• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

(پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کے کپتانوں کی سرگزشت)

مصنّف: محمّد سجّاد خان

صفحات: 316، قیمت: 1500 روپے

ناشر: فضلی بُک، اردو بازار، کراچی۔

فون نمبر: 2633887 - 0336

محمّد سجّاد خان چلتے پِھرتے’’کرکٹ انسائیکلوپیڈیا‘‘ ہیں۔ اِس سے قبل اُن کی جاوید میاں داد سے متعلق بھی ایک معلوماتی کتاب شایع ہوچُکی ہے، جب کہ اِس بار اُنھوں نے اُن کھلاڑیوں کی کہانیاں بیان کی ہیں، جو پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کی قیادت کرچُکے ہیں۔ کتاب کی ابتدا میں کرکٹ کے آغاز اور پاک و ہند میں اس کی شروعات سے متعلق خُوب صُورت مضمون تحریر کیا ہے، پھر ایک روزہ میچ، ٹی ٹوئنٹی اور عالمی کپ کی ابتدا پر معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

سجّاد خان نے میاں محمّد سعید، عبدالحفیظ کاردار، فضل محمّد، امتیاز احمد، جاوید برکی، حنیف محمّد، سعید احمد، انتخاب عالم، ماجد خان، مشتاق محمّد، وسیم باری، آصف اقبال، جاوید میاں داد، عمران خان، ظہیر عباس، وسیم اکرم، سلیم ملک، وقار یونس، رمیز راجا، سعید انور، عامر سہیل، معین خان، راشد لطیف، انضمام الحق، شعیب ملک، محمّد یوسف، یونس خان، شاہد آفریدی، سلمان بٹ، مصباح الحق، محمّد حفیظ، اظہر علی، سرفراز احمد، بابر اعظم، محمّد رضوان اور شان مسعود کا نہ صرف کرکٹ ریکارڈ درج کیا ہے، بلکہ اِن کپتانوں کے حالاتِ زندگی بھی بیان کیے ہیں۔ نیز، اُنھوں نے کھلاڑیوں سے متعلق اپنا تجزیہ بھی پیش کیا ہے۔

مثال کے طور پر شاہد آفریدی سے متعلق لکھا ہے۔’’ کہا جاتا ہے کہ وہ فطری طور پر جلد باز ہے۔ اس میں برداشت کی کمی ہے۔ گو کہ اُس نے ٹیسٹ کرکٹ میں کافی جدوجہد بھی کی، مگر یہ بھی سچ ہے کہ ٹیسٹ میچ اُس کی طبیعت سے لگا نہیں کھاتا۔‘‘ یوں یہ کتاب محض اعداد و شمار یا کرکٹ ریکارڈ کی کوئی’’نوٹ بُک‘‘ نہیں ہے، بلکہ اِس کھیل کی پوری ایک تجزیاتی تاریخ ہے۔

معروف اسپورٹس جرنلسٹ، قمر احمد کا کہنا ہے کہ’’یہ کتاب ایک مستند حوالہ ہے، جو قومی ٹیم کی قیادت کی تاریخ کو محفوظ کرتی ہے۔‘‘ پرویز بلگرامی کے مطابق’’سجّاد خان کی تحریروں میں ایک ندرت، عُمدہ شستگی ہے، وہ مختصر سی تحریر میں مکمل نکات لے آتے ہیں‘‘ جب کہ اقبال اے رحمٰن کی رائے میں’’اِس کتاب میں کھلاڑی اور حالات و واقعات کے ضمن میں کھلاڑیوں کی گروہ بندی، نوک جھونک، سیاست، ضد، اَنا پرستی اور بہت کچھ زیرِ بحث آیا ہے، مگر اِن سب سے بلند تر جذبۂ حب الوطنی کی ڈور ہے، جس سے ہر کھلاڑی بندھا نظر آتا ہے اور اِس ڈور کا حُسنِ بیان کتاب کی جان ہے۔‘‘

سنڈے میگزین سے مزید