• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زندگی کے سفر کی کسی نامہربان گھڑی میں ہمت بندھانے والا ہمدرد لہجہ ، تسلی سے بھرے لفظ اور مخلص مشورہ وقت گزرنے کے بعد بھی ہمیشہ دل میں ایسے دئیے کی طرح روشن رکھا جس کی لَو سے دعائیں منعکس ہوتی ہوں ۔سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ بھی ایک ایسی مہربان ہستی تھے جن سے راہ چلتے دعا سلام عقیدت میں ڈھل گئی، شکل و صورت کی وجاہت تو قدرت کی دین ہوتی ہے مگر شخصیت کا وقار انسان خود بناتا ہے ،کھوسہ صاحب کے انداز میں شرافت، گفتگو میں متانت اور فیصلوں میں ایک عجب طرح کی بردباری نے انھیں ہر دلعزیز شخصیت کاروپ دے رکھا تھا۔جنوبی پنجاب کی سیاسی و سماجی شناخت میں ایک اہم حوالہ سمجھے جانے والے سیاست اور متانت کے سردار طویل عرصہ سیاست میں سرگرم رہے، زیادہ تر وقت مسلم لیگ (ن) کے ساتھ گزارا، پنجاب کے گورنر کے منصب پر بھی فائز رہے ۔میری ان سے پہلی باقاعدہ ملاقات ایک محکمانہ ذمہ داری کے سلسلے میں ہوئی۔ ادارے کی طرف سے میلہ چراغاں منعقد کرنے اور اس میں وزیراعلیٰ پنجاب کو بطور مہمانِ خصوصی مدعو کرنے کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی تھی،وزیراعلیٰ آفس کی جانب سے ثقافتی سرگرمیوں میں حائل دائمی مصروفیات کے باعث معذرت کے بعد سینئر منسٹر سردار کھوسہ صاحب کے پرائیویٹ سیکریٹری کی وساطت سےایک کولیگ کے ساتھ دعوت نامہ لے کر اُن کے دفترپہنچے تو ایک سنجیدہ مگر پُر وقار سحرزدہ ماحول نے ہمیں گھیر لیا، سردار صاحب نے دعوت نامہ دیکھ کرانتہائی شائستگی سے کہا’’ڈاکٹر صاحبہ آپ خود تشریف لائی ہیں تو پھر انکار کی کوئی گنجائش نہیں رہتی‘‘۔یہ پہلا موقع تھا جب مجھے ایک ایسے سیاستدان سے ملاقات کا تجربہ ہوا جس کیلئے ایک فرد کی آمد بھی ایک ذمہ داری بن جاتی تھی۔مقررہ دن وہ وقت پر تشریف لائے، میلہ چراغاں اور شاہ حسین کی فکری و روحانی روایت پر بصیرت افروز گفتگو کی اور ادارے کی کارکردگی کو سراہا،چند ماہ بعد جب ڈائریکٹر کی خالی نشست پر میری ٹرانسفر/تقرری کیلئے سمری محکمانہ طور پر چیف سیکریٹری کے دفتر بھیجی گئی تو معمول کی یہ کارروائی طویل ہوتی چلی گئی،پھر ایک دن خبر ملی کہ آرڈرز جاری نہیں ہو سکتے کیونکہ فائل بند کر دی گئی ہے،یہ خبر حیران کن بھی تھی اور پریشان کن بھی، سوال یہ نہیں تھا کہ آرڈر کیوں نہیں ہوئے، سوال یہ تھا کہ آخر وجہ کیا بنی؟

