جلال آباد کی ناکام مہم جوئی کے بعد جب بینظیر بھٹو کی حکومت برطرف ہوگئی اور جنرل اسد درانی ڈی جی آئی ایس آئی تھے تو حکمت یار کو کابل فتح کرنیکا ٹاسک سونپ دیا گیا۔ اکتوبر1990ء میں 700ٹرکوں پر مشتمل ایک کانوائے پشاور سے کابل کی طرف روانہ ہوا، ان ٹرکوں میں موجود 40ہزار راکٹ حکمت یار کو پہنچائے جانے تھے۔ منصوبہ یہ تھا کہ حزب اسلامی کے سربراہ حکمت یار کابل پر فیصلہ کن حملہ کرنے سے پہلے راکٹوں کی بارش کرکے شہر کو تہس نہس کر دینگے۔ حکمت یار کے علاوہ باقی سب افغان کمانڈر اس حکمت عملی کیخلاف تھے۔ اسلام آباد میں موجود سی آئی اے کے اسٹیشن چیف بھی ان حملوں کے حق میں نہ تھے۔ آخر کار امریکی سفیر رابرٹ اوکلے نے صدر جارج بش اول کا پیغام پہنچایا کہ حکمت یار کو اس مہم جوئی سے نہ روکا گیا تو پاک امریکہ تعلقات متاثر ہونگے۔ امریکی صدر کی دھمکی کام کر گئی اور یوں یہ منصوبہ ،جسے ”تنائی ٹو“ کہا جاتا ہے، منسوخ کرنا پڑا۔ یہ ڈاکٹر نجیب اللہ کا دور تھا۔ ڈاکٹر نجیب اللہ جو صوبہ پکتیا کے علاقے گردیز میں پیدا ہوئے، انکا تعلق پشتونوں کے احمد زئی قبیلے سے تھا۔ نجیب اللہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر تھے مگر انقلابی سوچ انہیں سیاست کی طرف کھینچ لائی۔ انقلاب ثور کے بعد جب نور محمد ترکئی قد آور شخصیات کو کھڈے لائن لگا رہے تھے تو نجیب اللہ کو بھی ایران میں سفیر بناکر کابل سے دور بھیج دیا گیا۔ 27دسمبر1979ء کو روسی مداخلت کے بعد ببرک کارمل نے عنان اقتدار سنبھال لی تو ڈاکٹر نجیب اللہ کو افغان خفیہ ادارے ”خاد“ کا سربراہ بنادیا گیا۔4مئی 1986ء کو ڈاکٹر نجیب اللہ کو PDPAکا سیکریٹری جنرل بنایا گیا اور پھر 13نومبر1986ء کو ببرک کارمل کی سبکدوشی کے بعد ڈاکٹر نجیب اللہ کا دور شروع ہوگیا۔
ڈاکٹر نجیب اللہ نے کئی انقلابی نوعیت کے اقدامات کئے، مثال کے طور پر انہوں نے ولور کی روایت کو ختم کیا، جاگیر داری نظام پر کاری ضرب لگائی، 29نومبر 1987ء کو افغانستان میں نیا آئین نافذ کیا گیا جسکے تحت انقلابی کونسل کو ختم کرکے قومی اسمبلی تشکیل دی گئی۔ ملک کا نیا نام ”ڈیموکریٹک ری پبلک آف افغانستان“رکھا گیا۔ڈاکٹر نجیب نے حالات کی نزاکت محسوس کرتے ہوئے بعض سیاسی نوعیت کے اقدامات کئے،مثال کے طور پر سود پر پابندی عائد کردی،آئین میں ترمیم کرکے اسلام کو افغانستان کا سرکاری مذہب قرار دیا،ایک اور آئینی ترمیم یہ کی گئی کہ سربراہ ریاست مسلمان ہوگا۔افغان صدراپنے نام میں سےلفظ اللہ کو حذف کرچکے تھے مگر اب پورا نام نجیب اللہ لکھنا شروع کردیا تاکہ افغان مجاہدین کا اثر و رسوخ کم کیا جا سکے۔ غیرملکی امداد دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے حالات خراب ہو رہے تھے اور ڈاکٹر نجیب اللہ پر اقتدار چھوڑنے کیلئے دباؤ بڑھ رہا تھا۔شیر پنجشیر احمد شاہ مسعود اور صبغت اللہ مجددی سمیت 15جہادی تنظیموں کے جنگجو کابل کی طرف پیشقدمی کر رہے تھے اور ڈاکٹر نجیب اللہ کے قریبی ساتھی ان سے ہاتھ ملا چکے تھے۔پہلے عبدالرشید دوستم نے نجیب اللہ کا ساتھ چھوڑا،پھر وزیر خارجہ عبدالوکیل اور آرمی چیف محمد نبی عظیمی نے دھوکہ دیا۔