اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے لبنان میں حزب اللّٰہ کے خلاف حملے مزید تیز کرنے کا حکم دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوج حزب اللّٰہ کو ’کچلنے‘ کے لیے کارروائیاں تیز کرے گی۔
عرب میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل اپنی کارروائیوں میں کوئی نرمی نہیں کرے گا بلکہ مزید شدت لائے گا۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ماہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا جس میں حال ہی میں توسیع بھی کی گئی تھی۔
اس بیان کے فوراً بعد اسرائیلی فوج نے بقاع وادی اور لبنان کے مختلف علاقوں میں حزب اللّٰہ کے ٹھکانوں پر حملوں کا اعلان کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے جنوبی لبنان کے جنگلات اور زرعی علاقوں میں فاسفورس بم بھی گرائے ہیں جس سے کھیتوں اور باغات میں آگ لگ گئی، فاسفورس ہتھیاروں کا آبادی والے علاقوں میں استعمال عالمی سطح پر شدید تنقید کا باعث بنتا ہے۔
لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق 2 مارچ سے جاری جھڑپوں میں اب تک 3,185 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ادھر اسرائیلی حکومت کے سخت گیر وزراء نے بھی بیروت پر مزید شدید بمباری کا مطالبہ کیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’ہر ڈرون حملے کے بدلے بیروت میں 10 عمارتیں گرنی چاہئیں۔‘
اسرائیلی وزیرِ قومی سلامتی اتمار بن گویر نے بھی لبنان میں دوبارہ سے ’شدید جنگ‘ شروع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان کی بجلی بند کر کے بیروت کے جنوبی علاقوں پر قبضہ کیا جائے۔