• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہمارےپڑوس میں برپا حالیہ جنگ نے مشرق وسطیٰ ،عالمی سیاست، معیشت ، سلامتی اور طاقت کے توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے، منگل کی نصف شب جب میں اپنے اِس کالم کو حتمی شکل دے رہا ہوں، دنیا دم سادھے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تہذیب و تمدن کو تباہ کرنے کی ڈیڈلائن ختم ہونے کے حوالے سے بے چینی کا شکار ہے، عالمی میڈیا کی جانب سے پاکستان کی میزبانی میں امریکہ ایران ثالثی کےمجوزہ سیزفائر معاہدے کو اسلام آباد اکارڈ کا نام دیا جارہا ہے،بین الاقوامی مبصرین کا مانناہےکہ فیلڈ مارشل سیدعاصم منیرکی کامیاب سفارت کاری کی بدولت اسلام آباد عالمی سفارتی اُفق میں پوری آب وتاب سے جگمگا رہا ہے۔میری مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے پہلے بھی کافی ریسرچ ہے اور جب سے ایران جنگ شروع ہوئی ہے، میں مقامی اور عالمی میڈیا پر گہری نظر رکھے ہوئے ہوں، تاہم مجھےمشرق وسطیٰ میں جاری حالیہ بدترین کشیدگی کو سمجھنے کیلئےسب سے زیادہ راہنمائی آج سے ہزاروں سال قبل پاکستان کی سرزمین ٹیکسلا میں بسنے والےمہان فلسفی کوٹلیا چانکیہ کی کتاب ارتھ شاستر سے ملی ہے ۔اسلام آباد مذاکرات کے دوران ایرانی وفد نے یہ موقف اپنایا کہ عارضی جنگ بندی کی بجائےعالمی پابندیوں کا مکمل خاتمہ، مستقل جنگ بندی اور خطے میں دیرپاامن کی ضمانت ہونی چاہیے،میری نظر میں ایران کا یہ طرزِ عمل چانکیہ کی کتاب ارتھ شاستر کے اِس آفاقی اصول سے مطابقت رکھتا ہے کہ جنگ کے دوران کمزوری دِکھانا سب سے بڑی شکست ہے، ایک ریاست کو ہر حال میں قومی خودمختاری اورریاستی وقار کا دفاع کرنا چاہیے۔موجودہ جنگی صورتحال کے دوران ایران نے ایک طرف میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے سخت عسکری ردعمل دیاہے تو دوسری طرف اسلام آباد کے توسط سے سفارتکاری کے دروازے بھی کھُلے رکھے، جوآج اکیسویں صدی میں بھی چانکیہ کی بیان کردہ بیک وقت دُہری حکمت عملی (دوائیدھی بھاو) کی عکاسی کرتا ہے۔چانکیہ جی کا ہزاروں سال قبل کہنا تھا کہ اگر دشمن طاقتور ہو تو تنہا مقابلہ کرنے کے بجائے اتحادی تلاش کرنے چاہئیں، آج جب میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ کے ہاتھوں ماضی کی شکست خوردہ سپرپاورسویت یونین کے جانشین روس اوردنیا کی دوسری بڑی اقتصادی طاقت چین کی جانب سے ایران کو سفارتی حمایت فراہم کرنے کی غرض سے قرارداد ویٹو کرتے دیکھتا ہوں تو مجھے ارتھ شاستر کا درس یاد آجاتا ہے کہ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے۔چانکیہ کی خارجہ پالیسی کا مرکزی نظریہ راج منڈل تھیوری ہے جسکے مطابق ہرطاقتور ریاست اپنےاِرد گرد اثر و رسوخ کا ایک ایسا نادیدہ دائرہ قائم کرتی ہےجسکےاندر آنے والی پڑوس کی ریاستیں اسکے سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی اثرات سے متاثر ہوتی ہیں، میری نظر میں ایرانی قیادت کی جانب سےمشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کیلئے محورِمزاحمت کی حکمت عملی کے تحت ایران حامی قوتوں پر مشتمل وسیع نیٹ ورک قائم کرنے کی کوششوں کو چانکیہ نیتی کے اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اکیلا درخت آندھی میں گِر جاتا ہے لیکن جنگل قائم و دائم رہتا ہے ۔