• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دھرتی کی سچی قدروں سے جڑے لوگوں سے مکالمے کی خواہش مجھے ایک ایسے فرد کے در پر لے گئی جن کو والد کی وساطت سیاست کی چھتری نصیب ہوئی تو انھوں نے اسے اپنی آن بان اور شان وشوکت کا ذریعہ بنانے کی بجائے سائبان میں ڈھالنے کا عزم کیا، رفتہ رفتہ ان کی ذات بھی اس سائبان کا حصہ بن گئی، وہ ایسے سیاستدان بن کر اُبھرے جن کیلئے سیاست اقتدار کا کھیل نہیں خدمت خلق کا وسیلہ ہوتی ہے۔ کئی بار اسمبلی کے رکن بنے مگر وقت اور حالات ان کی شخصیت اور سوچ پر اثر انداز نہ ہو سکے ، جھوٹ کو جھوٹ اور غلط کو غلط ہی کہتے رہے ۔ اسمبلی بحثوں میں لگی لپٹی کی بجائے سچی اور کھری آواز کو ہر کسی نے پسند کیا اور اسے اپنی حقیقی نمائندگی سمجھا ، ظاہری شان وشوکت کی چکاچوند سے بے نیاز فطری ماحول میں خلوص اور اپنائیت کی خوشبو میں مہکتے دفتر میں قدم رکھتے ہی احساس نے خبردار کیا کہ یہ کسی خاص فرد کی بیٹھک ہے۔ شخصیت کی سادگی نے شدید متاثر کیا ،ہر طرف نقابوں میں گھرے لوگوں کے درمیان اپنی اصل کے ساتھ جینے والے باکمال ہوتے ہیں ۔ ذات پر کوئی ملمع کاری، بناوٹ اور تصنع کا رنگ نہیں جو دل میں ہے وہی تاثر چہرے پر اور وہی لفظوں میں ۔سچی بات ہے دل میں ہر لمحے یہی احساس جگمگاتا رہا کہ ایک صوفی کے ڈیرے پر بیٹھی ہوں ،جہاں دوست احباب اور مسائل میں گھری خلقت کیلئے ہر وقت دروازے کُھلے اور دسترخوان بچھا رہتا ہے۔ یہ صوفیانہ وطیرہ ہے اور دھرتی سے جڑت رکھنے والے ہر فرد میں یہ قدریں مشترک ہوتی ہیں لیکن بہت سے لوگ زمانے کے شور میں دل کی آواز اور قدروں کی پاسداری نظر انداز کر کے مصنوعی اور کھوکھلی زندگی گزار کر رخصت اور فراموش ہو جاتے ہیں۔ ہر کسی کیلئےوہاں جگہ ، توجہ ، خوش آمدیدی ماحول اور مہربان لہجہ موجود ہے۔

تقریروں ،نعروں اور تجزیوں میں خود کو محدود کرنے کی بجائے گیارہ تا سات عوام کی ہمراہی میں وقت گزارنا اور مسیحائی کرنا عظیم تر ہے ، لوگوں کی بات ہمدردی سے سننا، ان کے دکھ سکھ میں شریک ہونا، کسی کو مشورہ دینا، کسی کی فوری ضرورت پوری کرنا،یہ سب ان کے روزمرہ کا حصہ ہے۔ سب لوازمات اس ڈیرے میں موجود ہیں ، کوئی چائے پی کر جاتا ہے تو کسی کے ساتھ آٹے کی بوری جاتی ہے۔ کوئی تسلی میں بھیگے لفظ،کوئی حوصلہ افزائی کی تھپکی لے کر نکلتا ہے مگر کوئی خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔

اگرچہ وہ عرصے سے شہر میں رہتے ہیں، مگر ان کی آنکھوں میں دیہات کی سادگی، دل میں فطرت کی تازگی اور رویوں میں دیہاتی علاقوں کی بے لوث قدریں صاف جھلکتی ہیں۔ یہی دیہی احساس ان کی سیاست کو انسان دوستی کے قریب لے آتا ہے۔ بہت سی باتیں ہوئیں ، مگرسیاست کے حوالے سے ان کی ایک بات خاص طور پر دل کو بہت لگی ، ان کا کہنا تھا کہ بڑے رہنما ہر گلی، محلے اور گاؤں تک نہیں پہنچ سکتے مگر مقامی نمائندے یہ ذمہ داری بخوبی ادا کر سکتے ہیں۔مریم نواز جو محنت کر رہی ہیں اس کا پھل تبھی سامنے آئے گا جب مسلم لیگ کا ہر سیاسی نمائندہ اسے اپنی ترجیح بنائے گا۔ ان کے مطابق ممبران اسمبلی کو چاہیے کہ وہ عوام سے مسلسل رابطے میں رہیں، ان کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھیں اور اپنے علاقے کی ترقی کو محض فرض نہیں بلکہ عبادت اور خدمت خلق سمجھ کر انجام دیں۔ کیونکہ اسی میں نہ صرف عوام کی فلاح ہے بلکہ رب کی رضا بھی پوشیدہ ہے۔ پارٹی رہنما آپ کو نہیں دیکھ رہے رب تم کودیکھ رہا ہے ،اس رب کو راضی کرنے کیلئے اسکی مخلوق سے قربت رکھنا بہت ضروری ہے۔ انسان جس جماعت سے وابستہ ہو اس کے ساتھ وفا کرنا سیکھے ،یہ ملاقات اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ سیاست اگر اخلاص، سادگی اور خدمت کے جذبے کے ساتھ کی جائے تو وہ محض اقتدار نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کا ایک مقدس ذریعہ بن سکتی ہے۔

تازہ ترین