آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی کی قانونی حیثیت پر ماہرین کی رائے سامنے آ گئی۔
آبنائے ہرمز میں امریکا کی ممکنہ ناکہ بندی کے حوالے سے بین الاقوامی قانون کے ماہر ڈوگلس گیولفولے نے اہم قانونی نکات واضح کر دیے۔
ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت سمندری ناکہ بندی کو معاشی جنگ کے ایک ہتھیار کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، تاہم اس پر متعدد اہم پابندیاں بھی عائد ہوتی ہیں۔
ڈوگلس گیولفولے کے مطابق پہلی اہم شرط یہ ہے کہ وہ تجارتی جہاز جو ایران سے متعلق نہ ہوں، انہیں گزرنے کی اجازت دی جانی چاہیے، اس کے علاوہ ناکہ بندی کے قانونی ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ مؤثر ہو اور تمام جہازوں پر یکساں طور پر لاگو کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک اطلاعات کے مطابق صرف ایک جہاز ناکہ بندی عبور کرنے میں کامیاب ہوا ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ناکہ بندی مؤثر ہے۔
ڈوگلس گیولفولے کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی ناکہ بندی کے حوالے سے ایک اور اہم قانونی پہلو یہ ہے کہ اس کے اثرات عام شہریوں پر منفی نہ پڑیں۔
ماہرِ بین الاقوامی قانون نے واضح کیا کہ ایسی کوئی کارروائی جس سے شہری آبادی کو خوراک یا ادویات جیسی بنیادی ضروریات سے محروم ہونا پڑے، بین الاقوامی قانون کے تحت قابلِ اعتراض ہوتی ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے غزہ کی ناکہ بندی پر ہونے والی تنقید کا حوالہ دیا اور کہا کہ کسی بھی ناکہ بندی میں انسانی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