• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا کا سخت فیصلہ: ’مخالف قوتوں کے حامیوں‘ پر ویزا پابندیاں عائد، 26 افراد متاثر

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

امریکی محکمۂ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ایسے افراد کے ویزے محدود یا منسوخ کیے جا رہے ہیں جو امریکی مفادات کے خلاف ’مخالف قوتوں‘ کی حمایت کرتے ہیں، اب تک 26 افراد کے ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی پالیسی ’ڈونرو ڈاکٹرائن‘ (Donroe Doctrine) کے تحت کیا جا رہا ہے جس کا مقصد امریکی اثر و رسوخ بڑھانا ہے، یہ پالیسی تاریخی ’مونرو ڈاکٹرائن‘ سے متاثر بتائی جاتی ہے۔

محکمۂ خارجہ کے مطابق پابندیاں ان افراد پر لگیں گی جو دشمن قوتوں کو مالی، سیاسی یا دیگر اہم مدد فراہم کرتے ہیں، خاص طور پر ایسے اقدامات میں جو خطے کی سلامتی، معیشت یا خودمختاری کو نقصان پہنچائیں۔

امریکی حکام نے واضح طور پر کسی ملک کا نام نہیں لیا ہے تاہم یہ اقدام خطے میں چین کے بڑھتے اثر اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف مہم کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

اس سے قبل بھی ٹرمپ انتظامیہ ناقدین اور سیاسی شخصیات کے خلاف ویزا پابندیاں عائد کر چکی ہے۔

گزشتہ سال فلسطین کے حامی طلبہ کے خلاف بھی اسی قانون کے تحت کارروائی کی گئی تھی۔

حال ہی میں ایران سے تعلق رکھنے والے کم از کم 7 افراد کے ویزے بھی منسوخ کیے گئے جبکہ بعض لاطینی امریکی رہنماؤں کو بھی نشانہ بنایا گیا جن میں برازیل کے ججز بھی شامل ہیں۔

امریکی قانون کے تحت ایسے غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی لگائی جا سکتی ہے جن سے امریکی خارجہ پالیسی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو۔

رپورٹس کے مطابق ناقدین نے اس پالیسی کو سیاسی دباؤ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات قومی سلامتی اور خطے کے استحکام کے لیے ضروری ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید