• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آبنائے ہرمز میں ٹرمپ کا عسکری محاصرہ، کون کون سے جہاز تعینات کر دیے؟

— تصاویر سوشل میڈیا
— تصاویر سوشل میڈیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی کوئی تیز رفتار حملہ آور کشتیاں محاصرے کے قریب آئیں تو انہیں تباہ کر دیا جائے گا۔

امریکا نے ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کے گرد بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کے لیے 15 سے زائد جنگی جہاز تعینات کر دیے ہیں۔

اس کارروائی کے حصے کے طور پر امفیبیئس اسالٹ شپ یو ایس ایس ٹرپولی (LHA 7) بحیرۂ عرب میں ایف-35 بی لائٹننگ II اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں اور ایم وی-22 اوسپرے طیاروں کے ساتھ آپریشن کر رہا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تصدیق کی ہے کہ اس ناکہ بندی کو غیر جانب دارانہ طور پر ان تمام جہازوں پر نافذ کیا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں، بشمول خلیج فارس اور خلیج عمان میں داخل یا خارج ہوں گے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی افواج آبنائے ہرمز سے غیر ایرانی بندرگاہوں کے لیے آنے جانے والے جہازوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گی۔

سینٹکام کے مطابق یو ایس ایس ٹرپولی (LHA 7) بحیرۂ عرب میں سفر کے دوران رات کے وقت پروازوں کی کارروائیاں انجام دے رہا ہے، اس جہاز کو روایتی ویل ڈیک کے بغیر ڈیزائن کیا گیا ہے، جس سے مزید ایف-35 بی لائٹننگ II طیاروں، ایم وی-22 اوسپرے، ہیلی کاپٹروں اور اضافی مرمتی سہولتوں کے لیے گنجائش پیدا ہوتی ہے، عروج کے آپریشنز کے دوران یہ جہاز 20 سے زائد ایف-35 بی طیاروں کی معاونت کر سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ کا بڑا حصہ پہلے ہی جنگ کے دوران تباہ کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ ایران کی بحریہ مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے 158 جہاز سمندر کی تہہ میں جا چکے ہیں، ہم نے ان کی چند تیز رفتار حملہ آور کشتیوں کو نشانہ نہیں بنایا کیونکہ ہم انہیں بڑا خطرہ نہیں سمجھتے تھے۔

ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ان میں سے کوئی جہاز ہمارے محاصرے کے قریب آیا تو اسے فوراً ختم کر دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اسلام آباد مذاکرات میں کوئی معاہدہ نہ ہونے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے اتوار کے روز آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید