• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’دیوار‘ فلم کا وہ مشہور زمانہ مکالمہ تو آپ کو یاد ہی ہوگا جس میں امیتابھ بچن کہتا ہے ” یہ وہی میں ہوں اور یہ وہی تم ہو، ہم دونوں ایک ساتھ اِس فٹ پاتھ سے اٹھے تھے، لیکن آج تم کہاں رہ گئے، اور میں کہاں آ گیا۔ آج میری بلڈنگیں ہیں، پراپرٹی ہے، بینک بیلنس ہے، بنگلہ ہے، گاڑی ہے، کیا ہے تمہارے پاس؟“ ششی کپور ایک جملے کا جواب دیتا ہے: ”میرے پاس ماں ہے۔“ کچھ ایسا ہی حال آج کل انڈیا پاکستان کا ہے۔ انڈیا کہہ رہا ہے: ” ہم دونوں ایک ساتھ آزاد ہوئے تھے، آج تم کہاں رہ گئے اور میں کہاں آ گیا۔ آج میرے پاس زر مبادلہ ہے، ڈالر ہیں، کرکٹ ٹیم ہے، فلم انڈسٹری ہے، کیا ہے تمہارے پاس؟“ پاکستان کا یک سطری جواب ہونا چاہیے: ” میرے پاس ٹرمپ ہے!“

سنا تھا وہم کا علاج تو حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا، لیکن یہ پرانی باتیں ہیں، اب وہم کا علاج ہو سکتا ہے لیکن حسد کا نہیں، پس ثابت ہوا کہ بھارت لا علاج ہے۔ ایک صاحب کسی طبیب کے پاس تشریف لے گئے اور بڑے کرب سے بولے: ”ڈاکٹر صاحب، مجھے ایک عجیب مرض لاحق ہو گیا ہے، جب بھی میں کسی کا فائدہ ہوتے دیکھتا ہوں، میرے پیٹ میں شدید مروڑ اٹھنے لگتے ہیں اور سینے میں جلن شروع ہو جاتی ہے۔“ ڈاکٹر نے نبض تھامی، آنکھوں کا معائنہ کیا اور ایک گہری سانس لے کر بولا: ” یہ کوئی جسمانی بیماری نہیں ہے، یہ دراصل خالص ’انڈین حسد‘ ہے، جسکے جراثیم آج کل ہندوستان میں تیزی سے پھیل رہے ہیں۔“ مریض نے پوچھا: ”ڈاکٹر صاحب، پھر اِس کا کیا علاج؟“ ڈاکٹر نے مسکرا کر جواب دیا:”علاج تو ناممکن ہے البتہ وقتی افاقے کیلئے آپ صبح شام اپنے پڑوسی کے نقصان کی دعا کیا کریں، کچھ نہ کچھ سکون مل جائے گا۔“

جب سے پاکستان نے عالمی سفارت کاری کے میدان میں اپنی دھاک بٹھائی ہے، دہلی کے ایوانوں سے لے کر بھارتی میڈیا کے اسٹوڈیوز تک، ہر جگہ ’پیٹ کے مروڑ‘ کی ایک وبا پھیلی ہوئی ہے۔ کہاں یہ طنطنے سے کہا کرتے تھے کہ پاکستان کو تو ہم نے ’رائٹ آف‘ کر دیا ہے، ہم تو اب عالمی سطح کے کھلاڑی ہیں، پاکستان کیا بیچتا ہے۔ مگر جب سے پاکستان نے ایران امریکہ جنگ بند کروائی ہے اور اسلام آباد پوری دنیا کا مرکز نگاہ بنا ہے، تب سے بھارتی انگاروں پر لوٹ رہے ہیں۔ ویسے تو انڈین اینکرز پہلے بھی مضحکہ خیز حرکتیں کرتے تھے مگر اب تو بالکل ہی باؤلے ہو چکے ہیں، اِن کی چیخیں بتا رہی ہیں کہ گھاؤ کتنا گہرا ہے۔ اگر اِن اینکرز نے کوئی سنجیدہ صحافت سیکھنی ہے تو انہیں چاہیے کہ ہمارے فہد حسین کا وہ پروگرام دیکھیں جس میں انہوں نے بھارتی اینکرز کو مخاطب کرکے سمجھایا ہے کہ صحافت کیسے کی جاتی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ ملک جو خود کو اس خطے کا تھانیدار سمجھتا تھا، آج یہ دیکھ کر سکتے میں ہے کہ دنیا کے تنازعات حل کروانےکیلئے واشنگٹن اور تہران، دونوں کی نظریں اسلام آباد پر جمی ہیں۔ حسد کا یہ عالم ہے کہ بھارتی اینکرز اپنے پروگراموں میں بیٹھ کر اب تجزیہ نہیں کرتے بلکہ بین ڈالتے ہیں۔ انہیں اس بات کا دکھ نہیں کہ خطے میں امن ہو رہا ہے، انہیں تکلیف اس بات کی ہے کہ اس امن کا سہرا پاکستان کے سر کیوں بندھ رہا ہے؟ انڈین میڈیا کی یہ چیخیں دراصل پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی کا وہ ’میوزک‘ ہے جو ہمیں بتا رہا ہے کہ ہم صحیح سمت میں جا رہے ہیں۔ اب اُن کے پاس صرف ایک ہی آپشن بچا ہے، دُھریندر پارٹ تھری بنائیں۔

