• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

روسی افواج کی واپسی کے بعد افغانستان میں محاذ آرائی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا،امریکی حکام سابق افغان حکمران ظاہر شاہ کو واپس لانے کے خواہاں تھے جبکہ پاکستان حکمت یار کو کابل کے تخت پر بٹھانا چاہتا تھا۔ 15فروری 1989کو روسی فوج کا آخری دستہ واپس گیا مگر اس سے تین ماہ پہلے دسمبر1988ء میں پشاور میں افغان عبوری حکومت قائم کی جا چکی تھی۔ افغان جہاد کے اختتام پرآئی ایس آئی کی قیادت جنرل حمید گل سنبھال چکے تھے ۔ ڈی جی آئی ایس آئی بنتے ہی وہ سات جماعتی افغان جہادی تنظیموں کی ملٹری کمیٹی کے چیئرمین بن گئے۔ روسی افواج کی واپسی کے بعد جنرل حمید گل کے دور میں فیصلہ ہوا کہ اب گوریلا جنگ ترک کرکے روائتی لڑائی کا آغاز کردیا جائے۔افغان انٹیریم گورنمنٹ میں عہدے سنبھالنے والے جہادی رہنما ئوں کوڈیورنڈ لائن کے اس پار افغانستان منتقل کرنا سب سے بڑا چیلنج تھا۔چنانچہ ڈی جی آئی ایس آئی جنرل حمید گل نے جلال آباد فتح کرنے کا منصوبہ بنایا۔ایچ جی کیسلنگ اپنی کتاب ’’ٖFaith, Unity Discipline: The ISI of Pakistan‘‘کے صفحہ نمبر68پر لکھتے ہیں کہ 6 مارچ1989ء کو آئی ایس آئی کے افغان بیورو کا ایک اہم ترین اجلاس پشاور میں ہوا۔اس اجلاس میں کوئی افغان نمائندہ نہ تھا البتہ وزیراعظم بینظیر بھٹو ،وزیر خارجہ صاحبزادہ یعقوب علی خان اور امریکی سفیر رابرٹ اوکلے موجود تھے ،یہاں جلال آباد پر دھاوا بولنے کے منصوبے سے اتفاق کیا۔