میں نے اپنی ایک ڈپٹی سیکریٹری دوست سے گزارش کی کہ معاملے کی اصل صورتحال معلوم کر ئے، کچھ دن بعد اس نے جو بات بتائی وہ مزید حیران کن تھی،اسکے مطابق میری سی وی میں پاکستان ٹیلی ویژن پر محترمہ بے نظیر بھٹوکیلئے ایک ڈاکومنٹری لکھنے اور کوآرڈینیٹ کرنے کا ذکر بنیاد بن گیا تھا اور کسی سیانے کے توجہ دلانے پر بڑے صاحب نے فائل کلوز کر دی تھی۔یہ سن کر افسوس ہوا کہ ایک پیشہ ورانہ ذمہ داری جو مکمل اجازت اور ادارہ جاتی علم کے ساتھ انجام دی گئی تھی اسے اس قدر غلط زاویے سے دیکھا گیا، پھر اس ڈاکومنٹری میں نہ کسی کے خلاف بات تھی نہ کوئی سیاسی وابستگی کا اظہار تھا۔ ایسے عجب فیصلے پر خاموش رہنا مسلسل اذیت میں رہنے کے مترادف تھا،سو ہمت کر کے ذوالفقار علی کھوسہ صاحب کو فون پر پورا معاملہ بتایا، انہوں نے اگلے ہی دن چھٹی کے باوجود دفتر کھلوا کر میرے آرڈرز جاری کروا دیے۔احترام کا احساس گہرا ہوگیا ، علمی ادبی لوگوں کی قدر افزائی کرنا ان کی شخصیت کا وہ پہلو تھا جو انہیں عام سیاستدانوں سے ممتاز کرتا تھابعد ازاں میں نےپی اے کے ذریعے شکریے کیلئے وقت مانگا تو انتہائی سادگی سے منع کر دیا۔

زندگی اپنی رفتار سے چلتی رہی ، میں اس ادارے کی ڈائریکٹر جنرل بھی بنی ،کئی سیاسی محفلوں میں دعا سلام ہوئی مگر کبھی کسی ماتحت یا علاقے کے کسی فرد کے کہنے پر کوئی سفارشی پیغام نہ بھیجا، جب پنجاب میں شدید سیلاب آیا ،انہی دنوں ہمارے ادارے کی ایف ایم ٹرانسمیشن کے ذریعے امدادی اپیل کے نتیجے میں اتنا سامان اکٹھا ہوگیا کہ بڑے ہالز کے علاوہ دفاتر بھی اسٹور بن گئے، سرکاری سطح پر اس کی ترسیل میں تاخیر کے باعث ہم دوبارہ ان کے دفتر گئے اور متاثرہ علاقوں میں فوری امداد پہنچانے میں مدد کی درخواست کی ، دو دن کے اندر انہوں نے ذاتی طور پر مطلوبہ ٹرکوں کا انتظام کر کے ہماری مشکل آسان کردی۔بعد میں جب مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ان کی سیاسی وابستگی میں فاصلے پیدا ہوئے تو اسی دوران ایک کھانے پر ان سے ملاقات ہوئی، وہ خاصے افسردہ تھے، ان کے لہجے میں شکستگی اور تھکن بہت بوجھل محسوس ہوئی۔ وہ سیاست کے بدلتے منظرنامے اور کچھ لوگوں کے رویوں سے بہت دل برداشتہ تھے ، مسلم لیگ ن کو چھوڑنا نہیں چاہتے تھے مگر کچھ لوگ رہنے کا جواز ہی ختم کر رہے تھے ۔اسی دکھ کو چند دن بعد ایک کالم کی صورت بیان کیا کہ انھیں نہ جانے دیا جائے ،وہ بہت خوش ہوئے،فون کر کے شکریہ ادا کیا۔ پھر برسوں رابطہ نہ رہا نہ کسی محفل میں آمنا سامنا ہوا مگر دعا ہمیشہ رابطہ رہی۔ کچھ دن پہلے ایک اندرونی احساس کے تحت میں نے انکے حوالے سے ٹویٹر پر ایک پوسٹ لکھی، پھر غیرارادی طور پر انھیں فون کیا، سوچا ملاقات کیلئے جاؤں گی اور بہت سی باتیں کروں گی مگر کسی نے فون اٹھایا نہ وٹس ایپ پیغام کا جواب دیا بلکہ وہ تو آج تک seen ہی نہیں ہوا،کیونکہ وہ وہاں چلے گئے تھے جہاں واٹس ایپ کی سروسز ہی نہیں۔ یہ خبر صرف ایک انسان کے جانے کی نہیں تھی بلکہ ایک طرزِ سیاست، ایک تہذیبی شائستگی اور ایک وضع دار دور کی رخصتی کی خبر تھی۔

تازہ ترین