• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

الزائمر کے ٹیسٹ خواتین میں تشخیص میں تاخیر کا باعث بن سکتے ہیں: تحقیق میں انکشاف

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ الزائمر کی تشخیص کے لیے استعمال ہونے والا عام اسکریننگ ٹیسٹ خواتین میں بیماری کی ابتدائی علامات کو نظر انداز کر سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق الزائمر کے تقریباً دو تہائی مریض امریکا میں خواتین پر مشتمل ہیں، تاہم اس کے باوجود وہ ابتدائی مراحل میں معیاری ٹیسٹ میں بہتر کارکردگی دکھا سکتی ہیں۔

تحقیق کے مطابق خواتین منی مینٹل اسٹیٹ ایگزیمینیشن جیسے ٹیسٹ میں اچھے نمبر حاصل کر لیتی ہیں، حتیٰ کہ دماغ میں تبدیلیاں شروع ہونے کے بعد بھی۔

اس مطالعے کے دوران 332 افراد کے ایم آر آئی اسکینز کا جائزہ لیا گیا تاکہ دماغ کے گرے میٹر میں ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھا جا سکے، جو یادداشت اور سوچنے کی صلاحیت سے متعلق ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کا دماغ ابتدائی نقصان کے باوجود خود کو اس طرح ایڈجسٹ کر لیتا ہے کہ وہ مختلف حصوں کو استعمال کر کے کارکردگی برقرار رکھتی ہیں، تاہم یہی صلاحیت بیماری کو چھپا بھی دیتی ہے، جس کے باعث جب ٹیسٹ میں واضح کمی سامنے آتی ہے تو اس وقت تک نقصان کافی بڑھ چکا ہوتا ہے اور علاج میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

نتائج کے مطابق مردوں میں گرے میٹر کی کمی جلد ظاہر ہو جاتی ہے، جبکہ خواتین میں یہ کمی نسبتاً دیر سے شروع ہوتی ہے لیکن بعد میں تیزی سے پھیلتی ہے۔

ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ الزائمر کی بروقت تشخیص کے لیے صنف کے لحاظ سے مختلف معیارات پر مبنی اسکریننگ ٹیسٹ متعارف کرانے کی ضرورت ہے تاکہ بیماری کو ابتدائی مرحلے میں ہی پہچانا جا سکے۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

صحت سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید