ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ ترکیہ پاکستان کی نگرانی میں امن مذاکرات کی مکمل حمایت کرتا ہے، وزیراعظم شہباز شریف کی کوششوں سے خطے میں جنگ رک گئی۔
انطالیہ ڈپلومیسی فورم سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ ہم خطے میں امن کی کوششیں جاری رکھیں گے، غزہ نسل کشی ظاہر کرتی ہے کہ عالمی نظام کس کو بچانے کے لیے ہے، اس جنگ بندی کو امن کے ایک موقع کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
ترک صدر نے کہا کہ ہم 13 برس سے ’’دنیا پانچ سے بڑی ہے‘‘ کے اصول کے تحت عالمی سطح پر نمائندگی کے فقدان کی نشاندہی کر رہے ہیں، جب تک اس بنیادی خلا کو پُر نہیں کیا جاتا عالمی نظام کے بحران کا حل ممکن نہیں، بڑھتی ہوئی ناانصافیاں دنیا کو ایک خطرناک بند گلی کی طرف لے جائیں گی، 40 دنوں تک ہمارے خطے میں جنگ اس تلخ حقیقت کی تازہ مثال ہے۔
صدر اردوان نے کہا کہ اسرائیل کی اشتعال انگیزی سے خطے میں یہ بے معنی اور مہنگی جنگ شروع ہوئی، وزیراعظم پاکستان کی کوششوں سے 15 روزہ جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہیں، غزہ میں نسل کشی عالمی نظام کی ترجیحات اور عملی کردار کو بے نقاب کرتی ہے، امن کا مختصر ترین راستہ سفارت کاری ہے، مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی اسرائیلی کوشش کے خلاف چوکنا رہنا ہوگا۔
ترک صدر نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے حوالے سے ہمارا مؤقف بالکل واضح ہے، خلیجی ممالک کے لیے کھلے سمندروں تک رسائی کا حق محدود نہیں ہونا چاہیے، بین الاقوامی قوانین کے تحت جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنایا جائے۔