• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دس اور گیارہ اپریل کو اسلام آباد میں ہونیوالے ایران اور امریکہ کے مذاکرات محض ایک سفارتی ملاقات نہیں تھے بلکہ ایک ایسے عمل کا آغاز تھے جس نے دنیا کو یہ احساس دلایا کہ کشیدگی کے بیچ بھی راستہ نکالا جا سکتا ہے۔ وہ دو دن دراصل ایک ابتدائی تجربہ تھے، ایک ایسا مرحلہ جس میں دونوں فریقین نے ایک دوسرے کے ارادوں کو پرکھا اپنی سرخ لکیریں واضح کیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ کیا واقعی کوئی درمیانی راستہ موجود ہے یا نہیں۔

اب جب دوسرے دور کی تیاری ہو رہی ہے تو فضا بدل چکی ہے۔ پہلی ملاقات میں احتیاط غالب تھی اس بار توقعات زیادہ ہیں۔ پہلی بار یہ سوال تھا کہ آیا بات چیت ہو بھی سکتی ہے یا نہیں اب سوال یہ ہے کہ کیا کوئی عملی پیش رفت ممکن ہے۔ یہی تبدیلی اس پورے عمل کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر رہی ہے۔ یہ پیش رفت اچانک نہیں ہوئی۔ اسکے پیچھے ایک طویل اور پیچیدہ سفارتی عمل ہے جس میں پاکستان نے غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔ایک ایسا کردار جو روایتی سفارت کاری سے آگے بڑھ کر عملی ثالثی میں تبدیل ہو گیا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف دونوں فریقین کے درمیان اعتماد پیدا کرنے کی کوشش کی بلکہ ان تمام رکاوٹوں کو بھی نرم کرنے کی کوشش کی جو برسوں سے دونوں ممالک کے درمیان دیوار بنی ہوئی تھیں۔

اسلام آباد کا انتخاب بھی محض اتفاق نہیں تھا۔ یہ فیصلہ ایک پیغام تھا۔ ایران کیلئے یہ اعتماد کا اشارہ تھا کہ پاکستان مکمل طور پر کسی ایک بلاک کا حصہ نہیں بلکہ ایک متوازن پوزیشن رکھتا ہے۔ امریکہ کیلئے یہ ایک محفوظ اور غیر متنازع مقام تھا جہاں حساس مذاکرات نسبتاً پرسکون ماحول میں ہو سکتے تھے۔ اور پاکستان کیلئے یہ ایک موقع تھا کہ وہ خود کو صرف خطے کا نہیں بلکہ عالمی سطح کا ایک ذمہ دار ثالث ثابت کرے۔

پہلے دور کے مذاکرات اگرچہ کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچے مگر انہوں نے ایک اہم بنیاد فراہم کی۔ کئی نکات پر نرمی دیکھنے میں آئی کچھ معاملات پر فہم پیدا ہوا اور سب سے اہم بات یہ کہ دونوں فریقین نے دوبارہ بیٹھنے پر آمادگی ظاہر کی۔ سفارت کاری میں یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں ہوتی۔ اکثر تنازعات اسی مرحلے پر ختم ہو جاتے ہیں جہاں پہلا رابطہ ناکام ہو جائے۔

اب دوسرا دور اسی بنیاد پر کھڑا ہے۔ مگر اس بار دبائو زیادہ بڑا ہے۔ مسائل اب بھی وہی ہیں اختلافات اب بھی گہرے ہیں اور اعتماد اب بھی مکمل نہیں۔ لیکن اس کے باوجود ایک تبدیلی ضرور آئی ہے اور وہ یہ کہ دونوں فریقین اب یہ تسلیم کرنے لگے ہیں کہ صرف طاقت کے ذریعے حل ممکن نہیں۔جوہری پروگرام اب بھی سب سے حساس مسئلہ ہے۔ ایران اسے اپنی خودمختاری اور سائنسی ترقی کا حصہ سمجھتا ہے جبکہ امریکہ اسے عالمی خطرہ تصور کرتا ہے۔

اسی طرح آبنائے ہرمز کا مسئلہ بھی ایک مسلسل تنازع ہے جہاں ایران اسے اپنے دفاعی دباؤ کے طور پر استعمال کرتا ہے اور امریکہ اسے عالمی تجارت کیلئے کھلا رکھنے پر زور دیتا ہے۔ یہ دونوں نکات ایسے ہیں جن پر فوری اتفاق مشکل ہے مگر یہی وہ نکات ہیں جنکے بغیر کسی معاہدے کی بنیاد بھی نہیں رکھی جا سکتی۔اس بار ایک اور پہلو بھی اہم ہے، اور وہ ہے علاقائی ماحول۔ خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب اور قطر، اس پورے عمل کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ خطے میں استحکام آئے کیونکہ مسلسل کشیدگی ان کی معیشت اور سلامتی دونوں کیلئے خطرہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی خلیجی قیادت سے ہونے والی ملاقاتیں اس عمل کا ایک اہم حصہ بن چکی ہیں۔

اسی دوران پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کا کردار بھی نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کے خلیجی دورے اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایران کا حالیہ دورہ، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ صرف سفارتی عمل نہیں بلکہ ایک مکمل ریاستی حکمت عملی ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کی بیک ڈور سفارت کاری نے اس عمل کو مزید گہرائی دی خاص طور پر ان ملاقاتوں کے ذریعے جو حساس ترین اداروں کے ساتھ ہوئیں۔خاتم الانبیا فورس کے ہیڈکوارٹر میں ہونے والی ملاقات اس پورے عمل کا ایک اہم موڑ تھی۔ یہ وہ ادارہ ہے جو ایران کی دفاعی حکمت عملی کے مرکز میں ہے اور جہاں سے سپریم لیڈر کی سطح پر فیصلوں کو عملی شکل دی جاتی ہے۔ اس سطح پر رابطہ اس بات کی علامت ہے کہ مذاکرات اب محض ابتدائی مرحلے میں نہیں بلکہ فیصلہ سازی کے قریب پہنچ چکے ہیں۔امریکہ کی طرف سے بھی بیانات میں نرمی دیکھنے میں آئی ہے۔ صدر کی جانب سے یہ اشارہ کہ معاہدہ قریب ہے اور ایران کے جوہری پروگرام میں لچک کے امکانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں فریقین کسی درمیانی راستے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اگرچہ یہ راستہ ابھی واضح نہیں، مگر اس کا وجود ضرور محسوس کیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر اس پیش رفت کو مختلف انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔ کچھ ماہرین اسے ایک نایاب موقع قرار دے رہے ہیں جہاں جنگ کے بعد فریقین مذاکرات کی طرف واپس آئے ہیں جبکہ کچھ کے نزدیک یہ عمل اب بھی غیر یقینی ہے کیونکہ بنیادی اختلافات جوں کے توں ہیں۔ مگر ایک بات پر سب متفق ہیں کہ پاکستان کا کردار اس بار غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔پاکستان کیلئے یہ موقع محض سفارتی کامیابی نہیں بلکہ ایک نئی شناخت کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم اس عمل کے ساتھ خطرات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ سفارت کاری میں معمولی غلطی بھی بڑے نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ اعتماد کا یہ نازک توازن کسی بھی وقت متاثر ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب علاقائی طاقتیں اور عالمی مفادات اس عمل سے جڑے ہوں۔

دوسرا دور اسی لیے زیادہ اہم ہے۔ یہ صرف مذاکرات نہیں بلکہ ایک امتحان ہے صبر کا حکمت کا اور سیاسی بلوغت کا۔ اگر یہ مرحلہ کامیاب ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کا سیاسی نقشہ تبدیل ہو سکتا ہے۔خلیجی ریاستوں کی معیشت عالمی توانائی مارکیٹ اور بین الاقوامی سلامتی کے توازن پر اسکے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ اور پاکستان کے لیے یہ ایک ایسا موقع ہوگا جو اس کے سفارتی مستقبل کو نئی سمت دے سکتا ہے۔

اصل سوال اب یہ نہیں کہ آیا مذاکرات ہوں گے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ کس سمت جائیں گے۔ کیا یہ ایک مکمل معاہدے کی طرف بڑھیں گے یا صرف وقتی سکون فراہم کریں گے؟ اس کا جواب آنے والے دنوں میں ملے گا۔لیکن ایک بات واضح ہے اسلام آباد اب صرف ایک شہر نہیں رہا بلکہ ایک ایسا مقام بن چکا ہے جہاں تاریخ لکھی جا رہی ہے۔ اور اس بار یہ تاریخ جنگ کی نہیں جنگ کے اختتام کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔

تازہ ترین