ادھر پاکستان میں حال یہ ہے کہ امریکی نائب صدر کی آمد پر میمز بنائی جا رہی ہیں، چٹکلے چھوڑے جا رہے ہیں، لطیفے گھڑے جا رہے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ یہ ممکن ہے یا نہیں، لیکن کیا ہی اچھا ہو اگر جے ڈی وینس کو اندرون لاہور کی سیر کروائی جائے اور بتایا جائے کہ یہاں لوگ کھد اور بونگ پائے بھی کھاتے ہیں، انہیں مقامی بئیر یعنی لسّی پلائی جائے جسکے بعد اُن سے مذاکرات میں شرائط منوانا آسان ہو جائے گا۔ لیکن جے ڈی وینس پر بات کرنے کی بجائے ہم بھارتیوں پر واپس آتے ہیں۔ ان کا وزیر خارجہ جے شنکر اچھا خاصا سمجھدار آدمی تھا، ایک آدھ مرتبہ میں نے سوشل میڈیا پر اُس کی گفتگو سنی جس میں اُس نے مغربی ممالک کی دوغلی پالیسیوں کو نہایت عمدگی سے بے نقاب کیا مگر جب سے پاکستان نے بھارت کے آپریشن سندور کو تندور میں ڈال کر خاکستر کیا، تب سے جے شنکر بھی حواس باختہ ہو چکا ہے، اور صرف جے شنکر ہی نہیں پورا گودی میڈیا پاگل ہو چکا ہے اور رہی سہی کسر اسلام آباد مذاکرات نے پوری کر دی ہے۔ جب یہ خبر پہلی مرتبہ آئی کہ پاکستان، ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوشش کر رہا ہے تو جے شنکر نے کہا کہ پاکستان دلال کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ویسے تو اِس بیان پر خود بھارتی سیاستدانوں نے مسٹر شنکرکے خوب لتّے لیے اور ایک صاحب نے کہا کہ جب انڈیا بھاگ بھاگ کر یوکرین کی جنگ رکوانا چاہ رہا تھا تو کیا وہ دلالی نہیں تھی۔ لیکن قطع نظر اِس بات سے، بندہ جے شنکر سے پوچھے کہ اگر پاکستان دلالی کر رہا تھا تو امریکہ اور ایران میں سے تم کس کو گالی دے رہے تھے، امریکہ کو یا ایران کو؟ اور اگر ٹرمپ بھائی جان کو پتہ چل جائے کہ جے شنکر نے اسے کیا کہا تو اُس کے بعد کیا ہوگا یہ پیش گوئی دودھ پیتا بچہ بھی کر سکتا ہے۔ دراصل اِس وقت جو اسلام آباد میں ہو رہا ہے اور جس طرح پاکستان کی گُڈی چڑھی ہوئی ہے، وہ تو جے شنکر نے خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا۔ اور سچی بات یہ ہے کہ ایسا خواب تو خود کبھی پاکستان نے بھی نہیں دیکھا تھا کہ ایک دن وہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کروا کے دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچائے گا۔

بات کچھ سنجیدہ ہو گئی۔ جے ڈی وینس صاحب اگر واقعی اندرون لاہور آ نکلے، تو ان کیلئے اصل امتحان کوئی جنگی معاہدہ نہیں بلکہ لکشمی چوک کی کڑاہی ہوگی۔ سوچتا ہوں کہ جب وہ واشنگٹن واپس جا کر ٹرمپ کو بتائیں گے کہ وہاں تو لوگ میزائلوں سے زیادہ مسالوں کی فکر کرتے ہیں تو ٹرمپ کا ردعمل کیا ہوگا؟ شاید وہ اگلا ٹویٹ یہ کریں کہ ”پاکستان از اے گریٹ نیشن، دے ہیو دی بیسٹ تکہ ان دی ورلڈ!“ اب بس دعا یہ ہے کہ ثالثی کا عمل اپنے منطقی انجام کو پہنچے اور اُس کے ثمرات عام آدمی کی جیب تک بھی پہنچیں، ورنہ واشنگٹن ہو یا تہران، غریب کو تو صرف اس روٹی سے غرض ہے جو اس کے دسترخوان سے غائب ہوتی جا رہی ہے۔

تازہ ترین