جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی فوجی کی جانب سے حضرت عیسیٰ ؑ کے مجسمے کو ہتھوڑے سے توڑنے کی تصویر وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔
’الجزیرہ‘ کے مطابق مذکورہ تصویر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 5 ملین سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے، یہ مجسمہ لبنان کے سرحدی گاؤں دبل کے قریب نصب تھا۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے آج صبح اپنے بیان میں تصویر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک فوجی کی تصویر ہے جو جنوبی لبنان میں کارروائی کے دوران موجود تھا۔
اسرائیلی فوج کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور نتائج کی روشنی میں متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
اسرائیلی پارلیمان کے رکن ایمن عودہ نے طنزیہ ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ شاید حکام یہ مؤقف اختیار کریں کہ فوجی کو حضرت عیسیٰ ؑ سے خطرہ محسوس ہوا تھا۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ کے ایک اور رکن احمد طیبی نے کہا ہے کہ جو عناصر مساجد اور گرجا گھروں کو نشانہ بناتے ہیں وہ ایسے اقدامات سے نہیں ہچکچاتے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سماجی کارکنان اور ماہرین نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذہبی مقامات اور علامات پر حملوں پر عالمی خاموشی تشویش ناک ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق گزشتہ عرصے میں مذہبی مقامات پر حملوں کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں جن میں مساجد اور گرجا گھر شامل ہیں جبکہ اسرائیلی فوج کی جانب سے بعض علاقوں میں مذہبی شخصیات اور علامات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