افغانستان میں نجیب اللہ کی حکومت ختم ہونے کے بعدطالبان کے دور کا آغاز ہوا۔دراصل انارکی کے اس دور میں جہادی کمانڈر اپنے علاقوں میں شہنشاہ بنے ہوئے تھے اور ان کے منہ سے نکلے ہر لفظ کو قانون کا درجہ حاصل تھا۔حالات کی کوکھ سے ایک نئی تحریک نے جنم لیا۔روس کے خلاف لڑنے والے جہادی جو اب پاکستان کے مدارس میں تعلیم حاصل کر رہے تھے،انہوں نے صورتحال کو سدھارنے کی ٹھان لی۔چونکہ یہ مدارس کے طالبعلم تھے اس لیے انہیں ”طالبان“کہا جانے لگا،انہوں نے 39سالہ ملا عمر کو اپنا رہبر چن لیا۔قندھار کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے ملا عمر جوروسیوں کے خلاف لڑتے ہوئے چار بار زخمی ہوئے اور ایک آنکھ بھی بے نور ہوگئی،ان کا حسب نسب اور شجرہ نسب متاثر کن نہ تھا،نہایت معمولی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔حالات کے ستائے لوگوں نے طالبان کو نجات دہندہ سمجھا اور عام شہریوں کی تائید و حمایت سے یہ تحریک زور پکڑنے لگی۔1994ء کے موسم سرما میں طالبان نے قندھار پر قبضہ کرکے خطرے کی گھنٹی بجادی اور پھر نہایت برق رفتاری سے شمال اور مغرب کی جانب بڑھنے لگے۔1995ء میں طالبان نے ہرات کو فتح کرلیا۔طالبان آندھی اور طوفان کی طرح آگے بڑھ رہے تھے،کسی میں انکے خلاف مزاحمت کی ہمت نہیں تھی،جہادی کمانڈر یا تو فرار ہو رہے تھے یا پھر لڑے بغیر ہتھیار پھینک رہے تھے۔آخر کار طالبان 27ستمبر1996ء کو دارالحکومت کابل میں داخل ہوگئے اور امارات اسلامی افغانستان کے قیام کا اعلان کردیا۔ افغان صدر برہان الدین ربانی فرار ہوگئے،سابق افغان صدر ڈاکٹر نجیب اللہ جو گزشتہ ساڑھے چار سال سے اقوام متحدہ کے دفتر میں محصور تھے،انہیں احمد شاہ مسعود نے اپنے ساتھ وادی پنجشیر چلنے کی پیشکش کی مگر نجیب اللہ نے ایک تاجک کی پناہ میں جانا گوارہ نہ کیا۔ڈاکٹر نجیب اللہ اقوام متحدہ کے وفتر میں محصور تھے تو تب بھی فارغ نہ بیٹھے اور پیٹر پاپ کرک کی کتاب The Great Gameکا پشتو میں ترجمہ کیا تاکہ انکی قوم عالمی سازشوں کو سمجھ سکے۔طالبان سے متعلق نجیب اللہ کو کسی قسم کا خوف نہ تھا،اسکا خیال تھا کہ میں پشتون ہوں،طالبان پشتون ہیں،وہ مجھے کیوں ماریں گے؟ مگر طالبان انکے خون کے پیاسے اتھے۔امیر المومنین نے کابل فتح کرنے کے بعد سب سے پہلا حکم یہی جاری کیا کہ ڈاکٹر نجیب اللہ کو ڈھونڈ کر نشان عبرت بنا دیا جائے۔ملا عبدالرزاق نے طالبان کے ایک دستے کو یہ مشن سونپ دیا۔ طالبان کے مسلح جنگجوؤں پر مشتمل 15ٹرک اقوام متحدہ کے دفتر آکر رُکے،27ستمبر 1996ء کا دن تھا،ڈاکٹر نجیب اللہ اپنے کمرے میں قاتلوں کے قدموں کی آہٹ محسوس کر سکتے تھے۔اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر تعینات سنتری پہلے ہی غائب ہو چکے تھے اور اب قاتلوں کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہ تھی۔طالبان نے اندر داخل ہوکر ایک ملازم سے پوچھا،نجیب اللہ کہاں ہے؟