• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹرمپ کی غیر یقینی حکمتِ عملی: ایران جنگ ختم کرنے کی کوشش یا بڑھتا ہوا دباؤ؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ---فائل فوٹو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ---فائل فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی میں متضاد رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں جہاں ایک طرف وہ سخت بیانات دے رہے ہیں اور دوسری جانب مستقل امن معاہدے کی خواہش بھی ظاہر کر رہے ہیں۔ 

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے 2 ہفتے مکمل ہونے کے قریب ہیں اور امریکی صدر اس صورتِ حال سے نکلنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں۔

این ڈی ٹی وی نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کو خدشہ ہے کہ یہ تنازع 1979ء کے ایرانی یرغمالی بحران جیسی صورتِ حال اختیار کر سکتا ہے جو امریکی خارجہ پالیسی کی بڑی ناکامیوں میں شمار ہوتا ہے۔

اسی وجہ سے ان کے قریبی معاونین اہم معلومات کو محدود انداز میں ان تک پہنچا رہے ہیں تاکہ ان کی بے صبری فیصلہ سازی پر اثر انداز نہ ہو۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مارچ میں ایران کی جانب سے ایک امریکی لڑاکا طیارہ مار گرائے جانے کے بعد صدر ٹرمپ نے شدید ردعمل دیا تھا اور فوری طور پر اہلکاروں کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا تاہم زمینی حقائق کے باعث یہ عمل پیچیدہ رہا۔

بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ جنگ میں امریکی فوجیوں کے جانی نقصان سے بھی پریشان ہیں اور طویل تنازع سے بچنا چاہتے ہیں، اس کے باوجود وہ بعض اوقات قومی سلامتی ٹیم کی مشاورت کے بغیر سخت بیانات جاری کرتے رہے ہیں جنہیں ان کے مشیر مذاکرات پر دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی قرار دیتے ہیں۔

این ڈی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ سخت اور غیر متوقع رویہ ایران کو مذاکرات پر آمادہ کر سکتا ہے، ساتھ ہی وہ جنگی کارروائیوں میں نشانہ بنائے گئے ایرانی اہداف کو کامیابی کا پیمانہ بھی سمجھ رہے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید