• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تعلیمی سرگرمیوں کیلئے مشہور گاؤں کے قدیم اسکول میں اساتذہ کی کمی ہو گئی۔ چنانچہ سابق طالب علموں کی تنظیم (Alumni) نے اچھے اساتذہ کی بھرتی کیلئے بھرپور مالی اعانت فراہم کر دی۔ اس دوران اپنی ملازمتوں سے ریٹائر ہونیوالے تنظیم کے ممبران بھی وقتاً فوقتاً بطور مہمان لیکچرر اپنی رضاکارانہ خدمات فراہم کر رہے ہیں اور اس مادرِ علمی کے نونہالوں کو اپنی عملی زندگی کے تجربات سے نہ صرف مستفیض کر رہے ہیں، بلکہ یوں نئی اور پرانی نسل کے درمیان پل کا تعلق بھی قائم ہو گیا ہے۔ گزشتہ ماہ اس اسکول کی نویں کلاس کیلئے ایسے ہی لیکچر کی باری تھی جس کا موضوع تھا: ’’حصولِ تعلیم کے بعد کس شعبہ اور ملک میں جا کر آپ انسانیت کی خدمت کریں گے؟‘‘ محنت کش اور چھوٹے کسان گھرانوں کا پس منظر رکھنے والی اس کلاس کے طلباء کیلئے یہ سوال ذرا مشکل ضرور تھا، لیکن اکثریت نے ’’روایتی حب الوطنی‘‘ کے جذبہ سے ڈاکٹر، انجینئر اور فوج کے شعبوں کو اختیار کرنے کا عندیہ دیا، تاکہ وہ ملک و قوم کی خدمت کر سکیں اور دفاع کر سکیں۔ لیکن آخر میں چہرے پر سپاٹ سنجیدگی لئے ایک بچے کے جواب نے سب کو چونکا دیا، جس کا کہنا تھا کہ وہ اپنے خاندان کے ہمراہ زمانۂ پتھر کی طرف لوٹنا چاہتا ہے۔ طالب علم سے سوال کیا گیا کہ پتھر کے زمانے میں لوٹنے سے آپ لوگوں کو کیا فائدہ ہو گا؟ اس کا سادہ جواب تھا: سر! سنا ہے کہ اس زمانے میں انسان ہر روز شکار کے گوشت پر گزارہ کرتے تھے۔ ڈاکٹروں کی ہدایت کے برعکس روزانہ کی بجائے ہم اپنے باپ کیلئے ایک بار بھی مہنگے گوشت کا بندوبست نہ کر سکے تاکہ وہ اپنی بیماری کا مقابلہ کر سکے۔ سنا ہے پتھر کے زمانوں میں زرعی زمینوں کی ملکیت نہیں ہو تی تھی، ناجائز قبضوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تاتھا۔ سنا ہے پتھر کے زمانے میں لوگ مہنگے گھروں کی بجائے خانہ بدوش زندگی بسر کرتے تھے۔ خونی رشتے اور قبیلے کے افراد ملکیتوں اور وراثتوں کے معاملوں میں آپس میں دُشمنیاں نہیں رکھتےتھے۔ نہ وہاں جائیداد کی حرص ہوتی تھی، نہ وہاں بااثر لوگوں اور ملکوں کو شوق حکمرانی کی فکر۔ بچے کی وضاحت سے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ موجودہ عالمی سیاسی حالات اور استحصالی نظام سے کتنی واقفیت رکھتا ہے اور اس سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے اور جدید سہولیات کو چھوڑ کر پرانے لیکن پُرامن زمانے میں مراجعت چاہتا ہے۔ مہمان مقرر کی تھوڑی سی مزید حوصلہ افزائی کے بعد اکثر دیگر طلباء بھی اپنی مظلوم کہانیاں سنانے کیلئے بے تاب تھے، لیکن مقرر نے اس انقلابی فضا کو کمال احتیاط سے علمی لیکچر میں تبدیل کر دیا اور انسانی تاریخ کے ارتقائی مراحل کا دلچسپ بیان شروع کر دیا۔