• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسرائیل سے معاہدہ معطل کرنے پر یورپی اتحاد میں شدید اختلاف: 42 ارب یورو کی تجارت رکاوٹ بن گئی

---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا

یورپی ممالک کے درمیان اسرائیل کے ساتھ تجارتی اور تعاون کا معاہدہ معطل کرنے کے معاملے پر شدید اختلافات سامنے آ گئے۔

عرب میڈیا کے مطابق اسپین، آئر لینڈ اور سلووینیا نے معاہدہ معطل کرنے کی تجویز پیش کی ہے مگر جرمنی اور اٹلی نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے اسے روک دیا ہے۔

اسرائیل کے خلاف غزہ اور مغربی کنارے میں کارروائیوں پر عالمی سطح پر تنقید بڑھ رہی ہے جہاں 2023ء سے اب تک 72000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، اس کے باوجود یورپی اتحاد مشترکہ مؤقف اختیار کرنے میں ناکام ہے۔

2000ء میں نافذ ہونے والا یہ معاہدہ اسرائیل کو یورپی منڈی تک آسان رسائی اور کم محصولات جیسی سہولتیں دیتا ہے، 2024ء میں اسرائیل اور یورپی ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 42.6 ارب یورو رہا۔

عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کی جزوی معطلی سے اسرائیل کی تقریباً 5.8 ارب یورو کی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں۔

معاہدے میں انسانی حقوق کی پابندی شرط ہے اور اسی بنیاد پر اسے نشانہ بنایا جا رہا ہے، یورپی عوام کی جانب سے 10 لاکھ سے زائد دستخط اس معاہدے کی معطلی کے لیے جمع ہو چکے ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق اختلافات کی بڑی وجہ یورپی ممالک کی مختلف تاریخیں اور سیاسی مؤقف ہیں، جرمنی دوسری جنگِ عظیم کے پسِ منظر میں اسرائیل کی حمایت کرتا ہے جبکہ آئر لینڈ فلسطینیوں کے حق میں ہے۔ 

معاہدہ معطل کرنے کے لیے تمام 27 ممالک کی منظوری ضروری ہے جو فی الحال ممکن نہیں۔

ادھر اسرائیل نے یورپ کے دائیں بازو کی حکومتوں سے قریبی تعلقات قائم کر رکھے ہیں جس سے اسے یورپی پابندیوں سے تحفظ ملتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق معاہدے کی مکمل معطلی مشکل دکھائی دیتی ہے تاہم کچھ یورپی ممالک الگ الگ اقدامات کر رہے ہیں جن میں دفاعی معاہدوں کی معطلی اور بستیوں سے آنے والی مصنوعات پر زیادہ محصولات لگانے کی تجاویز شامل ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
تجارتی خبریں سے مزید