فیض عام …
خاکستان، محلّہ گناہ گاراں
بر مکان بندہ ناچیز
اے خدا جی!!
میں تیرا خا کی بندہ خاکستان کارہائشی، بہت ہی پریشان، کنفیوژڈ اور ملول ہوں میرا دل ایران کیساتھ ہے اور دماغ امریکہ کیساتھ۔ ایک طرف میرا دل خون کے آنسو روتا ہے میںایران کے معصوم بچوں کی شہادت اور استقامت سے بھر پورقیادت کے خاتمے پر ملول ہوں۔ کئی بار سوچتا ہوں گریبان پھاڑ کر سڑکوں پر نکل جاؤں اس قدرآنسوبہائوں کہ گلیاں نہریں بن جائیں اس قدر احتجاج کروںکہ شہر بند ہو جائیں ۔ دوسری طرف دماغ ہے جو کہتاہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی غزہ، لبنان ، شام ، عراق اور لیبیا کو تباہ کر چکے ایران بھی ان سے بچ نہیں سکے گا۔ اے خدا میں روز دعا مانگتا ہوں کہ ایران میں امن اور خیر ہو ، بمباری کا سلسلہ بند اور پابندیوں کا خاتمہ ہو ، عقل کہتی ہے کہ صرف دعائیں مانگنے سے دشمن کی توپوں میں کیڑے نہیں پڑتے اے میرے خدا! میری رہنمائی کر ، مجھے کنفیوژن سے نکال اور امن کی راہ ہموار کر ۔
اے خدائے بزرگ و برتر!
یہ موقع تو مزاحمت کے استعارے حضرت امام حسین ؓکو خط لکھ کر ان سے رہنمائی حاصل کرنے کا تھامیں ان سے سوال کرتا کہ آپ نے چراغ بجھا کر یہ کیوں فرمایا کہ جو کربلا سے جانا چاہتا ہے چلا جائے؟ مگر انہیں مخاطب کرنے کی جرأت اسلئے نہ کر سکا کہ کہیں فرقہ پرست مجھے طعنے نہ دیدیں میں رحمت ا للعالمين حضرت محمد ﷺ کو ندا دینا چاہتا تھا کہ اس کڑے وقت میں آپ کے چاہنے والے کہاں جائیں مگر پھر اندیشہ ہوا کہ موحد میری ندا کو شرک قرار دیدینگے پھر ارادہ کیا کہ مسلمانوں میں عقل و منطق کے سب سے بڑے پرچارک ابن رشد سے رہنمائی حاصل کروں مگر ابن رشد کے انجام سے ڈر لگا کہ غرناطہ سے ثمرقند تک ہر شہر میں مسلمان اسے کافر کہہ کر جوتے مارتے تھے پھر مرد دانا نے مشورہ دیا کہ خدا کو خط لکھو۔ پاکستان میں پیغمبروں، ولیوں اور عالموں کے بارے میں توہین مذہب کا قانون ہے مگر خدا کے بارے میں کچھ بھی کہہ لیں کوئی بلاسفیمی قانون سرے سے موجود نہیں۔ اس لئے یہ خط اے خدا آپ کے نام تحریر کر رہا ہوں۔
اے سچے رَبّ!
تو تو جانتا ہے کہ میں ڈرپوک ہوں، بزدل ہوں، دنیا دار ہوں، گناہ گار ہوں۔ یہ درست ہے کہ شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن مگر کیا کروں من کا پاپی ہوں مرنے سے ڈرتا ہوں دنیا سے محبت کرتا ہوں۔ اصلی مومن ہو جائوں تو شاید حق کیلئے ایران کی طرح کٹ مرنے پر تیار ہو جاؤں مگر کیا کروں عقل آڑے آتی ہے اور کہتی ہے کہ زندہ رہو گے تو دنیا کو بدل سکو گے، زندہ رہے تو فلسطین اور مسلمانوں کیلئے آواز اٹھا سکو گے ۔ دوسری طرف دل ہے کہ ایران اور شہادت کے عشق میں گرفتار ہے میں متذبدب بنیاد پرست ہوں غالب کی طرح کعبہ و کلیسا کے تضاد میں گرفتار ہوں، اقبال نے تو’’ بے خطر کود پڑا عشق‘‘ کے مقابلے میں’’ عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی‘‘ کہہ کر عشق کا مقام عقل سے بلند تر کر دیا مگر اپنی نثر میں دلائل عقل کی بنیاد سے دیئے۔ بنیادی سوال یہی ہے کہ زندگی یا موت۔ اے خدا میں تو ہر انسان کی طرح زندگی چاہتا ہوں جینا چاہتا ہوں وُہ تو بہت بڑے لوگ ہوتے ہیں جو شہادت چاہتے ہیں میں گنہگار اس مقام تک رسائی حاصل بھی نہیں کر سکتا۔
اے پیارے خدا!
