امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر مذاکرات ایک بار پھر ہونے جا رہے ہیں۔
’الجزیرہ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بنیادی اختلاف یورینیئم افزودگی (Enrichment) پر پابندی کی مدت بتایا جا رہا ہے جہاں ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکا 20 سال کی پابندی چاہتا ہے جبکہ ایران صرف 5 سال پر آمادہ ہے۔
یورینیئم ایک قدرتی مادہ ہے جسے افزودہ کر کے نیوکلیئر ری ایکٹرز میں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، افزودگی کے عمل میں U-235 کی مقدار بڑھائی جاتی ہے۔
جیسے کہ 20 فیصد تک یورینیئم کا افزودہ ہونا کم مقدار (سویلین استعمال کے لیے موزوں) بتائی جاتی ہے جبکہ 90 فیصد سے زیادہ یورینیئم کا افزودہ ہونا ہتھیار بنانے کے قابل ہو جاتا ہے۔
یہ عمل تیز رفتار سینٹری فیوجز کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 440 کلو گرام 60 فیصد افزودہ یورینیئم موجود ہے جو نظریاتی طور پر 10 سے زائد ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔
’الجزیرہ‘ کے مطابق ایران مؤقف رکھتا ہے کہ اس کا پروگرام صرف توانائی کے حصول کے لیے ہے جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی اسے جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش سمجھتے ہیں۔
2015ء کے جوہری معاہدے (JCPOA) کے تحت ایران نے اپنی سرگرمیاں محدود کر دی تھیں مگر 2018ء میں امریکا اس معاہدے سے نکل گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق امریکا چاہتا ہے کہ ایران طویل عرصے (20 سال) تک افزودگی بند رکھے تاکہ وہ دوبارہ جوہری صلاحیت حاصل نہ کر سکے۔
دوسری جانب ایران کم مدت (5 سال) چاہتا ہے تاکہ وہ اپنی خودمختاری اور ٹیکنالوجی برقرار رکھ سکے۔
رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی ماہرین کا اس صورتِ حال پر کہنا ہے کہ جتنا زیادہ عرصہ افزودگی رکی رہے گی اتنا ہی اسے دوبارہ شروع کرنا مشکل ہو جائے گا۔
اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات اسی اختلاف کی وجہ سے مکمل نہیں ہو سکے تھے۔
امریکی حکام کے مطابق اب فیصلہ ایران کو کرنا ہے جبکہ ایران کم سے کم رعایت دینے کی پالیسی پر قائم ہے۔