میرے محلے میں ایک حلوائی کی بہت مشہور دکان ہے۔اسکی مٹھائی صرف مجھے نہیں، ہر ایک کو بہت پسند ہے۔ چنانچہ اس کے ہاں ہر وقت شائقین کا ایک جمگھٹا سا لگا رہتا ہے۔ اسکی ایک برانچ ایک دوسرے علاقے میں بھی ہے، میرا بھی ادھر سے گزر ہو اور اچانک مٹھائی کی طلب محسوس ہو تو میں وہاں کھڑے کھڑے لذت کام و دہن کا انتظام کر لیتا ہوں خصوصاً اسکی جلیبیوں کا تو جواب نہیں ، کیسی خستہ اور شیریں ہوتی ہیں۔ آج صبح گھر سے نکلتے وقت میں نے دیکھا کہ ایک موٹر سائیکل سوار کے پیچھے بیٹھا ایک شخص سر پر ایک بڑا سا تھال اٹھائے ہوئے ہے اور تیزی سے رواں دواں ہے۔ پتہ چلا کہ برانچ سے تازہ جلیبیوں کا آرڈر آیا تھا جو فوری طور پر وہاں پہنچانے کے لئے موٹر سائیکل سوار کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ کافی پلی ہوئی مکھیاں جلیبیوں کا پیچھا کر رہی تھیں، ان میں سے جو تھال میں پڑی خوراک پر بیٹھنے میں کامیاب ہوتیں ، ان کا وقت اچھا گزر جاتا ، باقی تھک ہار کر تلاش معاش میں کسی اور طرف نکل جاتیں۔ اس دوران گردو غبار کے کچھ بادل بھی جلیبیوں کے تھال کا طواف کرتے دکھائی دیئے اور تب مجھے صحیح طور پر پتہ چلا کہ یہ جلیبیاں اتنی لذیذ کیوں ہوتی ہیں؟ جن جلیبیوں میں چینی اور گھی کیساتھ ساتھ گردو غبار ، موبل آئل اور زندہ اور مری ہوئی مکھیوں کی کاوش بھی شامل ہو ان کا لذیذ ہونا یقینی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ متذکرہ آمیزش مضر صحت ہے لیکن میرا مشاہدہ اور تجربہ یہ بتاتا ہے بلکہ یہ میرا ایمان ہے کہ جب تک کھانے میں مضر صحت اشیاء شامل نہ کی جائیں ان میں وہ نکھار آہی نہیں سکتا جس کیلئے ہم گھر کی بجائے بازار کا رخ کرتے ہیں۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ شہر میں جگہ جگہ لذیذ اور مضر صحت کھانوں کے مراکز قائم ہیں جہاں گاہکوں کو ایک لمبی قطار میں کھڑا ہونا پڑتا ہے اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے ان ریستورانوں کے مالک کروڑوں میں کھیلنے لگتے ہیں۔میں اس نوع کے کھانوں کا بہت شوقین ہوں کیونکہ یہ اصول ہے کہ کھانا مزیدار ہونا چاہئے خواہ اس کے اجزائے ترکیبی کچھ بھی ہوں چنانچہ میں تلاش میں رہتا ہوں کہ لذیذ اور مضر صحت کھانا کہاں سے دستیاب ہے ؟ مجھے ایک دکان کی دال بے حد پسند ہے اور اس دال کی لذت کا راز یہی ہے کہ وہ دکان عین ایک گندے نالے کے اوپر واقع ہے، آپ خود ہی سوچیں کون کونسے جراثیم ہیں جو اس دال کو مزیدار بنانے میں اپنا رضا کارانہ کردار ادا نہیں کرتے ہونگے ؟ اسی طرح میں توے کی روٹی کی بجائے قلچہ کھانے کو ترجیح دیتا ہوں اور قلچے کیلئے بھی اس دکان کا رخ کرتا ہوں جو بے پناہ رش لیتی ہے جسکی وجہ سے وہاں منوں کے حساب سے میدہ گوندھا جاتا ہو کیونکہ اس صورت میں وہاں میدہ ہاتھوں کی بجائے پاؤں سے گوندھا جاتا ہے اور یہ منظر میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، تب سے اندازہ ہوا کہ لوگوں میں اس تندور کے قلچے اتنے زیادہ مقبول کیوں ہیں؟ ایک وقت تھا کہ مجھے ریوڑیاں بالکل پسند نہیں تھیں، ایک دن ایک دوست کے اصرار پر چکھیں تو بس مزا ہی آ گیا ۔ اس لذت کا سراغ مجھے گزشتہ جولائی کے مہینے میں ملا۔ گرمی کی شدت سے میں پسینوں پسین ہو رہا تھا ، اس دوران میری نظر ایک دکان پر پڑی جہاں ریوڑیاں اپنی تیاری کے ابتدائی مراحل میں تھیں۔ میں نے دیکھا کہ ایک ’چھوٹا ‘جس نے قمیض اتاری ہوئی تھی اور جس کا جسم پسینے میں نہایا ہوا تھا۔ ریوڑیوں کا ’مسالا‘ دیوار پر ایک کنڈے سے ٹانگے اس سے گتھم گتھا ہو رہا تھا۔ ریوڑیوں کے مسالے کو بھٹی میں ڈالنے سے پہلےمالش بہت کرنا پڑتی ہے چنانچہ اس ایکسر سائز کی وجہ سے چھوٹے کا جسم پسینے سے شرابور ہو رہا تھا، وہ بار بار اپنے میلے جسم پر سے پسینہ پونچھتا اور پھر انہی ہاتھوں سے مالش میں مصروف ہو جاتا ۔ اب آپ ہی بتائیں جب ریوڑی کے اجزائے ترکیبی میں مزدور کا پسینہ اور اسکے جراثیم بھی شامل ہوں تو یہ ’سویٹ ڈش‘ لذیذ کیوں نہیں ہوگی ؟
اس ضمن میں ایک مثال اور بھی ہے۔ مجھے ڈاکٹر نے دہی کھانے سے منع کیا ہوا تھا چنانچہ میں اسکے پاس بھی نہیں پھٹکتا تھا۔ ایک روز اچانک ایک حلوائی کی دکان سے میرا گزر ہوا تو میں نے دیکھا کہ اس نے دودھ کے الف ننگے کونڈے، دہی جمانے کیلئے اپنی پشت کے پچھواڑ ے میں رکھے ہوئے تھے اور ان پر چوہے چھلانگیں لگا رہےتھے۔ یہ منظر دیکھ کر میں نے ڈاکٹر کی ہدایات کو ردی کی ٹوکری میں ڈالتے ہوئے وہیں کھڑے کھڑے آدھ کلو دہی کھایا، سبحان اللّٰہ کیا لذیذ چیز ہے دہی ، جس سے ڈاکٹر نے مجھے ایک عرصے تک محروم رکھا۔ میرے دوستوں میں میری گوشت خوری مشہور ہے۔ ایک بار ایک دوست نے پوچھا کہ تم گوشت کھاتے ہوئے بہت مزے لیتے ہو، کیا وجہ ہے؟ میں نے اسے بتایا کہ جب میں گوشت خریدنے جاتا ہوں وہاں دیکھتا ہوں کہ کنڈے کے ساتھ لٹکے ہوئے گوشت پر مکھیاں بھنبھنا رہی ہوتی ہیں، اس کے بعد قصائی جب میری پسند کا گوشت بنانے لگتا ہے تو اس کا اہتمام بھی مجھے بہت اچھا لگتا ہے ، وہ اپنے میلے کچیلے پاؤں کی انگلیوں میں چھری پھنساتا ہے اور پھر گوشت کاٹنے لگتا ہے۔ اس کے علاوہ میں نے بوچر خانے میں نیم مردہ جانوروں کو بھی دیکھا تھا نیز یہ گوشت جس طرح کھلی گاڑی میں دکان تک لایا جاتا ہے، راستے میں کتنے ہی حشرات الارض اس دستر خوان کی خوشہ چینی کرتے نظر آتے ہیں، چنانچہ یہ مضر صحت گوشت کیسے لذیذ نہیں ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ گوشت خوری کے وقت میں ایک نشے کی سی کیفیت میں مبتلا ہوتا ہوں ۔میرے خیال میں مضر صحت اشیاء کے لذیذ ہونے کے دعوے کی اتنی ہی دلیلیں کافی ہیں تاہم اگر کسی دوست کو اس کے باوجود کوئی شک ہو اور وہ سمجھتا ہو کہ مضر صحت اشیاء اور لذت ہم معنی نہیں ہیں تو وہ میری درخواست پر فارسی کے اس مصرعے پر ضرور غور کرے جس کا مطلب ہے کہ بیچاری بیوی رکشے پر سفر کرتی ہے اور صاحب نے داشتہ کے لئے کار رکھی ہوئی ہے اس کے بعد مجھے یقین ہے اسے پوری بات اچھی طرح سمجھ آ جائے گی۔