• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تاریخ کے کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جب دنیا ایک بارود کے ڈھیر پر کھڑی ہوتی ہے اور ایک غلط فیصلہ پوری انسانیت کو آگ میں جھونک سکتا ہے۔ ایسے وقت میں کچھ قومیں خاموش تماشائی بن جاتی ہیں اور کچھ قیادتیں تاریخ کا رخ موڑ دیتی ہیں۔ حالیہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں پاکستان نے یہی کردار ادا کیا۔یہ وہی پاکستان ہے جسے چند برس پہلے تک معاشی مشکلات، سیاسی بے یقینی اور سفارتی دباؤ کے باعث ایک کمزور ریاست سمجھا جاتا تھا۔ سب سے پہلے بھارت کے محاذ کو دیکھیے۔ بھارت خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے، پاکستان کو دباؤ میں رکھنے اور عالمی سطح پر اسے تنہا کرنے کی کوششوں میں مسلسل مصروف تھا۔ مگر پاکستان نے عسکری، سفارتی اور سیاسی سطح پر ایسا جواب دیا کہ نئی دہلی کے غرور کو شدید دھچکا پہنچا۔ جنگی محاذپر بھارت کو ایسی ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا جس نے اس کے تمام دعوے زمیں بوس کر دیے۔ دنیا نے دیکھا کہ پاکستان صرف دفاع نہیں بلکہ بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔اس کے بعد افغانستان کا محاذ سامنے آیا جہاں بھارتی سرپرستی میں دہشت گردی کا ایک منظم نیٹ ورک پاکستان کے خلاف سرگرم تھا۔ سرحد پار سے دہشت گردی، داخلی امن کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں، اور معیشت کو نقصان پہنچانے کے منصوبے جاری تھے۔ پاکستان نے یہاں بھی فیصلہ کن کارروائی کی۔ دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے تباہ کیے گئے، ان کے سہولت کار بے نقاب ہوئے، اور افغانستان کے اندر بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردی کے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ یہ صرف ایک فوجی کامیابی نہیں بلکہ قومی سلامتی کی بحالی تھی۔لیکن اصل امتحان اس وقت سامنے آیا جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ایران پر امریکی حملے اور اسرائیلی دباؤ اس حد تک بڑھ چکے تھے کہ خود ایرانی حلقوں کے مطابق ان کی اعلیٰ قیادت براہِ راست نشانے پر تھی، کئی اہم شخصیات شہید ہوئیں، ایٹمی مراکز تباہ کیے گئے، ایرانی بحریہ کو شدید نقصان پہنچا، ایئر فورس کو مفلوج کر دیا گیا، اور تقریباً دو سو ستر ارب ڈالر کے معاشی نقصان نے ایران کو ہلا کر رکھ دیا۔ اسرائیل کی شدید خواہش تھی کہ ایران کو مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے، اس کا انفراسٹرکچر مٹا دیا جائے اور اسے سو سال پیچھے دھکیل دیا جائے۔یہ صرف ایران کی جنگ نہیں تھی، یہ پورے خطے کے مستقبل کی جنگ تھی۔اگر ایران مکمل تباہی کی طرف جاتا تو اس کے اثرات صرف تہران تک محدود نہ رہتے۔ سعودی عرب، قطر، یو اے ای، کویت، بحرین بلکہ پوری عالمی معیشت اس آگ کی لپیٹ میں آ جاتی۔ آبنائے ہرمز بند ہونے کا خطرہ دنیا کیلئے معاشی تباہی کا اعلان بن چکا تھا۔ تیل کی سپلائی رک جاتی، عالمی تجارت منجمد ہو جاتی اور دنیا ایک نئے بحران میں داخل ہو جاتی۔ اسی نازک لمحے میں پاکستان آگے بڑھا۔وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے خاموش مگر انتہائی مؤثر سفارت کاری کے ذریعے وہ کردار ادا کیا جسے آج دنیا کھل کر تسلیم کر رہی ہے۔ پاکستان نے صرف بیانات نہیں دیے بلکہ عملی طور پر ایران کی جان بچانے والی قیادت کو محفوظ بنانے میں کردار ادا کیا۔ ایسے نام جو اسرائیلی اور امریکی حملوں کی فہرست میں شامل تھے، انہیں محفوظ راستہ دلوانے، حملوں کو محدود کرنے اور مکمل تباہی روکنے میں پاکستان نے فیصلہ کن سفارتی کوششیں کیں۔پاکستان نے امریکہ کو روکا، اسرائیل کے مسلسل دباؤ کے باوجود واشنگٹن کو یہ باور کرایا کہ مکمل جنگ پورے خطے کو آگ میں جھونک دے گی۔ پاکستان نے امریکہ کو ایک محفوظ راستہ بھی فراہم کیا تاکہ وہ عزت کے ساتھ پیچھے ہٹ سکے، اور ایران کو یہ یقین دلایا کہ مذاکرات کا راستہ اب بھی کھلا ہے۔اسی کے ساتھ سعودی عرب، قطر، یو اے ای اور کویت پر ممکنہ حملے رکوائے گئے۔ خطے کے اتحادی ممالک کو محفوظ بنایا گیا۔ آبنائے ہرمز کو کھلوایا گیا تاکہ عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بحال رہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی۔ ایک ایسی جنگ جو تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی تھی، اسے روک دیا گیا۔یہ سب کسی معجزے سے نہیں بلکہ قیادت کے تدبر، صبر اور بروقت فیصلوں سے ہوا۔اس پوری سفارتی جدوجہد میں صرف وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ہی نہیں بلکہ ان کی مضبوط اور متحرک ٹیم نے بھی غیر معمولی کردار ادا کیا۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور دیگر اہم ذمہ دار شخصیات نے چوبیس چوبیس گھنٹے مسلسل رابطوں، عالمی سفارتی محاذ پر مؤثر حکمت عملی، اور پاکستان کے مؤقف کو دنیا بھر میں مضبوط انداز میں پیش کرنے کیلئے بھرپور محنت کی۔ یہی وہ اجتماعی قیادت تھی جس نے پاکستان کو صرف ایک ثالث نہیں بلکہ امن کے ضامن ملک کے طور پر دنیا کے سامنے کھڑا کیا۔آج اگر دنیا پاکستان کو ایک بااثر، ذمہ دار اور طاقتور ملک کے طور پر دیکھ رہی ہے تو اس کی وجہ یہی کردار ہے۔

بلا شبہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر سلام کے مستحق ہیں۔ اگر امن کا نوبل انعام واقعی ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو انسانیت کو جنگ کی آگ سے بچاتے ہیں، جو دشمنوں کے درمیان مذاکرات کا راستہ نکالتے ہیں، اور جو پوری دنیا کو تباہی سے محفوظ رکھتے ہیں، تو جب بھی امن کے نوبل انعام کا فیصلہ ہو، پاکستان کی قیادت کے ان دونوں ناموں کو سنجیدگی سے شامل کیا جانا چاہیے۔تاریخ کے سنہرے اوراق میں یہی لکھا جائے گا کہ ایک وقت آیا تھا جب دنیا جنگ کے دہانے پر کھڑی تھی، اور پاکستان نے آگے بڑھ کر انسانیت کو بچا لیا تھا۔یہی وہ لمحہ ہے جہاں امن کا نوبل انعام صرف ایک اعزاز نہیں بلکہ پاکستان کی قیادت کے کردار کا عالمی اعتراف بن جائے گا۔

تازہ ترین