مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف جنسی تشدد اور ہراسانی کے واقعات میں اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اس تشدد اور ہراسانی کو فلسطینیوں کو گھروں سے بے دخل کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق اردن وادی کے علاقے میں رہنے والے 29 سالہ قُصیٰ ابو القبش نے بتایا ہے کہ 13 مارچ کو درجنوں آبادکاروں نے ہماری بستی پر حملہ کیا، ہمیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور جنسی زیادتی کی۔
متاثرہ شخص کے مطابق حملہ آوروں نے ناصرف ہمیں برہنہ کیا بلکہ دھمکیاں بھی دیں کہ اگر علاقہ نہ چھوڑا تو دوبارہ حملہ کریں گے، اس واقعے کے بعد شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق جو تقریباً 3 سال کے واقعات پر مبنی ہے، بے دخلی کا سامنا کرنے والے 70 فیصد خاندانوں نے بتایا ہے کہ خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی دھمکیاں ان کے علاقے چھوڑنے کی بڑی وجہ بنیں تاہم خوف اور سماجی دباؤ کے باعث بہت سے واقعات رپورٹ نہیں ہو پاتے۔
جنین کی 60 سالہ خاتون نے بتایا کہ مجھے فوجی چیک پوائنٹ پر زبردستی کپڑے اتارنے پر مجبور کیا گیا، یہ واقعہ میری زندگی کا سب سے زیادہ توہین آمیز تجربہ تھا۔
ہیبرون سمیت مختلف علاقوں میں خواتین اور بچوں کو روزانہ کی بنیاد پر ہراسانی کا سامنا ہے جس کے باعث کئی لڑکیاں تعلیم چھوڑنے اور خواتین کام ترک کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق قیدیوں کے حوالے سے بھی سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔
ایک صحافی نے دعویٰ کیا ہے کہ دورانِ حراست مجھے بدترین تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جبکہ طبی سہولت بھی فراہم نہیں کی گئی۔
عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل ان الزامات کو انفرادی واقعات قرار دیتا ہے اور کسی منظم پالیسی کی تردید کرتا ہے۔