مرحوم و مغفور سر سید احمد خان میرے کان میں سرگوشی کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے 600سالوں سے علم سائنس اور ٹیکنالوجی کو چھوڑ دیا ہے حضرت اقبال میری چٹکی لے کر شکوہ ، جواب شکوہ کی طرف توجہ دلاتے ہیں جناح اور مصطفی کمال پاشا مجھے آئین، قانون اور جمہوریت کے ذریعے ملکی ترقی کا درس دیتے ہیں۔ اے خدا ! میں پریشان ہوں ہم کس ذہنی تضاد بیانی اور فکری غلطی کا شکار ہیں۔ ہم اسامہ بن لادن کو ہیرو بناتے ہیں نائن الیون کو امریکہ کی بربادی گردانتے ہیں اور خوشیاں مناتے ہیں اب وقت گزر گیا تو طالبان بھی اس سے منحرف اور اسامہ کے سارے حامی بھی اس کا نام تک نہیں لیتے۔ یاد کریں کہ ایک وقت ایسا بھی تھا کہ گڈ طالبان اور بیڈ طالبان ہوا کرتے تھے گڈ طالبان کے حامی اور مدافع ہر بم دھماکے کی نئی سے نئی توجیح اور تشریح کیا کرتے تھے ۔ہونا تو یہ چاہئے کہ ان سب تشریح کاروں کو اب کابل اور قندھار بھیج دیا جائے تاکہ یہ اپنی خیالی امارات اسلامی کے اعزازی شہری بن سکیں وہاں کے اسکولوں اور مدرسوں میں اپنے بیٹوں کو پڑھائیں اور دختران نیک اختر کو چادر اور چار دیواری کے اندرمحفوظ رکھ سکیں۔ آپ بھول گئے آپ صدام کی امریکہ سے جنگ کے دوران امریکی شکست کے دعوے کرتے نہیں تھکتے ہمارے ایک جنرل صاحب نے تو عراق کو امریکہ کا قبرستان اور دوسرے نظریاتی جنرل صاحب نے افغانستان کو امریکہ کا قبرستان قرار دیا تھا ،ہوا الٹ اب افغانستان اور عراق کے حالات قبرستان جیسے ہیں مگر امریکہ کی تو ایک روشنی بھی نہیں بجھی … فلسطین میں دو ریاستی حل پر معاہدہ ابراہیمی ہونے ہی والا تھا کہ کسی دشمن نے حماس کو بھڑکایاکہ 7اکتوبر سے ایسی جنگ لگی کہ اب اس کا الائو ٹھنڈا نہیں ہورہا حد یہ ہےکہ مسئلہ فلسطین کی آزادی سے کم ہوکر فلسطینیوں کی زندگی اور انکے بچائو تک آچکا ہے۔ لبنان میں حزب اللہ تباہ ہوگئی شام میں اسد حکومت گئی اور اب ایران کی دوست اسد حکومت کی بجائے سعودی حکومت کی پشت پناہ حکومت ہے۔ لیبیا کا مرد آہن قذافی بھی ایک پل سے برآمد ہوکر سونے کے پستول سے مارا گیاافسوس کہ کوئی ایک کراہ بھی بلند نہ ہوئی ۔ میرے خدا، مسلمانوں کے دل میں سرسید اور اقبال کی روح ڈال جناح جیسا مدلل دماغ ڈال۔ یہ سقوطِ بغداد سے سقوطِ غرناطہ سقوطِ ڈھاکہ، سقوطِ کابل کا غم منانے کی بجائے بنیان مرصوص جیسی فتح منائیں۔ ہم ایران کی طرح بے لچک اور اس قدر بلندی پر فائز نہ ہو جائیں کہ مصلحت اور مصالحت پر نہ آئیں ۔اے خدا مجھے علم ہے کہ جب خود بندے اپنی مدد آپ نہ کریں توخدا بھی بندوں کی مدد نہیں کرتا۔ اقبال نے یہی تو کہا تھا کہ ’’خدا بندے سے خود پوچھے بتاتیری رضا کیا ہے؟‘‘
اے عرش معلّٰی کی کرسی کے مالک !!
یہ بندہ خاکی بھی ہے اورتضادستان کا باسی بھی ہے۔ پاکستان نے ایران اور امریکہ جنگ میں کوئی تضاد نہیں دکھایا ایران کو بھی خلوص نیت سے مشورے دیئےاور امریکہ کو بھی سمجھایا کہ ایران میں قیادت ماری گئی تو انارکی آجائیگی جس سے امریکہ، ایران اور اسلامی دنیا سب ہی کو نقصان ہوگا۔ صلح کی اسلام آباد کوشش کامیاب نہ ہونے سے میری پریشانی اور بڑھ گئی ہے خوف سے ٹھنڈے پسینے آرہے ہیں پاکستان اس جنگ سے دوررہنا چاہتا ہے اوررہا ہےمگر ایک طرف اس کا سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ ہے تو دوسری طرف وُہ ایران سے ہر صورت میں محبت اور تعاون جاری رکھنا چا ہتا ہے اگر سعودی عرب آبنائے ہرمز کھولنے کے آپریشن میں امریکہ کا اتحادی بن کرسرگرم ہوا تو پاکستان کو بھی چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے اس جنگ میں کودنا پڑے گا ۔ یہاں میرے والامسئلہ سب کو ہے پیٹ بھوکا ہے عقل طاقتور کا ساتھ دینا چاہتی ہے مگر دل ہے کہ ایران کیلئے واری واری جارہا ہے ۔ اے خدا ! میں تیرا کمزور بندہ ہوں 5ارب ڈالر نہ ملا تو بندہ اور اس جیسے کئی بندے بھوکے مرجائیں گے ایک نیوکلیئر ریاست گھٹنے ٹیک دے گی ڈیفالٹ کا خطرہ بڑھ جائیگا۔ کیا ابن رشد کی مان کر عقل سے کام لیں یا جہادی جوش میں لڑ کر مر جائیں ہوش کا ہتھیار بناکر مخالفوں کا مقابلہ کریں یا جذبات میں آکر ہاتھ پائوں کٹوالیں۔
اے میرے پیارے ربّا !!
اس مشکل وقت میں عاجز اورگنہگار بندے کو سیدھا رستہ دکھا، پاکستان کی صحیح صحیح رہنمائی کر، امت مسلمہ کو عقل سلیم اور علمِ صمیم عطا کر کہ وُہ اس کڑے وقت میں، اپنے لئے صحیح راستے کا انتخاب کرسکے۔ جواب کا منتظر
بندۂ ناچیز