امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ فوری معاہدے کرنا چاہتے ہیں لیکن ایران پر دباؤ کے آپشنز بھی برقرار ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کے خواہاں ہیں اور پُرامن حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم وہ تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ پابندیوں سمیت دیگر اقدامات بدستور زیرِ غور ہیں۔
’فوکس نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے اسٹیفن ملر نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ امن چاہتے ہیں، وہ ایک معاہدہ چاہتے ہیں، وہ درست راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں، تاہم وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے یا اس کی کوشش کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایران پر پابندی سمیت ہر آپشن میز پر موجود ہے کیونکہ صدر ٹرمپ دنیا کے عوام کے لیے ایک محفوظ اور مستحکم حتمی نتیجہ چاہتے ہیں۔
ادھر وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے اس دعوے کے باوجود کہ دیگر ممالک بھی فوجی کارروائی میں شامل ہوں گے، تاحال کوئی ملک شامل نہیں ہوا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق آپریشن مکمل طور پر کامیابی سے جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک مختصر اور نجی عشائیے کے دوران صدر ٹرمپ نے نیدر لینڈز کے بادشاہ اور ملکہ کو بتایا کہ میں ایران میں جاری جنگ کو جلد از جلد ختم کرنا چاہتا ہوں۔
عشائیے پر جن عہدیداروں کو بریفنگ دی گئی، ان کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے شاہی مہمانوں اور ڈچ حکام کو وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تہران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کا واحد طریقہ اس پر دباؤ میں اضافہ کرنا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی اخبار نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکا نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں مزید ہزاروں فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کا خطے میں ہزاروں فوجی بھیجنے کا مقصد ایران پر معاہدہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