• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فرض کریں کہ دور دراز کسی سیارےپر ایک مخلوق ہے جو ہم پر نظر رکھے ہوئے ہے تو اُسے ہماری زمین کیسی دکھائی دے گی؟ یعنی اگر کوئی کروڑوں نوری سال کے فاصلے پر ہوں اور انہوں نے کوئی دوربین لگا رکھی ہو جس سے وہ زمین کا مشاہدہ کر رہے ہوں تو کیا انہیں امریکہ اور ایران جنگ کرتے نظر آئیں گے؟ نہیں۔ اُنہیں زمین پر ڈائناسور مٹرگشت کرتے دکھائی دیں گے۔ وجہ یہ ہے کہ روشنی کو سفر کرنے کیلئے وقت درکار ہوتا ہے، ملاحظہ ہو آئن اسٹائن کا خصوصی نظریہ اضافیت جسکے مطابق کائنات میں روشنی کی رفتار یکساں ہے اور اُس سے آگے کوئی نہیں نکل سکتا، لہٰذا جب ہم کائنات ’میں‘ دیکھتے ہیں تو روشنی کی مدد سے دیکھتے ہیں، جیسے سورج کی روشنی ہم تک آٹھ منٹ میں پہنچتی ہے تو دراصل وہ ’آٹھ منٹ پہلے کا سورج‘ ہوتا ہے جو ہمیں نظر آتا ہے۔ اگر اِس وقت یکدم سورج بجھ جائے تو اس واقعے کا علم ہمیں آٹھ منٹ بعد ہوگا۔ اینڈرومیڈا گیلکسی ہم سے پچیس لاکھ نوری سال کے فاصلے پر ہے، کسی صاف شفاف فضا میں اسے دوربین لگا کر دیکھا جا سکتا ہے لیکن عین ممکن ہے کائنات میں اِس کہکشاں کا وجود ختم ہو چکا ہو کیونکہ ہم تک جو روشنی پہنچ رہی ہے وہ اڑھائی ملین سال کا فاصلہ طے کرکے پرانی اینڈرومیڈا گیلکسی دکھا رہی ہے۔ بِعَینہٖ جو اجنبی مخلوق ساڑھے چھ کروڑ نوری سال کے فاصلے پر دوربین لگا کر بیٹھی ہے، اُسے ساڑھے چھ کروڑ سال پرانی زمین ہی نظر آئے گی جس پر ڈائنوسارز کا راج تھا کیونکہ ڈائنوسار کی شبیہہ لیے جو روشنی زمین سے نکلی تھی ’پہلے‘ وہ روشنی اُس مخلوق کے پاس پہنچے گی اور اسے ساڑھے چھ کروڑ سال پرانا منظر دکھائے گی، جبکہ آج ہماری زمین پر جو ہاہاکار مچی ہے اُس کی خبر جب ہمارے ’ہمسایوں‘ کے پاس پہنچے گی، تب تک ہم خاک ہو چکے ہوں گے۔یہ سارا مسئلہ آئن اسٹائن نے پیدا کیا ہے، اچھا بھلا وقت کا سیدھا سا نظام چل رہا تھا مگر اُس مردِ عاقل نے سب تَلپٹ کر دیا۔ اب اِس کائنات کا نہ کوئی ماضی ہے اور نہ حال، مستقبل کا تو پہلے ہی پتا تھا کہ کوئی نہیں ہے، علت و معلول کا قانون بھی یہاں باطل ہو جاتا ہے۔ جب یہ تعین ہی نہیں ہو سکتا کہ کائنات میں کون سا واقعہ پہلے اور کون سا بعد میں پیش آیا تو یہ جاننا بھی ممکن نہیں کہ کس بات کا سبب کیا تھا! جو مخلوق ہمارا ساڑھے چھ کروڑ برس پرانا ماضی دیکھ رہی ہے اُس کیلئے ہمارا حال اور مستقبل جاننا ممکن نہیں، حالانکہ وہ وقوع پذیر ہو چکا ہے اور مسلسل ہو رہا ہے۔ گویا کائنات میں بیک وقت ماضی، حال اور مستقبل موجود ہیں، ایسی کائنات کو ’بلاک یونیورس‘ بھی کہتے ہیں، یعنی ایسی کائنات جہاں ہر لمحہ جو کبھی موجود ہے یا کبھی موجود رہے گا، پہلے سے موجود ہے۔ سمجھیے سب کچھ طے شدہ ہے، لوحِ محفوظ میں۔ اگر ایسا ہے تو سزا جزا کا تصور ختم ہو جاتا ہے، دنیا میں اپنے جرائم کی جوابدہی کی پھر ضرورت نہیں رہتی۔ ’میٹرکس‘ فلم میں بوڑھی خاتون، اوریکل، جب نیو کو کینڈی پیش کرتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ آپ کو تو پہلے سے ہی معلوم ہے کہ میں یہ کینڈی لوں گا یا نہیں۔ ”ہاں مجھے پتا ہے ورنہ مجھے اوریکل کون کہتا!“ نیو کہتا ہے: ”اگر آپ کو پہلے ہی علم ہے تو پھر میں آزادی سے اپنا انتخاب کیسے کر سکتا ہوں؟“ اوریکل کا جواب کمال کا تھا: ” تم یہاں آزادی سے انتخاب کرنے نہیں آئے، یہ انتخاب تم کر چکے ہو، تم یہاں یہ سمجھنےکیلئے آئے ہو کہ تم نے یہ انتخاب کیوں کیا!“ جب ماضی اور حال ہی گڈمڈ ہو گیا تو انتخاب کرنے کی آزادی کہاں رہی؟

