آج ا رادہ ہے کہ ایک حقیقی بڑے آدمی کا ذکر کیا جائے۔ ہمارے ممدوح اتنے بڑے ہیں کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانی شیخ الجامعہ ہوئے، برلن یونیورسٹی سے معاشیات میں امتیازی حیثیت سے ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے۔ ہندوستان میں ایوان بالا کے رکن منتخب ہوئے۔ صوبہ بِہار کے گورنر کے منصب پر فائز رہے۔ آزاد ہندوستان میں نائب صدر اور پھر تیسرے سربراہ مملکت منتخب ہوئے۔ ان اعلیٰ مناصب کے باوجود ان کی ذات کا بنیادی حوالہ علم و فضل اور ماہر تعلیم ہونا ہے۔
یہاں مراد ڈاکٹر ذاکر حسین سے ہے لیکن ڈاکٹر صاحب پر بات سے پہلے کچھ ذکر ہماری صحافت کے حالیہ لب و لہجے کا ہو جائے۔ صاحبو! شکوہ یہ ہے کہ ہماری صحافتی زبان میں غیر محسوس تبدیلیاں چلی آئی ہیں۔ مثلاً لکھا جاتا ہے کہ فلاں جماعت سے مینڈیٹ چھین لیا گیا۔ فلاں رہنما کے خلاف مقدمات بنائے گئے۔ خارجہ پالیسی میں اس طرح کی تبدیلیاں کی گئیں۔ کوئی اللّٰہ کا بندہ یہ سب کرنے والوں کا نام نہیں لیتا۔ کیا ہماری صرف و نحو سے فاعل ختم ہو گیا ہے یا مذکورہ معاملات میں فاعل کی نشاندہی میں چند در چند اندیشے ہیں۔ عرض کیے دیتا ہوں کہ صحافتی بیان کا یہ رنگ کسی جمہوری ملک اور آزاد صحافت کا اشارہ نہیں دیتا۔ یہ رنگ بیاں تو وہاں اپنایا جاتا ہے جہاں کسی عزت مآب کا نام لینے سے عزت بھی غیر محفوظ ہوتی ہو اور جان کے لالے بھی پڑتے ہوں۔ ایک دوسرا طرز بیان یہ رائج ہوا ہے کہ خبر کی سرخی میں خبر کی بجائے دھچکا دینے کا تاثر داخل ہو گیا ہے۔
مثال کے طور پہ ہماری نسل کو کچھ اس طرح سے چھپی ہوئی خبر پڑھنے کی عادت تھی۔ ’جنوبی پنجاب کے آفت زدہ علاقوں کو مالی امداد دی جائے گی، وزیراعلیٰ کا اعلان‘۔ اب لکھا جاتا ہے ’وزیراعلیٰ پنجاب نے جنوبی پنجاب کے آفت زدہ علاقوں کو مدد پہنچانے کا اعلان کر دیا‘۔ صاحب آپ خبر دے رہے ہیں یا پڑھنے والے کی گدی میں گھونسا مار رہے ہیں۔ گویا خبر دینے سے زیادہ چونکانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ کسی از کار رفتہ اداکار کے بارے میں خبر دی جاتی ہے ’فلمی صنعت غیر پیشہ ورانہ لوگوں کے ہاتھوں برباد ہوئی، سابق اداکارہ نے انکشاف کر دیا‘۔ پہلی مثال میں فاعل غائب تھا تو دوسرے نمونے میں خبریت کا نشان نہیں ملتا۔ یہ صحافت نہیں، پڑھنے والوں کی ذہانت کی توہین ہے۔ خبر اور رائے میں فرق تو خیر مدت ہوئی، نصیب دشمناں ہو چکا۔ اردو صحافت اب تحقیق کی کاہش سے بیان کی سہولت پر اتر آئی ہے۔ بیان کو خبر قرار دینا بذات خود سیاسی مکالمے میں زوال کا نشان ہے۔ اب یہی دیکھئے کہ ہراسانی فعل شنیع سہی مگر یہ کہ لغت کے اعتبار سے درست لفظ تھا۔ پوچھنا چاہیے کہ ہراسانی کی بجائے ’ہراسگی‘ کا لفظ کس عالی دماغ کی دریافت ہے اور یہ کس زبان سے تعلق رکھتا ہے۔ عوام کا لفظ ستر کی دہائی میں ہمارے سیاسی مکالمے میں داخل ہوا۔ یہ اسم جمع ہے اور صیغہ تذکیر سے تعلق رکھتا ہے۔ اب اچھے خاصے تعلیم یافتہ لوگ ’عوام کہتی ہے یا عوام چاہتی ہے‘ کا طرز بیان استعمال کرتے ہیں تو گمان ہوتا ہے کہ ان اصحاب نے بایں وضع جدیدبھارتی فلموں کے سوا نہ کبھی کوئی ڈھنگ کی فلم دیکھی اور نہ کتاب پڑھنے کا تکلف کیا ۔ ہندی مکالموں سے جنتا کا لفظ اٹھا لیا ہے۔ اب اگر کسی کو جناب خورشید ندیم یا محترم شاہد بخاری کی زبان سے ثقالت کی شکایت ہوتی ہے تو اس میں حیرانی کیسی۔ اب ذاکر صاحب کی طرف واپس چلتے ہیں۔