اس سے قبل مجاہدین وادی کنہڑ میں بری کوٹ اور اسد آباد جیسے شہر فتح کر چکے تھے جس سے انکی خوداعتمادی آسمان کو چھو رہی تھی۔جلال آباد فتح کرنے کیلئے آئی ایس آئی حزب اسلامی کے سربراہ حکمت یارپر انحصار کر رہی تھی ،جنہیں پانچ سے سات ہزار مجاہدین کی فوج تیار کرنےکیلئے بھرپور فنڈز مہیا کئے گئے ۔ جلد ہی ان افغان مجاہدین نے شہر جلال آباد کا محاصرہ کرلیا۔جلال آباد پریلغار کرنے کے پیچھے یہ سوچ کارفرما تھی کہ یہ شہر فتح ہونے کے بعد اگلا پڑائو کابل ہوگا اور یوں روسی باقیات کا صفایا ہوجائیگا۔ مگر یہ مہم بری طرح ناکام ہوگئی۔ حکمت یار کے تین ہزار جنگجو مارے گئے اور باقی بھاگ گئے ۔جلال آباد میں بدترین شکست سے حکمت یار کی صحت پر تو کوئی فرق نہ پڑا ،البتہ جنرل حمید گل کیلئے یہ آپریشن زندگی بھر کا روگ بن گیا۔بینظیر بھٹو نے جنرل حمید گل کو اس ناکامی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے آئی ایس آئی کی سربراہی سے ہٹا دیا۔ بریگیڈیئر یوسف اپنی کتاب ’’The Bear Trap‘‘میں لکھتے ہیں کہ آئی ایس آئی او رپارٹی لیڈرز نے گوریلا جنگ ترک کرکے روائتی جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کرکے اسٹریٹجک بلنڈر کیا۔ جلال آبادکا انتخاب کرکے انہوں نے ایک اور غلطی کی۔ جلال آباد کی ناکامی اس قدر تباہ کن تھی کہ افغان مجاہدین کبھی اس کے اثرات سے باہر نہ نکل پائے۔جب جنرل حمید گل ڈی جی آئی ایس آئی بنے تو افغانستان میں فتح نوشتہ دیوار تھی اور جب گئے تو مجاہدین کی شکست ممکنات میں سے تھی۔ جنرل کے ایم عارف اپنی تصنیف ’’ضیاالحق کے ہمراہ‘‘میں صفحہ نمبر 454پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ سی آئی اے کی شہ پر آئی ایس آئی ڈائریکٹوریٹ نے جلال آباد پر قبضہ کرنے کیلئے مجاہدین کی طرف سے شہر پر حملہ کروادیا۔یہ حملہ بری طرح ناکام ہوا تو آئی ایس آئی ہدف تنقید بن گئی۔ جلال آباد کی مہم جوئی اسٹریٹجی کے اعتبار سے تو احمقانہ تھی ہی ،Tactical levelپر بھی ناقص منصوبہ بندی کی گئی۔ سب تخمینے غلط ثابت ہوئے۔ افغان فوج کے بارے میں یہ توقعات باندھی گئیں کہ مورال ڈائون ہونے کی وجہ سےوہ لڑے بغیر ہی ہتھیار ڈال دئیگی حالانکہ انہیں معلوم تھا کہ لڑنےکے علاوہ کوئی چارہ نہیں ،شکست کی صورت میں جلال آباد مقتل بنا دیا جائے گا۔ افغان فوج کی فضائی برتری کو نظر انداز کردیا گیا۔ ایک طرف ٹینک آگ برسا رہے تھے تو دوسری طرف افغان فضائیہ کے جنگی جہاز کلسٹر بم پھینک رہے تھے ،سکڈ میزائلوں نے بھی اہم کردار اداکیامختصر یہ ہے کہ نہ تو یہ ویتنام تھا اور نہ ہی جنرل حمید گل ،جنرل گیاپ کا کردار ادا کر سکتے تھے،یوں یہ حملہ عسکری اعتبار سے غلطی نہیں بلکہ بہت بڑا بلنڈر ثابت ہوا۔

جلال آباد کی ناکام مہم جوئی کے بعد افغان مجاہدین ایک بار پھر گوریلا جنگ کی طرف لوٹ آئے۔کابل میں نجیب اللّٰہ برسراقتدار تھے اور سرخ پرچم پوری آب و تاب کے ساتھ لہرا رہا تھا ۔جب جنرل(ر) شمس الرحمان کلو آئی ایس آئی کے سربراہ تھے تو مجاہدین نے خوست پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ایچ جی کیسلنگ اپنی کتاب ’’ٖFaith, Unity Discipline: The ISI of Pakistan‘‘کے صفحہ نمبر98پر لکھتے ہیں کہ حکمت یار نے آئی ایس آئی کے تعاون سے افغان وزیر دفاع شاہنواز تنائی سے رابطہ کرکے نجیب اللّٰہ کے خلاف ایک سازش تیار کی۔منصوبہ یہ تھا کہ شاہنواز تنائی کی سہولت کاری سے افغان پائلٹ 9مارچ1990 ء کو کابل میں نجیب اللّٰہ کی رہائشگاہ پر بمباری کریں گے اور افغان صدر کو وہیں پر قتل کردیا جائیگا۔ اس دوران شاہنواز تنائی آرمرڈ کور میں اپنے بااعتماد فوجی دستوں کے ذریعے حکمت یار کے مجاہدین کو کابل کے جنوب کی طرف سے شہر میں داخل ہوکر دارالحکومت فتح کرنے کا موقع فراہم کریں گے۔یہ منصوبہ ناکام ہوگیا تو شاہنواز تنائی کو فرار ہوکر پاکستان آنا پڑا۔ آئی ایس آئی اور حکمت یار کے ساتھ ملکر نجیب اللّٰہ کا تختہ اُلٹنے کی منصوبہ بندی کرنیوالے افغان وزیر دفاع اور آرمی چیف شاہنواز تنائی نے بعد ازاں 2004ء کے صدارتی الیکشن میں حصہ لیا مگر کامیاب نہ ہوسکے۔

تازہ ترین