دوسرے کی نظر سے دیکھیں تو آپ کا ماضی اسے حال کی صورت میں نظر آئے گا۔ بیس نوری سال کے فاصلے پر اگر کوئی زمین جیسا سیارہ ہو جہاں ہم جیسے لوگ بستے ہوں اور وہ ہمارا مشاہدہ کر رہے ہوں تو انہیں ہمارے بیس سال پرانے حالات پہنچ رہے ہوں گے، گویا جس جوڑے کا اِس ’وقت‘ بریک اپ ہو چکا ہے، اُس سیارے کے مکینوں کی نظروں میں ابھی وہ جوڑا محبت کی پینگیں بڑھا رہا ہو گا۔

اگر بلاک یونیورس کا نظریہ درست ہے تو ماضی، حال اور مستقبل بیک وقت وجود رکھتے ہیں، لیکن کیا اِسے درست مان لینے سے ہماری صحت پر کوئی اثر پڑتا ہے؟ فدوی کی رائے میں فقط دل کو ڈھارس سی بندھ جاتی ہے، بندہ یہ سوچ کر خود کو تسلّی دے سکتا ہے کہ آپ کی نظروں میں جس شخص کی موت ہوئی، کائنات کے کسی گوشے کیلئےوہ شخص اب بھی زندہ ہے، وہ کہیں نہیں گیا، فقط اُس کا ’ٹائم زون‘ تبدیل ہوا ہے۔ آئن اسٹائن کے نظریۂ اضافیت نے ایک تہلکہ خیز انکشاف یہ بھی کیا تھا کہ ایسا کوئی ’وقت‘ نہیں جو پوری کائنات پر یکساں لاگو ہو۔

فرض کریں کہ آپ زمین پر ہوں اور ایک خلاباز ایک کروڑ نوری سال دور کسی کہکشاں کی جانب روشنی کی نصف رفتار سے سفر کر رہا ہو اور اُس لمحے زمین پر آپ کہیں کہ ’ابھی‘ فلاں واقعہ رونما ہوا ہے اور اُدھر وہ خلاباز کہے کہ ’ابھی‘ دوسرا واقعہ پیش آیا ہے تو دونوں کی ’ابھی‘ میں زمین پر ہزاروں سال کا فرق ہوگا۔ گویا جو واقعہ آپ کیلئےمستقبل میں ہے وہی واقعہ اُس خلاباز کیلئے حال میں ہو سکتا ہے۔ اگر خلاباز کا ’حال‘ حقیقی ہے اور اُس کے ’حال‘ میں وہ واقعہ شامل ہے جو آپ کا ’مستقبل‘ ہے تو کیا آپ کا مستقبل حقیقی نہیں! خدا میرے گناہ معاف کرے آپ کو کس گھن چکر میں ڈال دیا ہے۔مستقبل یقیناً حقیقی ہے اور مگر آپ کیلئے مخفی ہے۔ اور خیال رہے کہ ’طے شدہ‘ کا مطلب ’جبری‘ نہیں۔ بلاک یونیورس یہ نہیں کہتی کہ ہم کٹھ پتلیاں ہیں، وہ کہتی ہے کہ ہماری آزادیِ انتخاب کا عمل کائنات کے گنجلک تانے بانے میں گُندھا ہے۔ وہی اوریکل والی بات کہ ” تم یہاں آزادی سے انتخاب کرنے نہیں آئے، یہ انتخاب تم کر چکے ہو، تم یہاں یہ سمجھنے کیلئے آئے ہو کہ تم نے یہ انتخاب کیوں کیا!“لیکن زمان و مکان کی یہ پیچیدگیاں اور فلسفے کی یہ گتھیاں سلجھانے کا لطف بھرے ہوئے پیٹ کے ساتھ ہی آتا ہے۔ بھوکے کیلئے دو جمع دو چار روٹیاں ہوتی ہیں، اسے یہ کہہ کر نہیں بہلایا جا سکتا کہ بلاک یونیورس میں کہیں تمہارے لیے روٹیوں کا آرڈر دے دیا جا چکا ہوگا، لہٰذا بے فکر ہو جاؤ۔ ہم چاہے اِس بیکراں کائنات میں تنہا ہی کیوں نہ ہوں، غمِ روزگار سے نجات نہیں پا سکتے اور یہ غم انسان نے خود پالا ہے، کوئی دوسری مخلوق کائنات میں رہنے کا ٹیکس ادا نہیں کرتی۔

تازہ ترین