• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پروٹین کے استعمال میں 5 غلطیاں نقصاندہ ہوسکتی ہیں، ماہرین صحت

حیوانی پروٹین کا حد سے زیادہ استعمال، کم معیار کے پروٹین ذرائع پر انحصار اور دیگر ضروری غذائی اجزا کو نظر انداز کرنا گردوں کی کارکردگی میں تنزلی کا سبب بن سکتا ہے۔ 

پروٹین ایک نہایت اہم غذائی جزو ہے جو توانائی فراہم کرتا ہے، میٹابولزم کو بہتر بناتا ہے، چربی کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور پٹھوں کی نشوونما میں معاون ہوتا ہے۔

پروٹین کی کمی وزن بڑھانے میں رکاوٹ بن سکتی ہے اور کھیلوں کی سخت سرگرمیوں یا ورزش میں حصہ لینے سے بھی روک سکتی ہے۔ ایسی صورت میں جسم محفوظ شدہ توانائی استعمال کرتا ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہونے کے ساتھ پٹھوں کو نقصان پہنچانے کے علاوہ دل پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔

تاہم پروٹین کا غلط طریقے سے استعمال گردوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے، جس سے پانی کی کمی، گردے کی پتھری یا گردے کی دائمی بیماری کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ 

ہنوئی (ویت نام) کے تام آنہ جنرل اسپتال کے شعبہ امراض گردہ و ڈائیلاسز کے نائب سربراہ ڈاکٹر ہا توان ہنگ کے مطابق پروٹین کے استعمال میں کی جانے والی درج ذیل عام غلطیاں خاموشی سے گردوں پر بوجھ ڈال سکتی ہیں۔

1۔ حیوانی پروٹین کا زیادہ استعمال: زیادہ مقدار میں پروٹین سے بھرپور گوشت کو طویل عرصے تک استعمال کرنا گردوں کو اضافی نائٹروجن خارج کرنے پر مجبور کرتا ہے، جس کے نتیجے میں پانی کی کمی، بار بار پیشاب آنا اور گردوں میں پتھری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسی غذا جس میں حیوانی پروٹین زیادہ اور سبزیاں کم ہوں، فائبر کی کمی کی وجہ سے قبض کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

امریکن کالج آف اسپورٹس میڈیسن کے مطابق متوازن غذا اور پروٹین کا حد سے زیادہ استعمال نہ کرنا ضروری ہے۔ اس کے مطابق تجویز کردہ مقدار تقریباً 0.5 سے 0.8 گرام پروٹین فی 0.45 کلوگرام جسمانی وزن ہے۔ یعنی 68 کلوگرام وزن والے شخص کے لیے تقریباً 75 سے 120 گرام روزانہ ہے۔

2۔ کم معیار کے پروٹین ذرائع پر انحصار: کم معیار کے پروٹین ذرائع مثلاً پراسیسڈ گوشت، ڈبہ بند غذائیں اور محفوظ رکھنے والے کیمیکلز والی اشیا، سوڈیم کی مقدار میں اضافہ کرتے ہیں جو گردوں پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔ ان غذاوں میں اکثر نمک اور اضافی مادوں کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جس کی وجہ سے گردوں کو انہیں فلٹر کرنے کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔

پروسیس شدہ گوشت پروٹین سے بھرپور ہوتے ہیں لیکن ان کا استعمال مناسب طریقے سے نہ کیا جائے تو یہ گردوں کی کارکردگی میں خرابی کا باعث بن سکتے ہیں، خاص طور پر ان افراد میں جنہیں پہلے سے گردوں کی بیماری ہو یا جنہیں ڈاکٹر کی جانب سے پروٹین کے استعمال پر نظر رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہو۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن صحت مند اور کم پراسیس شدہ پروٹین کے ذرائع کو  استعمال کرنے پر زور دیتی ہے، جیسے مچھلی، سفید گوشت، میوہ جات اور دالیں۔ یہ غذائیں اعلیٰ معیار کی پروٹین فراہم کرتی ہیں اور پراسیس شدہ یا سرخ گوشت کے مقابلے میں سیر شدہ چکنائی اور سوڈیم میں کم ہوتی ہیں۔

3۔ پروٹین اور دیگر غذائی اجزاء میں عدم توازن: جسم ایک وقت میں تقریباً 20 سے 25 گرام پروٹین ہی موثر طریقے سے جذب کر سکتا ہے۔ ضرورت سے زیادہ پروٹین لینے کی صورت میں اضافی مقدار کو جسم میٹابولائز یا خارج کرتا ہے، جس سے گردوں پر اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے۔

ڈاکٹر ہنگ کے مطابق مناسب مقدار میں آسانی سے جذب ہونے والی پروٹین استعمال کرنا چاہیے، جیسے انڈے، چکن بریسٹ، سالمن مچھلی اور یونانی دہی اور ساتھ ہی پودوں سے حاصل ہونے والی پروٹین کو بھی متوازن انداز میں شامل کرنا چاہیے۔

4۔ دیگر غذائی اجزا کو نظر انداز کرنا: غیر متوازن غذا نہ صرف گردوں پر دباؤ ڈالتی ہے بلکہ جسم کے اندرونی توازن کو بھی متاثر کرتی ہے۔ ڈاکٹر ہنگ کے مطابق زیادہ مقدار میں پروٹین اور ساتھ ہی کاربوہائیڈریٹس اور چکنائی کی کمی ہو تو جسم توانائی کے لیے پروٹین کو استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں نقصان دہ مادے جیسے یوریا بنتے ہیں، جسے فلٹر کرنیکی وجہ سے گردوں کو زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔

سبزیوں اور فائبر سے بھرپور غذاؤں کی کمی ہاضمے کے مسائل جیسے قبض کا سبب بن سکتی ہے، جو آنتوں پر منفی اثر ڈالتی ہے۔ فائبر کی کمی سے ڈس لپیڈیمیا، فیٹی لیور اور ذیابیطس جیسی بیماریاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں، جو گردوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اسلیے غذا میں توازن رکھن ضروری ہے۔

5۔ پانی کی ناکافی مقدار: جب آپ زیادہ مقدار میں پروٹین استعمال کرتے ہیں تو جسم میں یوریا اور یورک ایسڈ جیسے فضلہ مادے زیادہ بنتے ہیں، جنہیں خارج کرنے کے لیے جگر اور گردوں کو زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ اگر پانی کی مقدار کم ہو تو گردے اس بوجھ کو برداشت نہیں کر پاتے، جس سے ڈی ہائیڈریشن، گردوں کی پتھری، الیکٹرولائٹ کا عدم توازن اور گردوں کی کارکردگی میں کمی ہو سکتی ہے۔

اس لیے زیادہ پروٹین والی غذا کے ساتھ کم پانی پینا خاص طور پر ان افراد میں گردوں کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ گردوں کی صحت برقرار رکھنے کے لیے روزانہ مناسب مقدار میں پانی پینا بہت ضروری ہے۔ 


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

صحت سے مزید