• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی، مشہور میوزک بینڈ کی امریکی پالیسیوں پر انوکھے انداز میں تنقید

—فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا
—فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا 

امریکا کے مشہور راک بینڈ ’دی اسٹروکس‘ نے کوچیلا میں اپنی پرفارمنس کے اختتام پر امریکی پالیسیوں پر انوکھے انداز میں تنقید کی اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے حوالے سے ایک اہم سیاسی پیغام بھی دیا۔

دی اسٹروکس نے اپنی پرفارمنس کے اختتام پر اسٹیج پر ایک ویڈیو مونٹیج دکھایا، جس میں سی آئی اے پر متعدد ممالک میں ’رجیم چینج‘ کرنے کا الزام لگایا گیا، مونٹیج میں غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری اور ایران پر امریکی حملوں کے مناظر بھی دیکھنے کو ملے۔

جیسے ہی بینڈ کی پرفارمنس ختم ہوئی ساتھ ہی اسٹیج پر لگی بڑی ایل ای ڈی اسکرینز پر مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ امریکی بم باری کی فوٹیج چلا دی گئی۔ 

ویڈیو کے ایک کیپشن میں لکھا تھا کہ ’ایران میں 30 سے ​​زیادہ یونیورسٹیاں تباہ کر دی گئیں‘، اس کے بعد ویڈیو میں غزہ کی ایک عمارت کو منہدم کیے جانے کی تصویر کے کیپشن میں لکھا تھا کہ ’یہ غزہ میں موجود آخری یونیورسٹی تھی‘۔

غلامی کے دور سے لے کر امریکا کی جانب سے ایران پر کیے گئے حالیہ میزائل حملوں تک، اس مونٹیج کا زیادہ تر حصہ متعدد ممالک میں امریکی مداخلت پر مرکوز تھا۔

مونٹیج میں سی آئی اے کے کئی ممالک کے حکمرانوں کے قتل میں ملوث ہونے کا انکشاف بھی کیا گیا ہے۔

امریکی راک بینڈ کے اس اقدام کو سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے سراہا جا رہا ہے اور کوچیلا کے اسٹیج کا استعمال امریکی مظالم کے خلاف آواز اُٹھانے کے لیے کرنے پر شکریہ بھی ادا کیا جا رہا ہے۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید