امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے بدلے مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے جس کے بعد ٹرمپ کے خلاف اسرائیل نواز حلقوں کی تنقید میں نرمی دیکھی گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ سعودی عرب، قطر، پاکستان اور دیگر ممالک کو ’ابراہم معاہدوں‘ میں شامل ہونا چاہیے، یہ اقدام خطے میں استحکام اور معاشی ترقی کا باعث بنے گا۔
امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم جو پہلے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر سخت تنقید کر رہے تھے، اب انہوں نے ٹرمپ کی اس تجویز کو ’انتہائی شاندار‘ قرار دیا ہے۔
اسرائیل نواز تجزیہ نگار مارک لیون نے بھی ٹرمپ کے اس مطالبے کی تعریف کی ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خلیجی ممالک کی جانب سے ٹرمپ کے اس مطالبے پر فوری مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، سعودی عرب پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل سے مکمل تعلقات ممکن نہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ میں شامل کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق خلیجی ممالک اس وقت اسرائیل کے زیرِ قیادت علاقائی نظام کا حصہ بننے میں دلچسپی نہیں رکھتے، خاص طور پر غزہ جنگ اور ایران کشیدگی کے بعد۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے بعد جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔
ادھر کئی ریپبلکن رہنماؤں نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر تحفظات ظاہر کیے ہیں، سینیٹر ٹیڈ کروز اور راجر وکر نے خبردار کیا ہے کہ ایران کو مالی رعایت دینا ’سنگین غلطی‘ ہو سکتی ہے۔
سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی مجوزہ معاہدے کو سابق 2015ء جوہری معاہدے جیسا قرار دیتے ہوئے مخالفت کی ہے تاہم وائٹ ہاؤس نے ان کے بیان کو ’غلط معلومات‘ پر مبنی قرار دیا ہے۔