گورنر ہاؤس سندھ کی بلند و بالا عمارت کے سبزہ زار، قدیم درختوں کی خاموشی اور برآمدوں میں بکھری تاریخ ہمیشہ ایک عجیب سی کیفیت پیدا کرتی ہے۔ اس عمارت میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے نگاہ اس کمرے پر ٹھہرتی ہے جہاں آج گورنر سندھ نہال ہاشمی اپنی کرسی پر موجود ہیں۔ انکے پیچھے دیوار پر تین تصویریں ایک مکمل سیاسی اور تاریخی داستان سناتی ہیں۔ درمیان میں بانی پاکستان محمد علی جناح کی باوقار تصویر، ایک طرف میاں نواز شریف اور دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف کی تصویر۔ یہ منظر صرف ایک دفتر کی سجاوٹ نہیں بلکہ ماضی، وفاداری اور مستقبل کے سیاسی وژن کا استعارہ محسوس ہوتا ہے۔ نہال ہاشمی کا اس کرسی تک پہنچنا کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں۔ کراچی کے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا یہ شخص اپنی دولت یا خاندانی اثر و رسوخ کے باعث یہاں نہیں پہنچا، بلکہ یہ مقام اسے تین دہائیوں سے زائد سیاسی وفاداری، مسلسل محنت اور مشکل وقت میں پارٹی کیساتھ کھڑے رہنے کےصلے میں ملا ہے۔ سینیٹ کی رکنیت، عدالتی مشکلات، جیل، سیاسی محرومیاں اور کئی نشیب و فراز کے باوجود انکی وابستگی مسلم لیگ نون اور میاں نواز شریف سے کبھی کمزور نہیں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب وہ گورنر ہاؤس میں بیٹھے ہیں تو انکے چہرے پر صرف ایک عہدے کی خوشی نہیں بلکہ ایک طویل سفر کی تھکن اور تکمیل دونوں نظر آتی ہیں۔ لیکن اس گورنری کی اصل آزمائش اسلئےبھی مختلف ہے کہ ان سے پہلے کامران خان ٹیسوری نے گورنر ہاؤس کا ایک نیا معیار قائم کیا۔ انہوں نے اس تاریخی عمارت کو عوام کیلئے کھول دیا۔ لاکھوں عام شہریوں نے پہلی بار گورنر ہاؤس کو قریب سے دیکھا، یہاں سحری اور افطاری میں شرکت کی، اپنی شکایات لیکر آئے، موٹر سائیکلیں حاصل کیں، کمپیوٹر کورسز میں داخلہ لیا اور محسوس کیا کہ یہ عمارت انکے مسائل کے حل کا بھی ایک مرکز بن سکتی ہے۔
کامران ٹیسوری نے گورنر ہاؤس کو صرف پروٹوکول کی علامت نہیں رہنے دیا بلکہ اسے عوامی رسائی اور خدمت کی ایک نئی پہچان دی۔ یہی وہ معیار ہے جس نے نہال ہاشمی کیلئے توقعات کو غیرمعمولی طور پر بلند کر دیا ہے۔ اب عوام یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ مسلم لیگ نون کا گورنر اس عوامی روایت کو کسطرح آگے بڑھاتا ہے۔ یہاں نہال ہاشمی کیلئے سب سے بڑی تقویت چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد کی صورت میں موجود ہے۔ رانا مشہود نے نوجوانوں کو لیپ ٹاپ، اعلیٰ تعلیم، یونیورسٹی داخلوں، مقابلہ جاتی پروگراموں اور ہنر مندی کی متعدد اسکیموں کے ذریعے پورے پاکستان میں وزیر اعظم کے وژن کو نئی روح دی ہے۔ انکی حالیہ کراچی آمد نے یہ بھی واضح کیا کہ سندھ میں مسلم لیگ نون کیلئے نئی سیاسی جگہ پیدا ہو رہی ہے۔سب سے اہم پہلو وہ سیاسی بصیرت تھی جسکے ذریعے رانا مشہود نے مسلم لیگ نون اور ایم کیو ایم کے درمیان پیدا ہونیوالی غلط فہمیوں کو بڑھنے سے پہلے ختم کر دیا۔ انہوں نے نہ صرف ایم کیو ایم کی قیادت سے ملاقات کی بلکہ کامران ٹیسوری کی علیل والدہ کی عیادت کر کے ایک مثبت سیاسی پیغام بھی دیا۔ اس موقع پر انہوں نے کھل کر کامران ٹیسوری کے دورِ گورنری کی تعریف کی اور کہا کہ جو عوامی معیار انہوں نے قائم کیا، مسلم لیگ نون اسے برقرار رکھتے ہوئے مزید بہتر بنائے گی۔ یہ محض سیاسی بیان نہیں تھا بلکہ سندھ میں اتحادی سیاست کو استحکام دینے کی ایک بروقت سفارت کاری تھی۔یہی وہ لمحہ تھا جب محسوس ہوا کہ سندھ کی سیاست میں تصادم کے بجائے اشتراک کا راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ رانا مشہود نے واضح کر دیا کہ نہال ہاشمی کی گورنری کسی محاذ آرائی کا نام نہیں بلکہ ایک تسلسل کا حصہ ہوگی۔ یہی سیاسی بلوغت مسلم لیگ نون اور ایم کیو ایم کے تعلقات کو ایک نئے اعتماد میں بدل سکتی ہے۔
اس پوری داستان میں ایک اور خاموش مگر اہم کردار اسد عثمانی کا ہے۔ وہ ان کارکنوں میں شامل ہیں جنہوں نے تین دہائیوں تک مسلم لیگ نون سندھ کیلئے اپنا وقت، توانائی اور پیشہ ورانہ زندگی وقف کیے رکھی۔ سترہ گریڈ کی سرکاری ملازمت چھوڑ کر پارٹی کیلئے خود کو وقف کرنا معمولی فیصلہ نہیں تھا۔ آج جب نہال ہاشمی گورنر ہاؤس میں ہیں تو اسد عثمانی جیسے ساتھیوں کی قربانیاں بھی اس کامیابی کا حصہ محسوس ہوتی ہیں۔ اسی ہجوم میں مجھے وفاقی وزیر مملکت برائے مذہبی امور و اقلیتی امور کھیل داس کوہستانی بھی دکھائی دیے، جو سندھ میں مسلم لیگ ن کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکنے کیلئے سرگرم نظر آتے ہیں۔ وہیں علی اکبر گجر بھی اپنی روایتی گرمجوشی اور وسیع سیاسی حلقے کے ساتھ کارکنوں کے درمیان موجود تھے، اور ان کی موجودگی یہ ظاہر کر رہی تھی کہ پارٹی کے پرانے اور بااثر چہرے ایک بار پھر متحرک ہو رہے ہیں۔اب اصل سوال یہی ہے کہ نہال ہاشمی اس گورنرشپ کو کس انداز میں آگے بڑھاتے ہیں۔ اگر وہ کامران ٹیسوری کے عوامی معیار، رانا مشہود کی سیاسی بصیرت، اور اپنے تین دہائیوں کے وفادار سفر کو ایک ساتھ سمیٹنے میں کامیاب ہو گئے، تو گورنر ہاؤس ایک بار پھر سندھ کی سیاست میں ایک فیصلہ کن مرکز بن سکتا ہے۔ اور یقیناً میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف اور عطا تارڑ جیسے مرکزی رہنما ئوں کی نظریں گورنر سندھ نہال ہاشمی کی سیاسی حکمت عملی پر مرکوز ہونگی۔