ دنیا گلوبل ویلج ہے،یہاں کوئی الگ جزیرہ نہیں بسایا جاسکتا۔تیل کی رسد برقرار رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ درآمدی بل میں اضافہ نہیں ہورہا۔جب حکومت سبسڈی دیتی ہے تواس کیلئے اضافی فنڈز ہی درکار نہیں ہوتے بلکہ امپورٹ بل بڑھ جانے کے باعث غیر ملکی زرمبادلہ کا بھی بندوبست کرنا پڑتا ہے۔علاوہ ازیں جب تیل کے نرخ نہیں بڑھائے جاتے تو کھپت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔مثال کے طور پر کفایت شعاری مہم کے تحت موٹر ویز اور ہائی ویز پر رفتار کی حد میں کمی،دفاتر کے اوقات کارمیں تبدیلی،سرکاری محکموں میں تیل کے استعمال میں کٹوتی اور اسکے علاوہ بہت سی تدابیر اختیار کی گئیں مگرمارچ 2026ء کے دوران پاکستان میں ڈیزل اور پیٹرول کی فروخت میں بالترتیب 13اور8فیصد اضافہ ہوگیا۔اسکی ایک اور مثال یہ ہے کہ جونہی وفاق میں وزیراعظم اور پنجاب میں وزیراعلیٰ نے عوام کو ریلیف دینے کیلئے پبلک ٹرانسپورٹ پر مفت سفر کا اعلان کیا،لوگوں کا تانتا بندھ گیا۔بیشمار لوگ صرف مفت سیر و تفریح کی نیت سے نکل پڑے۔اس سے اس متوسط طبقے کےلوگ مشکل میں آگئےجو پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کیا کرتے تھے۔خدا کرے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی کوششیں کامیاب ہوں اور عالمی منڈی میں تیل کے نرخ ایک بار پھر معمول پر آجائیں ورنہ وزیراعظم شہبازشریف نے پیٹرول کی قیمتوں میں جو کمی کی تھی،اس عنایت خسروانہ کا سلسلہ زیادہ دیر تک چلتا دکھائی نہیں دیتا۔

تازہ ترین