جولائی 1971ء میں جب مشرقی پاکستان میں حالات بدتر ہوتے جارہے تھے، امریکی صدر رچرڈ نکسن کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر ڈاکٹر ہنری کسنجر اسلام آباد پہنچے اور یہاں سے انہیں خفیہ سفارتی مشن پر بیجنگ لے جایا گیا۔امریکی انتظامیہ اس سے پہلے رومانیہ اورپولینڈ کے ذریعے چینی قیادت کو سفارتی پیغامات بھجواچکی تھی لیکن جب یہ کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو پاکستان کے فوجی حکمران جنرل یحییٰ خان کا تعاون حاصل کیا گیا۔منصوبہ یہ تھا کہ ہنری کسنجر کو رازداری سے یوں چین لے جایا جائے کہ کسی کو بھنک نہ پڑے ۔کمرشل روٹ کے بجائے ناردرن روٹ کے ذریعے بیجنگ جانےکیلئے پی آئی اے کے ایک بوئنگ طیارے کو 6جولائی کوآزمائشی پرواز پر روانہ کیا گیا اور عملے کو بتایا گیا کہ یہ تیاریاں صدر پاکستان کے ممکنہ خفیہ دورہ کیلئےکی جارہی ہیں۔8جولائی 1971ء کو ہنری کسنجر اسلام آباد پہنچے تو انہیں ایوان صدر کے مہمان خانے میں ٹھہرایا گیا۔اس سفارتی مشن کے نگران اس وقت کے سیکریٹری خارجہ سلطان محمد خان تھے ۔وہ اپنی خود نوشت ’’Memories and reflections of a pakistani diplomat‘‘کے صفحہ نمبر 261پر اس خفیہ دورے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ صبح ساڑھے تین بجے وہ اپنی سرکاری گاڑی کے بجائے پرائیویٹ کار میں گھر سے نکلے اور ایوان صدر کے مہمان خانے سے ہنری کسنجر کو لیکر چکلالہ ایئر فیلڈ پہنچ گئے جہاں پی آئی اے کا بوئنگ طیارہ روانگی کیلئے تیار تھا۔اس دوران پاکستان میں امریکی سفیر فارلینڈ نے سیکریٹری خارجہ سلطان محمد خان کی اہلیہ کو گھر سے لیا اور ایوان صدر آگئے ۔یہاں سے ایک بڑے قافلے کی صورت میں امریکی وفد کے ارکان کو نتھیا گلی میںگورنر خیبرپختونخوا کی سرکاری رہائشگاہ لے جایا گیا۔بظاہر یہی تاثر دیا گیا کہ طبیعت ناساز ہونے کے باعث ہنری کسنجر نتھیا گلی کے پرفضا مقام پر آرام کررہے ہیں۔اور پھر ایک نئی اُفتاد آن پڑی۔ہنری کسنجر کے معاون جنہیں جعلی ہنری کسنجر کے طور پر نتھیا گلی میں رکھا گیا تھا ،انہوں نے دوپہر کو آدھا درجن آم کھالئے جس سے انکی طبیعت سچ مچ بگڑ گئی ۔سیکریٹری دفاع غیاث الدین اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عبدالحمید عیادت کرنے نتھیا گلی پہنچے ۔پشاور میں ایک ڈاکٹر سے رابطہ کیا گیا ۔معلوم ہوا کہ وہ ڈاکٹر تو ہنری کسنجر کے بہت بڑے مداح ہیں ،انکی کتابیں پڑھ رکھی ہیں اور بہت اچھی طرح سے انہیں جانتے ہیں ۔دِقت یہ تھی کہ ان ڈاکٹر صاحب کو بلالیا جاتا تو یہ راز فاش ہوجاتا کہ ہنری کسنجر نتھیا گلی میں نہیں ہیں۔چنانچہ ایک اور ڈاکٹر جنہوں نے ہنری کسنجر کا نام تک نہیں سنا تھا ،ان کی خدمات حاصل کی گئیں ۔قصہ مختصر 11جولائی 1971ء کو ہنری کسنجر چین کا خفیہ دورہ مکمل کرکے واپس چکلالہ ایئر فیلڈ پہنچے تو نتھیا گلی سے یہ قافلہ بھی اسلام آباد ایوان صدر کے مہمان خانے پہنچ گیا۔اس دوران کسی فری لانس جرنلسٹ ایف ایم بیگ نے چکلالہ ایئر فیلڈ پر ہنری کسنجر کو پہچان لیا اور اس معاملے کی بھنک پڑ گئی تو اس نے برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف کو خبر بھیج دی ۔