شیخ عبدالحفیظ سلیم نام تھا۔ حفیظ ہوشیار پوری کے نام سے جانے گئے ۔ قصبہ جھنگ کے قریب موضع دیوان پور میں 5جنوری 1912ءکو جنم لیا۔ اکسٹھ برس اور پانچ دن بعد 10جنوری 1973کو جناح اسپتال کراچی میں رخصت ہوئے۔ اس وقفہء گل میں غزل کہی۔ بدن چھریرا، رنگ سانولا، وضع مغربی، طبع مشرقی۔ براقیِ طبع کے توسن پہ کاٹھی رکھتے تھے۔ ذات میں خودنمائی نہیں تھی۔ غزل میں آہنگ بلند نہیں ہونے دیا۔ بات گہری اور اثر دُونا، بیان میں ضبط تھا، لکنت نہیں۔اس مزاج پر حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ حفیظ ہوشیارپوری نے جیتے جی اپنا مجموعہ شائع نہیں کیا۔ان کی علالت کے دوران مشتاق احمد یوسفی اور ابن الحسن برنی نے کلام حفیظ کی طباعت کا بیڑا اٹھایا مگر اس طرح کہ انہیں بھی اس کی خبر نہ ہو۔ خیال تھا کہ زیور اشاعت سے آراستہ مجموعہ شاعر کے ہاتھ میں پہنچے گا تو ان کی دل آسائی کا ساماں ہو گا۔ حفیظ مگر ارادے کے ایسے پختہ تھے کہ مجموعے کی اشاعت سے قبل ہی رخصت ہو گئے۔
کم سنی میں عبدالقادر گرامی کی صحبت سے فیض اٹھایاتھا۔ عنفوان شباب میں سیاسی گرم بازاری سے بھی تعلق رہا مگر ہوشیار پور کے پولیس سربراہ قربان علی خان نے معاملہ سنبھال لیا۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے فلسفہ میں تعلیم پائی ۔ یہاں فیض اور راشد کا طوطی بول رہا تھا۔ اساتذہ میں صوفی تبسم اور پطرس بخاری تھے۔ ایم ڈی تاثیر کی برق تابی بھی اسی حلقے میں تھی۔ دیارِ لاہور میں اقبال ، شیخ عبدالقادر اور تاجور نجیب آبادی کی مشعلیں فروزاں تھیں۔ اختر شیرانی کے زمزمے فضا میں تھے۔ عرب ہوٹل میں چراغ حسن حسرت کی بذلہ سنجی تھی۔ حفیظ کے اس حلقہ احباب میں نظم گوئی کا چرچا تھا لیکن اسے حفیظ ہوشیار پوری کا ضبط سخن ہی کہا جائے گا کہ حفیظ نے نظم نہیں کہی۔ یہ وہ دن تھے کہ جدید انگریزی یافتہ پروفیسر کلیم الدین احمد کے تتبع میں غزل کو نیم وحشی صنفِ سخن کہتے تھے۔ داغ اور امیر مینائی کا رنگ دھیما ہو چلا تھا، حسرت موہانی ، جگر، فانی اور اصغر گونڈوی کے کلام کا پورے ہندوستان میں چرچا تھا۔ حفیظ نے احتیاط سے اپنے لیے حسرت اور فانی کا انتخاب کیا مگر اس طرح کہ فانی کے نالہ و شیون میں نہیں الجھے اور حسرت کی شوخ گوئی سے ایک قدم پیچھے چلے۔ انگریزی زبان و ادب کے مزاج شناس تھے۔ فارسی پر عبور تھا۔ سندھی اور پنجابی ادب کا ذوق رکھتے تھے۔
سخن فہمی کے ان چشموں کی فیض رسانی تسلیم مگر حفیظ کو داد دیجیے کہ ایسی بلند آشیانی تک رسائی کم سواد مبتدی کا کام نہ تھا۔ 1936ءمیں میاں بشیر احمد نے انجمن اردو پنجاب کی بنیاد رکھی۔ حفیظ ان کے نائب معتمد ٹھہرے۔ 1937ءمیں جواں مرگ منصور احمد کے بعد ادبی دنیا کی ادارت میں مولانا صلاح الدین احمد کے ہمرکاب رہے۔ مولانا چراغ حسن حسرت نے ہفت روزہ شیراز جاری کیا ،حفیظ ہوشیار پوری مجلسِ ادارت میں تھے۔ دلی میں جوالا مکھی دیوان سنگھ مفتون ’ریاست‘نکالتے تھے۔ حفیظ ہوشیار پوری نے اس بھاڑ میں بھی ایندھن جھونکا۔ 1938 میں غلام عباس عازمِ دلی ہوئے تو امتیاز علی تاج نے ’’پھول‘‘ اور ’’تہذیبِ نسواں‘‘ کی ادارت حفیظ ہوشیار پوری کو سونپ دی۔حلقہ ارباب ذوق کے بانیوں میں شمار ہوتے تھے۔ اسے تہذیبِ نفس اور تربیت سخن کا زمانہ کہیے مگر یہ کیسی مشق تھی کہ 26 برس کا حفیظ کندن بن کر ریڈیو سٹیشن دلی پہنچا۔ جدید اردو شاعری کی مسیں بھیگ رہی تھیں۔ سخن ورانِ دہلی راشد کی ’’ماورا‘‘ اور میراجی کی سنگلاخ گوئی پر انگشت نما تھے۔ ایک طرف ترقی پسند تحریک پر جوبن پھٹا پڑتا تھا دوسری طرف حلقہ ارباب ذوق میں میلارمے اور بودیلیئر کا اتباع ہو رہا تھا۔ حفیظ نے حکایتِ غمِ دوراں کو غزل کے رنگ میں فسانہء غمِ دل بخشا۔ آبشار اور جوئبار میں بس یہی طرز خرام کا فرق ہوتا ہے۔ آخر الذکر چٹانوں کو توڑتی نہیں،خشک زمینوں کو سیراب کر تی ہے۔نکتہ آرائی کا رنگ دیکھیے،
لب پہ آتی ہے دل سے بات حفیظ
بات دل میں کہاں سے آتی ہے
حفیظ ہوشیار پوری نے اصغر کے جامِ تغزل میں طرزِ حسرت کا شبنمیں اختصار آمیزش کیا۔ حکایتِ دروں اپنی تھی۔ طبعِ مہذب کی سارنگی پر واردات کا گز پھرا تو حفیظ ہوشیار پوری کا نالہ درا ہوا ۔ تقسیمِ ہند کے بعد ایوانِ غزل میں ہجرت کی رقت سے چراغاں کرنے والے تو بہت بعد میں آئے۔ حفیظ کی غزل سے وفاداری اور غم سے استواری اصلِ ایماں تھی۔ یوں حفیظ تارکِ دنیا نہ تھے۔ فن رنگ و بو سے شیفتگی مانگتا ہے مگر شاید وہ اپنے سرمایہ سخن سے پوری طرح مطمئن نہ تھے، ہمیشہ خوب سے خوب تر کی جستجو میں رہے۔یہ موج ِدریا شاعر لذتِ ہنر میں حرف بیاں کو اتنی دیر تک نوکِ خار پہ رکھتا تھا کہ ان کا وقفہ خامشی کہیں کہیں طول کھینچ گیا۔ اس بیچ اُتھلے سخن ور باغ میں دھومیں مچا گئے۔ حفیظ کو نادر کتب سے شغف تھا اور تاریخ کہنے کی چیٹک تھی۔ برجستہ اور بامعنی تاریخ گوئی نے اس عہد میں حفیظ ہوشیارپوری سے نام پایا۔ دو اہم واقعات کا مادہ تاریخ تو ایسا نکالا کہ باید و شاید۔ریڈیو پاکستان کے آغاز کی تاریخ نکالی، ’تری آواز مکے اور مدینے‘۔ لیاقت علی خان کی شہادت پر مادہ تاریخ نکالا ’ صلہ شہید کیا ہے، تب و تاب جاودانہ‘۔ شوکت تھانوی کے عقد ثانی پر بھی طبع آزمائی کی تھی مگر جنگ کی ادارتی حساسیت اس کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ حفیظ کا رنگ تغزل مشاعرے کی سطحیت کا روادار نہ تھا۔ 1947 میں تقسیم کے ہنگام لاہور چلے آئے ۔ یہیں سے ریڈیو پاکستان کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل بنکر 1967میں ریٹائرہوئے۔موت کے بعد مجموعہ کلام شائع ہوا تو رنگِ پذیرائی دیکھ کر ذوالفقار بخاری نے اپنا مجموعہ کلام شائع کرنے سے توبہ کر لی۔ حفیظ ہوشیار پوری ایسے اہلِ کمال کو اس طرزِ تپاک سے کیا فرق پڑتا۔ وہ جیتے جی کہتا تھا ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب، اجڑے گھرآباد‘ اور ہم کہتے ہیں: ’خاک میں موتی رول رہی ہے چشمِ گہر آباد‘۔