کراچی کے علاقے صدر زیب النساء اسٹریٹ میں واقع صرافہ مارکیٹ میں نقب زنی، ملزمان ایک دکان سے تجوری سمیت بھاری مالیت کا سونا اور زیورات لے اڑے۔
واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آگئی، نقب زنی کا مقدمہ متاثرہ سنار کی مدعیت میں درج کرلیا گیا، مارکیٹ کے چوکیدار کو شک کی بناء پر حراست میں لیا گیا ہے۔
سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کا کہنا ہے کہ ملزمان نے تجوری بائیک پر رکھنے کے لیے چوکیدار کی مدد لی، چوروں نے چوکیدار کو کہا تجوری بائیک پر رکھوادو بدلے میں رقم کی آفر کی، چوکیدار نے ملزمان کی مدد کی اور وہ فرار ہوگئے۔
ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ مختلف پہلوؤں سے واردات کی تحقیقات کر رہے ہیں، متاثرہ صراف نے ابتدا میں چوری شدہ زیورات کا تخمینہ 8 سے 9 کروڑ بتایا تھا، بعد میں متاثرہ صراف نے مالیت 14 سے 15 کروڑ بتائی۔
متاثرہ دکاندار کا موقف ہے کہ 29 اپریل کی صبح فون پر واقعے کی اطلاع ملی، بھائی کے ہمراہ دکان پر پہنچا تو پولیس اور کرائم سین یونٹ پہلے سے موجود تھے۔
پولیس کے ہمراہ دکان میں داخل ہوا تو تجوری موجود نہیں تھی۔ اطراف کی سی سی ٹی وی کو دیکھا تو علم ہوا کہ موٹر سائیکل سوار ملزمان دکان کے تالے کاٹ کر اندر داخل ہوئے اور تقریباً آدھے گھنٹے سے زائد تک دکان میں موجود رہے۔
متاثرہ سنار کا بتانا ہے کہ تجوری میں متعدد طلائی زیورات ، طلائی بسکٹ اور پاکستانی 20 لاکھ اور دیگر چاندی کے سیٹ بھی موجود تھے۔
مدعی نے الزام عائد کیا ہے کہ چوکیدار عبدالرحمان پر واردات کا شبہ ہے کہ اس نے ساتھیوں کے ہمراہ واردات انجام دی ہے۔
منظر عام پر آنے والی سی سی ٹی وی میں چوکیدار کو تجوری موٹر سائیکل سوار ملزمان کو پکڑاتے دیکھا گیا ہے، چوکیدار نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ ملزمان نے اسلحہ کے زور پر مجھے لالچ دی تھی۔