اس نے پس وپیش سے کام لیا مگر وہ جلدہی طالبان ڈاکٹر نجیب اللہ کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگئے۔وہ اپنے بھائی شاہ پور یوسف زئی،محافظ جعفراور سیکریٹری توخی کیساتھ موجود تھے۔نجیب اللہ اور ان کے ساتھیوں کو گھسیٹ کرکمرے سے باہر لایا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا،یہ سب خلاف قانون ہے۔طالبان نے ہنستے ہوئے جواب دیا،تم نے کونسا کام قانون کے مطابق کیا ہے۔ ڈاکٹر نجیب اللہ کو گھسیٹ کر گاڑی میں ڈال دیا گیا۔بری طرح مارا پیٹا گیا،حساس اعضا کاٹ دیئے گئے اور پھانسی دینے کیلئے کابل کے مرکز آریانہ چوک لایا گیا۔ڈاکٹر نجیب اللہ کو گاڑی سے اُترنے کا حکم دیا گیا مگر اس نے زخمی حالت میں بھی طالبان کی اطاعت کرنے سے انکار کردیا گیا۔چنانچہ وہیں گاڑی میں بیٹھے ہی سر میں گولی مار کر نجیب اللہ کا کام تمام کردیا گیا۔طالبان ڈاکٹر نجیب اللہ کو زندہ حالت میں پھانسی تو نہ دے سکے مگر اب مرنے کے بعد لٹکانے کامنصوبہ بنایا گیا۔رسی نہ مل پائی تو گاڑی سے پیٹرول والا پلاسٹک کا پائپ نکال کر پھندہ دینےکیلئے استعمال کیا گیا اور سابق افغان صدر کو کرین سے لٹکا دیا گیا۔پھرلاش کو کرین سے اُتار کر صدارتی محل کے قریب ٹریفک سگنل کے کھمبے پر لٹکا دیا گیا۔مشہور صحافی ڈینس جانسن نے اپریل 1997ء میں ایسکوائر میگزین میں ایک مضمون لکھاجس کا عنوان تھا،نجیب اللہ کے آخری دن۔اس میں بتایا گیا کہ نجیب اللہ کے مردہ جسم کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔انکے منہ اور ناک میں زبردستی سگریٹ ٹھونس دیئے گئے تھے۔جبکہ جیب میں کٹے پھٹے کرنسی نوٹ بھی دکھائی دے رہے تھے۔ڈاکٹر نجیب اللہ کی لاش کے پیچھے کنکریٹ کی دیوار پر ایک نیا بل بورڈ آویزاں تھا جس پر کسی مجاہد نے اپنی کلاشنکوف تھام رکھی ہے اور عربی زبان میں لکھا ہے، اللّٰہ ایک ہے اور محمدﷺ اس کے رسول ہیں۔ڈاکٹر نجیب اللہ جسے تاجک صدر برہان الدین ربانی اور تاجک وزیر دفاع احمد شاہ مسعود قتل کرنے کی جرات نہ کرسکے،اسے اسلام اور شریعت کا دم بھرنے والے پشتون طالبان نے بغیر کسی ٹرائل کے نہایت بے رحمانہ انداز میں قتل کر ڈالا ۔امیر المومنین ملا عمر کو مبارکباد دی گئی اور بتایا گیا کہ ڈاکٹر نجیب اللہ کی لاش کو نشان عبرت کے طور پر صدارتی محل کے قریب لٹکا دیا گیا ہے۔
طالبان نے اس قدر سفاکیت کا مظاہرہ کیا کہ ڈاکٹر نجیب اللہ کا نماز جنازہ پڑھنے اور سپرد خاک کرنے کی اجازت بھی نہ دی گئی،ریڈ کراس نے لاش وصول کرکے اسے پکتیا کے شہر گردیز منتقل کیا جہاں احمد زئی قبیلے کے لوگوں نے اسے دفن کیا۔طالبان کی ڈاکٹر نجیب اللہ سے کوئی دشمنی نہ تھی،انہیں محض اپنی دہشت کی دھاک بٹھانےکیلئے مار دیا گیا،ایک اور وجہ یہ تھی کہ نجیب اللہ افغانستان کے مقبول ترین رہنما تھے،اگر انہیں چھوڑ دیا جاتا تو وہ طالبان کے اقتدار کیلئےخطرہ بن سکتے تھے۔