• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کبھی کبھی تاریخ اپنے آپ کو چہروں میں دہراتی ہے۔کچھ چہرے صرف چہرے نہیں ہوتے، وہ ایک عہد کی یاد ہوتے ہیں، ایک خواب کی بازگشت ہوتے ہیں، ایک قوم کی امید کا تسلسل ہوتے ہیں۔ آصفہ بھٹو زرداری کو جب پہلی بار قومی منظرنامے پر سنجیدگی سے دیکھا گیا تو بہت سے لوگوں کے ذہن میں ایک ہی نام ابھرا ’شہید محترمہ بے نظیر بھٹو‘۔وہی شائستگی، مسکراہٹ میں وقار، آنکھوں میں اعتماد،چلنے میں ایک خاموش خود اعتمادی اور سب سے بڑھ کر وہی عوام سے جڑنے کا انداز۔یہ مشابہت صرف چہرے کی نہیں، مزاج کی بھی محسوس ہوتی ہے۔محترمہ بے نظیر بھٹو جب عوام کے درمیان جاتی تھیں تو ان کے لباس سے زیادہ ان کی شخصیت بولتی تھی۔ ان کے لفظوں سے زیادہ ان کی آنکھیں لوگوں کو یقین دلاتی تھیں کہ وہ ان کی اپنی ہیں۔ آصفہ بھٹو زرداری میں بھی یہی کیفیت دکھائی دیتی ہے۔ ان کی گفتگو میں مصنوعی سیاست نہیں بلکہ ایک تربیت یافتہ تہذیب جھلکتی ہے۔ غریبوں سے ملتے ہوئے ان کے چہرے پر جو نرمی آتی ہے، وہ کسی سیاسی مشق کا نتیجہ نہیں لگتی بلکہ ایک خاندانی وراثت محسوس ہوتی ہے۔قومی اسمبلی میں ان کی موجودگی نے بھی بہت سے لوگوں کو چونکایا۔ ایک نوجوان خاتون، ایک بڑے سیاسی خاندان کی نمائندہ مگر محض ایک نام نہیں بلکہ ایک ممکنہ سیاسی کردار۔ ان کی تقاریر میں اعتماد ہے، لہجے میں تحمل ہے، اور انداز میں وہ شائستگی ہے جو آج کی سیاست میں کم ہوتی جا رہی ہے۔وہ صرف آصف علی زرداری کی صاحبزادی نہیں، وہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی بیٹی بھی ہیں، اور یہی نسبت ان پر ایک بڑی ذمہ داری بھی عائد کرتی ہے۔لیکن سیاست صرف تقریروں سے نہیں چلتی، تاریخ خدمت سے لکھی جاتی ہے۔یہیں سے سوال پیدا ہوتا ہے۔اگر آصفہ بھٹو زرداری کو واقعی قومی سطح پر ایک مضبوط اور فیصلہ کن سیاسی کردار دینا ہے، تو اس کا آغاز کہاں سے ہونا چاہیے؟جواب بہت واضح ہے سندھ، اور خاص طور پر کراچی۔کراچی، جو سندھ کا دارالحکومت ہے۔ کراچی، جو پاکستان کی معیشت کی شہ رگ ہے۔ کراچی، جو ستر فیصد سے زائد قومی ریونیو دینے والا شہر ہے۔ کراچی، جو اگر آباد ہو تو پورا پاکستان سانس لیتا ہے، اور اگر بیمار ہو تو پورا ملک بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔مگر آج یہی کراچی تھکا ہوا لگتا ہے۔یہ شہر جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا، اب جگہ جگہ زخموں کی تصویر بنا ہوا ہے۔ ٹوٹی ہوئی سڑکیں، پانی کے بحران سے پریشان بستیاں، گندگی سے بھری گلیاں، لیاری کی خاموش دیواریں، گلشن اقبال کے اجڑے ہوئے راستے، یونیورسٹی روڈ کی طویل اذیت، اور وہ علاقے بھی جہاں ہزار گز کے مکانات ہیں مگر سڑکیں یوں لگتی ہیں جیسے کسی بھولے ہوئے قصبے کی گلیاں ہوں۔کل وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی گفتگو سن کر دل میں ایک عجیب سی اداسی پیدا ہوئی۔ انہوں نے خود اعتراف کیا کہ لوگ ان سے پوچھتے ہیں کہ اب تو آبنائے ہرمز بھی کھل گئی ہے، یونیورسٹی روڈ کب کھلے گایہ سوال صرف ایک سڑک کا نہیں، یہ سوال سترہ سالہ حکمرانی کا ہے۔پیپلز پارٹی ایک تاریخی جماعت ہے۔ اس نے قربانیاں دی ہیں، نظریات دیے ہیں، عوامی سیاست کو زبان دی ہے۔ مگر کراچی صرف ماضی کے نعروں سے نہیں چلے گا، اسے حال کی کارکردگی چاہیے۔اگر آج پیپلز پارٹی آصفہ بھٹو زرداری کو سندھ کی سیاست میں مرکزی کردار دے، انہیں قیادت کا حقیقی موقع دے، تو شاید ایک نئی کہانی لکھی جا سکتی ہے۔سوچیے…اگر آصفہ بھٹو کراچی کی سڑکوں کی تقدیر بدل دیں۔اگر وہ پانی کے بحران کو ختم کر دیں۔اگر نوڈیرو صرف ایک تاریخی حوالہ نہیں بلکہ جدید سندھ کی علامت بن جائے۔اگر کراچی پھر سے روشنیوں کا شہر بن جائے۔تو کیا ہوگا؟پھر آصفہ بھٹو صرف ایک سیاسی وارث نہیں رہیں گی، وہ ایک قومی لیڈر بن جائیں گی۔پھر ان کا تعارف صرف بے نظیر کی بیٹی کے طور پر نہیں ہوگا بلکہ ایک ایسی رہنما کے طور پر ہوگا جس نے سندھ کو بدل کر دکھایا۔

آج لوگ مریم نواز شریف کو اسی زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔ وہ صرف نواز شریف کی صاحبزادی نہیں بلکہ پنجاب میں تیزی سے تبدیلی لانے والی ایک متحرک منتظم کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ اسی لیے انہیں وفاقی سیاست میں ایک بڑے کردار کے لیے موزوں سمجھا جا رہا ہے۔سیاست میں وراثت دروازہ کھول سکتی ہے، مگر مقام صرف کارکردگی دیتی ہے۔آصفہ بھٹو زرداری کے پاس وراثت بھی ہے، شخصیت بھی، قبولیت بھی اور عوامی کشش بھی۔ اب ضرورت صرف ایک میدان کی ہےاور وہ میدان سندھ ہے۔پیپلز پارٹی کے بااختیار حلقوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری کا سیاسی مستقبل محض جلسوں، نعروں اور پارلیمانی تقاریر سے محفوظ نہیں ہوگا۔ اس کی اصل ضمانت کراچی کی ترقی ہے۔آصفہ بھٹو زرداری کے لیے شاید وقت یہی ہے۔وہ وقت جب ایک بیٹی اپنی ماں کی یاد کو صرف تصویر میں نہیں بلکہ خدمت میں زندہ کرے۔وہ وقت جب سندھ ایک نئی قیادت کو دیکھے۔اور وہ وقت جب کراچی ایک بار پھر امید کا شہر بن جائے۔

تازہ ترین