برطانوی اخبار کے ایڈیٹر نے یہ سوچ کر وہ خبر ردی کی ٹوکری میں پھینک دی کہ شاید پاکستانی صحافی نشے کی حالت میں ہوگا ۔مگر پانچ دن بعد چینی حکام نے اس خفیہ دورے اور پاکستان کی وساطت سے ہنری کسنجر کے خفیہ دورے کی تصدیق کردی یوں پوری دنیا کو یہ بات معلوم ہوگئی کہ امریکہ اور چین کے تعلقات میں پاکستان نے پل کا کردار اداکیا ہے۔محولا بالا تاریخی واقعہ یوں یاد آیا کہ پاکستان ان دنوں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کیلئے ثالث کا کردار اداکررہا ہے اور پوری دنیا میں اسے بہت بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔آپ نے یہ جملہ کئی بار سنا ہوگا کہ پاکستانیوں کے سر شرم سے جھک گئے۔جب بھی کوئی ذلت آمیز واقعہ پیش آتا ہے یا پھر کوئی اندوہناک سانحہ رونماہوتا ہے تو شرمندگی و خجالت سے ہم سب سرنگوں ہوجاتے ہیں۔79برس میں انفرادی اور اجتماعی سطح پر کئی ایسی غلطیاں سرزد ہوئیں جنکی فہرست مرتب کرنے بیٹھیں تو ایک ضخیم کتاب تیارہوسکتی ہے۔آخری بار شاید ’’جنگ‘‘میں ہی چند ہفتے قبل انصار عباسی صاحب کا کالم شائع ہوا جس کا عنوان تھا’’سر شرم سے جھک گیا!!!‘‘۔اس کے برعکس ایسے لمحات بہت کم میسر آئے ہیں جن پر فخر کیا جاسکے ۔اولمپک گولڈ میڈل،کرکٹ ورلڈ کپ ،ہاکی یا اسکواش کے میدان میں وطن عزیز کے کامیابیاں سمیٹنے پر خوشی تو ہوئی مگر یہ ایسے قابل ذکر کارہائے نمایاں نہ تھے جن پر فخر کیا جاسکے۔میری پیدائش سے پہلے ڈاکٹر عبدالسلام کو طبعیات کے شعبہ میں نوبل ایوارڈ ملا مگر اسے پاکستانیت کے بجائے مذہب کے خانے میں بانٹ دیا گیا۔میں اپنے ہم عصرافراد کی بات کروں تو بطور پاکستانی پہلی بار تب فخر محسوس ہوا جب بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 28مئی 1998ء کو چاغی کے مقام پر پانچ ایٹمی دھماکے کئے اور مسلم دنیا کی اکلوتی ایٹمی طاقت کا اعزاز حاصل کیا۔دوسری مرتبہ پاکستانیوں کے سر فخر سے تب بلند ہوئے جب 7اور8مئی 2025ء کی درمیانی شب بھارت کے آپریشن سندور کے دوران پاک فضائیہ نے فرانسیسی ساختہ جدید ترین جنگی جہاز رفال سمیت 6بھارتی طیارے مار گرائے ۔اب تیسرا موقع امریکہ اور ایران جنگ کے دوران ثالثی کی شکل میں میسر آیا ہے ۔میری دانست میں یہ ایٹمی دھماکوں اور پاک بھارت جنگ کے دوران حاصل کی گئی کامیابی سے بھی بڑا کارنامہ ہے۔ایک ایسا ملک جو داخلی و خارجی سطح پر انواع و اقسام کے بیشمار مسائل کا شکار ہے ،جسکی خارجہ پالیسی پر ہمیشہ تنقید کی جاتی رہی ہے ،آج اسے تیسری عالمی جنگ رُکوانے کا کریڈٹ دیا جارہا ہے۔اگرچہ اسلام آباد میں ہورہے مذاکرات کا نتیجہ فی الحال کسی معاہدے کی صورت نہیں نکلا ،لیکن یقیناًمجھ سمیت آپ سب کو پاکستانی ہونے پر فخرمحسوس ہورہا ہوگا۔میں وزیراعظم شہبازشریف ،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار ،فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ان تمام ہیروز کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنکی وجہ سے یہ دن دیکھنا نصیب ہوا۔