کلاس کو آگاہ کیا گیا کہ پتھر کا زمانہ جو تیس لاکھ سال سے شروع ہو کر گزشتہ تقریباً تیرہ ہزار سال تک محیط ہے اس کو ہم پتھر کے ابتدائی، وسطی اور جدید زمانوں میں تقسیم کر سکتے ہیں جن کے دوران انسان نے پتھروں سے آگ پیدا کی۔ پتھر کے اوزاروں سے جنگلی جانوروں کا شکار کیا تاکہ خوراک کا اہتمام ہو۔ تب انسان 25 سے 50افراد پر مشتمل خانہ بدوش گروہوں کی صورت میں اللّٰہ کی زمین پر آزادانہ گھومتا پھرتا تھا، بود و باش اختیار کرتا تھا۔ اس میں محض جسمانی طاقت ہی اس کا سہارا نہ تھی، بلکہ دماغی خوبیاں بھی زیراستعمال تھیں۔ پتھر کے ابتدائی، وسطی اور آخری ادوار تک انسان کی ساری کاوشیں نسل انسانی اور ماحولیاتی بقا کیلئے تھیں۔ لیکن افسوس پتھر کے ’’پسماندہ‘‘ زمانے کے مقابلے میں آج کے جدید انسان نے اپنی عقل اور وسائل کو بنی نوع انسان کو تسخیر کرنے پر لگایا ہوا ہے تاکہ اپنی نسلوں کیلئے مال و اقتدار پر ہمیشہ ملکیت کی ضمانت حاصل کر سکے۔آج بڑی طاقتوں کے راہنماؤں کو اپنے ملکوں کی کثیر تعداد یونیورسٹیوں پر بڑا فخر ہے کہ جنکی تحقیقی علمی کاوشیں مظلوم اقوام کو چند لمحوں میں خاکستر کر سکتی ہیںاور انہیں پتھر کے زمانے میں واپس دھکیل سکتی ہیں۔ لیکن افسوس ان دھمکیوں حربی صلاحیتوں سے یہ نام نہاد عالمی سربراہ پتھر کے زمانہ کے قدیم، امن پسند اور ماحول دوست انسان کی نسبت خود کو کمتر ثابت کر رہے ہیں۔ پتھر کے زمانہ میں جو حیاتیاتی نظام کارفرما تھا، اس Ecology میں دو ہی فریق تھے، ایک انسان جو اپنی محنتوں اور مشقتوں پر یقین کرتا تھا اور دوسرا فریق اس کی ماحولیات، جس میں چرند، پرند اور نباتات شامل تھے جنہیں انسانی ہاتھوں اپنی بربادی کا خوف نہ تھا۔ لیکن افسوس موجودہ جدیدیت میں ایک تیسرا فریق بھی وجود میں آ گیا جس نے ناجائز ذرائع سے وسائل اکٹھے کر لئے ہیں۔ ایسے گروہوں نے عالمی طاقتوں کی پشت پناہی شروع کر دی ہے۔ عالمی طاقتوں اور مالیاتی اداروں پر قابض انسانی گروہوں نے غریب ملکوں پر جنگیں مسلط کی ہوئی ہیں اور اپنے ایٹمی اسلحہ اور بارودی ذخائر کی تباہ کاریوں یا دھمکیوں سے پتھر کے زمانے سے خوف زدہ کر رہے ہیں۔ پتھر اور موجودہ زمانے کے اس تقابلی جائزےکے بعد صاحب لیکچرسے ایک طالب علم نے سوال کیا کہ ہم کیسے دوبارہ امن دوست، ماحول دوست پتھر کے زمانے کی طرف لوٹ سکتے ہیں۔ تو ازراہِ تفنن انہیں جواب دیا گیا کہ اگر پوری کلاس کی خواہش ہو تو پتھر کے زمانے کی دھمکیاں دینےوالے عالمی سربراہ سے ہم سب درخواست کریں، بے شک آپ ہمیں اپنے آباء کے پتھر کے زمانے میں پہنچا دیں، لیکن قتل و خون ریزی اور تباہی و بربادی کے بعد نہیں بلکہ باہمی رضا و رغبت سے۔ اس کیلئے آپ اپنی عظیم یونیورسٹیوں اور آئی ٹی سرمایہ کاروں کی خدمات حاصل کریں جو مصنوعی ذہانت کے طریقوں سے ایسے فارمولے وضع کریں تاکہ تمہارے نظامِ سرمایہ داری اور جنگ و جدل سے نالاں انسان خوش دلی سے پتھر کے زمانے کی طرف لوٹ جائیں۔ اس کیلئے غریب عوام اپنے بچے کھچے وسائل سے دستبردار ہونے کو تیار ہیں۔

تازہ ترین