فروری 1897ء میں حیدر آباد میں پیدا ہونے والے ذاکر حسین کے والد کا 1907 ءمیں انتقال ہوا تو یہ گھرانہ قائم گنج منتقل ہو گیا۔ ذاکر صاحب نے اسلامیہ ہائی اسکول اٹاوہ میں ابتدائی تعلیم پائی۔ کم عمری ہی میں غیر معمولی ذہانت کے آثار نمایاں تھے۔ علی گڑھ کالج پہنچے تو ان کی براقی طبع، بذلہ سنجی نیز اردو اور انگریزی خطابت کے چرچے پہلے سے وہاں موجود تھے۔ اس کم عمری میں ذاکر صاحب کی ذہانت کے کچھ رنگ دیکھنا ہوں تو رشید احمد صدیقی کی تصنیف ’ہمارے ذاکر صاحب‘ دیکھئے۔ رشید احمد صدیقی اور مولانا اقبال سہیل ، ذاکر حسین کے قریبی دوست تھے۔ ذاکرصاحب نے فلسفہ، انگریزی ادبیات اور معاشیات میں بی اے کیا۔ علی گڑھ طلبا یونین کے نائب صدر منتخب ہوئے۔ دوران تعلیم ہی انہیں مادر علمی میں لیکچررشپ سونپی گئی۔ قانون اور معاشیات میں ایم اے کی تعلیم پا رہے تھے کہ مولانا شوکت علی تحریک ترک موالات کے ضمن میں علی گڑھ تشریف لائے۔
ذہانت اور پامال راستوں سے گریزپائی میں چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے۔ ذاکر حسین اس تحریک کے مخالف تھے لیکن علی برادران کی تقریر سن کر یونیورسٹی چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔ رشید احمد صدیقی نے وجہ جاننا چاہی تو بہت سادہ جواب دیا کہ میرے دلائل اپنی جگہ لیکن میرا ضمیر نہیں مانتا کہ جب میدان عمل میں نکلنے کا وقت ہو تو میں کنج عافیت میں پناہ لوں۔ علی گڑھ یونیورسٹی سے نکل کر ذاکر صاحب نے بغیر کسی مالی منفعت یا وسائل کی ضمانت کے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد رکھی۔ 1928ءسے 1948ءتک اس ادارے کے سربراہ رہے۔
جب ان کے ہم سر بارہ سو روپے ماہانہ کا مشاہرہ پا رہے تھے تو ذاکر صاحب ڈیڑھ سو روپلی ماہانہ پر مطمئن تھے۔ اس درویشی میں ذاکر صاحب اپنی ذہانت، علم اور کردار کی بنیاد پر گاندھی جی، پنڈت نہرو، حکیم انصاری، حکیم اجمل خان، شیخ الہند محمود حسن، لیاقت علی خان اور قائد اعظم محمد علی جناح سے برابری کی سطح پر رسم و راہ رکھتے تھے۔ یہ ذاکر صاحب کا کمال تھا کہ نومبر 1946 میں جامعہ ملیہ کی سلور جوبلی کے موقع پر قائداعظم محمد علی جناح ، پنڈت جواہر لال نہرو، لیاقت علی خان اور مولانا ا بوالکلام آزاد ایک ہی اسٹیج پر تشریف فرما تھے۔ تقسیم کے ہنگام ڈاکٹر ذاکر حسین کو جالندھر ریلوے اسٹیشن پر ایک عجیب معاملہ پیش آیا جو انہوں نے مولانا عبدالماجد دریا بادی کے نام ایک خط میں خود بیان کیا۔ خیال تھا کہ اختصار سے ان ہی کے لفظوں میں مقتبس کر دوں کہ اس سے ان کی روشن ضمیری اور استقامت ایمانی کا کچھ حال معلوم ہو سکتا ہے۔ مگر وسعت بیان کی تنگنائے حائل ہے۔ کاغذ نبڑ گیا۔ ڈاکٹر ذاکر حسین کا مکتوب آئندہ نشست پر اٹھا رکھتے ہیں۔