یورپ میں خوراک کی درآمدات کے نئے یورپی قانون کے نفاذ سے پاکستانی خوراک کی مصنوعات کی برآمدات کو بھی خطرہ لاحق ہونے کا اندیشہ ہے۔
یہ خطرہ بنیادی طور شہد کی مکھیوں کو نقصان پہنچانے والی ان زرعی ادویات کے استعمال کی وجہ سے ہے جن میں یورپ میں تو پابندی ہے لیکن مبینہ طور پر وہ پاکستان سمیت دنیا کے بہت سے ملکوں میں اب بھی استعمال ہو رہی ہیں۔
ان ادویات میں کلوتھیانیڈین (Clothianidin) اور تھیامیتھوگزام (Thiamethoxam) نامی ادویات شامل ہیں جو یورپ میں کئی سال سے استعمال کیلئے ممنوع ہیں۔
تحقیق کے مطابق یہ ادویات پودوں میں جذب ہوکر پولینیشن کیلئے آنے والی شہد کی مکھیوں اور دیگر فصل دوست کیڑوں کے نروس سسٹم کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
ان ادویات کو بند کرنے کیلئے یورپ کی ماحول کیلئے کام کرنے والی تنظیموں نے ایک بھرپور مہم چلائی تھی جس کے بعد یورپین کمیشن نے اس کا استعمال یورپ میں ممنوع قرار دے دیا تھا۔
لیکن دوسری اقوام کیلئے اس کی اس سال تک کیلئے زیادہ سے زیادہ کی ایک حد مقرر کردی تھی۔ اب یورپ نے چاول سمیت دیگر زرعی مصنوعات میں ان پیسٹیسائیڈز کی موجودگی کی زیادہ سے زیادہ حد ( MRL) کے متعلق 7 مارچ 2026 سے زیرو ٹالرینس اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
جس کے باعث خاص طور پر پاکستان کی چاول کی برآمدات کیلئے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔ اب یورپ میں چاول کیلئے اس کی حد 0.5mg/kg کی بجائے 0.1mg/kg کر دی گئی ہے۔
اس حوالے سے پاک بینیلکس اوورسیز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر رانا جاوید کوثر نے حکومت سمیت پاکستانی تاجروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اب ایکسپورٹ کرتے ہوئے اس بات کو پیش نظر رکھیں کہ یہاں یورپ تک پہنچ کر بھی ایم آر ایل کے باعث آنے والی کنسائنمنٹس کو رد کیے جانے کا خطرہ نہ ہو۔