امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ جو ممالک ایران کو فوجی ہتھیار فراہم کریں گے، ان کی امریکا کو برآمد کی جانے والی تمام اشیاء پر فوری طور پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔
دوسری جانب ماہرین نے اس بیان کو قانونی بنیاد سے محروم اور محض سیاسی دباؤ قرار دیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ اعلان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی پر رضامندی کے چند گھنٹوں بعد کیا۔
اُنہوں نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ایسے ممالک کے لیے کسی قسم کی رعایت یا استثنیٰ نہیں ہو گا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ اس اقدام کے لیے کون سا قانونی اختیار استعمال کریں گے۔
امریکی سپریم کورٹ پہلے ہی فروری میں بین الاقوامی ہنگامی اقتصادی اختیارات ایکٹ کے تحت وسیع ٹیرف لگانے کے اختیار کو مسترد کر چکی ہے جس کے بعد عدالت نے تقریباً 166 ارب ڈالرز واپس کرنے کا حکم دیا تھا۔
عرب میڈیا کے مطابق ماہرِ اقتصادیات ریچل زیمبا کا کہنا ہے کہ عدالت کے فیصلے کے بعد فوری طور پر ایسا کوئی قانونی راستہ موجود نہیں جس کے ذریعے امریکا یک طرفہ طور پر اس نوعیت کے ٹیرف نافذ کر سکے، یہ نئے ٹیرف نافذ کرنے کے لیے کانگریس کی منظوری یا نیا تجارتی طریقۂ کار درکار ہو گا۔
عرب میڈیا کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ دھمکی بالخصوص چین کے لیے پیغام سمجھی جا رہی ہے کیونکہ چین اور روس پر ایران کی دفاعی صلاحیت بڑھانے میں مدد دینے کے الزامات لگتے رہے ہیں، اگرچہ دونوں ممالک حالیہ اسلحہ فراہمی کی تردید کرتے رہے ہیں۔
اٹلانٹک کونسل کے ماہر جوش لپسکی کے مطابق امکان کم ہے کہ ٹرمپ فوری طور پر نئے ٹیرف نافذ کریں گے کیونکہ ایسا اقدام ان کے آئندہ دورۂ بیجنگ اور چینی صدر شی جن پنگ سے متوقع ملاقات کو متاثر کر سکتا ہے۔
ماہرِ اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر 50 فیصد ٹیرف نافذ کیا گیا تو اس کا سب سے بڑا بوجھ امریکی درآمد کنندگان اور صارفین پر پڑے گا جس سے اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق متبادل طور پر سیکشن 301 یا سیکشن 232 کے تحت محدود نوعیت کے ٹیرف لگائے جا سکتے ہیں مگر ان کے لیے بھی طویل تحقیقات اور عوامی مشاورت کا عمل ضروری ہو گا۔
ادھر روس سے امریکی درآمدات پہلے ہی یوکرین جنگ کے بعد عائد پابندیوں کے باعث کم ہو چکی ہیں جبکہ امریکا روسی پیلیڈیم اور دیگر معدنی مصنوعات پر مزید تجارتی اقدامات پر غور کر رہا ہے۔