ڈاکٹر نجیب اللہ کی اہلیہ اور بیٹیاں پہلے ہی بھارت روانہ ہو چکی تھیں اور اب نجیب اللہ بھارت میں پناہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔انہوں نے اقوام متحدہ کے نمائندے بنین سیون سے رابطہ کیا۔بھارت کے سابق سفارتکار ایم کے بھدر کمار نے اخباردی ہندوکے 15 مئی، 2011 کے شمارے میں لکھا کہ ’بنین سیون نے بھارت سے نجیب اللہ کو سیاسی پناہ فراہم کرنے کی درخواست کرنے سے پہلے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سے یہی درخواست کی‘۔کچھ دیر بعد ہی بھارتی وزیراعظم نرسیما راؤ نے گرین سگنل دے دیا کہ بھارت نجیب اللہ کا استقبال کرنے کو تیار ہے۔ یوں 17 اپریل 1992 کی رات تین کاروں کے قافلے میں، نجیب اللہ نے کابل ایئرپورٹ کا رخ کیا۔ نجیب اللہ کے ہمراہ ان کے چیف آف اسٹاف جنرل توخی بھی تھے۔ رات پونے دو بجے ڈاکٹر نجیب اللہ بھارت جانےکیلئے روانہ ہوئے۔
اقوام متحدہ کے عہدیدار فلپ کورون اپنی کتاب ’ڈومڈ اِن افغانستان - اے یو این آفیسرز میموائرز آف دی فال آف کابل اینڈ نجیب اللہ فیلڈ اسکیپ ‘میں اس دن کے بارے میں لکھتے ہیں کہ جب ہم آخری چوکی پر پہنچے تو اب وہاں موجود سکیورٹی اہلکار نے جو کوڈ ورڈ چل رہا تھا اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ڈین نے کئی بار کوڈ ورڈ دہرایا لیکن فوجیوں نے ہماری گاڑی کو آگے نہیں بڑھنے دیا۔اچانک کوئرک نے دیکھا کہ ان فوجیوں نے دوسری وردی پہن رکھی ہے۔ کوئرک اور کورون نے اندازہ لگایا کہ عبدالرشید دوستم کے ساتھی راتوں رات ہوائی اڈے پر قابض ہو چکے ہیں۔ اسی دوران کار کے ڈرائیور نے ہوائی اڈے پر بینن سے رابطہ کیا جو رن وے پر اقوام متحدہ کے طیارے میں بیٹھے نجیب اللہ کا انتظار کر رہے تھے۔انھوں نے بتایا کہ وہاں موجود فوجیوں نے طیارے کو چاروں طرف سے گھیرا ہوا ہے۔ادھر نجیب نے گاڑی کے اندر سے فوجیوں پر چیخنا شروع کر دیا۔ ان کی آواز بلند تھی لیکن سارجنٹ نے جواب دیا کہ اگر انھیں آگے جانے کی اجازت دے بھی دی جائے تو پورا عملہ ہوائی اڈے پر مارا جائے گا کیونکہ دوستم کے سپاہی کسی کو ہوائی اڈے میں داخل ہونے کی اجازت نہیںدے رہے۔چند منٹ تک اپنی بات سمجھانے کی ناکام کوششوں کے بعد، نجیب اللہ نے گاڑیاں واپس موڑنے کا فیصلہ کیا۔ ڈرائیور نے پوچھا،کیا ہم آپ کو آپکی رہائش گاہ پر لے جائیں، نجیب نے چیخ کر کہا نہیں، ہم اقوام متحدہ کے احاطے میں جائیں گے۔ ان کا خیال تھا کہ اگر وہ اپنے گھر واپس جاتے ہیں تو جن لوگوں نے انھیں کابل ایئرپورٹ پر نہیں جانے دیا وہ انھیں جان سے مار ڈالیں گے۔ رات کے دو بجے کاروں کا قافلہ اقوام متحدہ کے صدر دفتر کی طرف روانہ ہو گیا۔‘عبدالوکیل نے ریڈیو کابل پر ایک پیغام نشر کیا اور اعلان کیا کہ ’فوج نے نجیب اللہ کے ملک سے فرار کی کوشش ناکام بنا دی ہے اقوام متحدہ کے عملے نے، بھارتی سفیر ستیش نمبیار کو اطلاع دی کہ نجیب کو دوستم کے فوجیوں نے روک لیا ہے۔نمبیار صبح چار بج کر45منٹ پر اقوام متحدہ کے دفتر پہنچے۔ اس دن نجیب اللہ سے ملنے والے وہ پہلے غیرملکی تھے۔