میں سمجھتا ہوں کہ ایران کی عسکری حکمت عملی میں چانکیہ نیتی کے عسکری اصولوں میں سےیان (جنگ کی تیاری) اوروِگ راہ (جنگ کا راستہ) کی جھلک بھی نمایاں نظر آتی ہے، ایران نے بیرونی حملوں کا جواب دینے کیلئے نہ صرف پیشگی تیاریاں یقینی بنائیں بلکہ طبلِ جنگ بجنے پراسرائیل اور خطے میں امریکی اڈوں پر براہِ راست میزائل داغ کر امریکہ کے اتحادی ممالک کو خوف و ہراس میں بھی مبتلا کردیا، چانکیہ جی کے مطابق یہ صورتحال غیرمتوازن تصادم کی عکاسی کرتی ہے جس میں کمزور فریق طاقتور حملہ آور کو روائتی جنگ کی بجائے مختلف محاذوں پر اُلجھا کرتھکا دیتا ہے ، اسی طرح چانکیہ کا کہنا ہے کہ ایک ریاست کو دشمن کے خلاف براہِ راست جنگ کے ساتھ ساتھ معاشی اور جغرافیائی دباؤ کو بھی بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہیے، آج ہم دیکھتے ہیں کہ ایران کی جانب سے جنگ مسلط ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش اور توانائی کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوششوں نے عالمی معیشت کو شدیدبحران سے دوچار کر دیا ہے۔ مزید برآں، چانکیہ جی داخلی استحکام کو بیرونی دفاع کیلئے لازمی قرار دیتے ہیں، انکے مطابق اگر ریاست اندرونی طور پر کمزور ہو، سیاسی انتشار کا شکار ہو یا عوام میں بے چینی ہوتو دشمن آسانی سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، یہی وہ بنیادی نکتہ تھا جسکی بناء پر امریکہ اور اسرائیل جنگ کے ابتدائی ایام میں ایران کے سپریم لیڈر سمیت اعلیٰ قیادت کومنظر سے ہٹاکراس غلط فہمی کا شکار ہوگئے تھے کہ ایران میں عوام سڑکوں پر نکل کرخود حکومت گِرا دیں گے، تاہم ایسا کیوں نہ ہوسکا؟ اسکا جواب بھی ارتھ شاسترکی رُو سے یہی ملتا ہے کہ ایک کامیاب فاتح وہ ہوتا ہے جو حالات کا گہرائی سے تجزیہ کرے، مختلف امکانات پر غور کرے اور پھرسمجھداری سے بہترین حکمت عملی اختیار کرے، ایران جنگ کے دوسرے مہینے میں داخل ہونے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایران پر جنگ مسلط کرنے والے نہ تو گہرائی سے حالات کا تجزیہ کرسکے اور نہ ہی سمجھداری سے کوئی حکمت عملی اپنانے میں کامیاب ہوسکے ۔ کیا ایران اپنی صدیوں پرانی قدیم تہذیب کودورِ حاضر کی سپرپاور کے تباہ کن حملے سے بچاسکے گا؟ چانکیہ کے مطابق کسی بھی ریاست کی بقاء کا دارومدار اسکے حکمران کی دور اندیشی اور حالات کے مطابق فیصلے کرنے کی صلاحیت پر ہوتا ہے، اس وقت ایران کوبیرونی جارحیت کا مقابلہ صرف طاقت اور جوابی حملوں سے نہیں بلکہ دانشمندی ، سفارتکاری اور نفسیاتی حکمت عملی سے بھی کرنے کی ضرورت ہے، ایرانی لیڈر شپ کو سمجھنا چاہیے کہ حکمت، صبر، اور حالات کےتقاضوں کے عین مطابق لچک دکھاکراپنی طاقت برقرار رکھناہی اصل کامیابی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مشرقِ وسطیٰ کا بحران اب محض ایک علاقائی تنازع نہیں رہا بلکہ ایک سپر طاقت کے مقابلے میں دہائیوں سے عالمی پابندیوں کی شکارایک ریاست کی حکمت عملی، مزاحمت اور قومی وقار کے تحفظ کی جدوجہد بن چکا ہےاور اس پورے منظرنامے کو سمجھنے کیلئے چانکیہ نیتی ایک مؤثر فکری فریم ورک فراہم کرتی ہے کہ ایک کامیاب ریاست وہی ہوتی ہے جو اپنے عوام کو جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھتے ہوئے امن، استحکام اور خوشحالی کو یقینی بنائے۔

تازہ ترین